✕
پاکستان

پی ٹی آئی کا مذاکراتی تعطل ختم کرنے کے لیے عمران خان تک رسائی دینے کا مطالبہ

  • بانی پی ٹی آئی کے میڈیکل بورڈ اور دہشت گردی سے نمٹنے کی حکمت عملی کی تجاویز مسترد، حکومت سے مذاکرات رک گئے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے مطالبہ کیا کہ حکومت کے ساتھ سیاسی مذاکرات جاری رکھنے کے لیے پارٹی رہنماؤں اور ڈاکٹروں کو پی ٹی آئی کے بانی عمران خان تک رسائی دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان تعطل ختم کرنے کے لیے عمران خان کی شمولیت ضروری ہے۔

اسلام آباد میں خیبر پختونخوا ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان ہمارے لیے بہت اہم ہیں اور ہمیں ان سے رائے لینے کا مکمل حق ہے، تاہم ہمیں اس کی اجازت نہیں دی گئی۔

حکومت اور پی ٹی آئی کی قیادت میں اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارٹی کے لیے دو معاملات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، عمران خان کی صحت اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے نمٹنے کی حکمت عملی۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں ہونے والے جرگے میں طے پانے والے اتفاق رائے کو اہمیت دی جائے، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی تجویز بھی دی تھی، جس میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمٰی خان کو شامل کیا جائے، تاکہ ان کی صحت سے متعلق مشاورت کی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے صرف سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا تھا، تاہم یہ تجویز بالآخر رات 2 بج کر 40 منٹ پر مسترد کردی گئی۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر ان دو بنیادی معاملات، ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے متعلق حکمت عملی، پر اتفاق نہیں ہوتا تو دیگر سو معاملات پر اتفاق کی کوئی اہمیت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لیے دونوں معاملات انتہائی اہم ہیں، جن میں عمران خان کی صحت اور خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال سے نمٹنے کی حکمت عملی شامل ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے مزید بتایا کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم نے پی ٹی آئی وفد کو آگاہ کیا تھا کہ چار سے پانچ ہفتے قبل عمران خان کا بلڈ پریشر کافی بڑھ گیا تھا، جس کے بعد حکام نے لندن سے ایک ڈاکٹر کو بلایا، جو حکومتی ٹیم کے مطابق بڑی مشکل سے ان کا بلڈ پریشر قابو میں لائے۔