✕
اداریہ

پیپرا قواعد، حکومت نے نیا اور جامع فریم ورک متعارف کرا دیا

  • شکایات کے ایک مضبوط طریقہ کار کے تحت شکایات کو پروکیورنگ ایجنسی سے باہر کام کرنے والی کمیٹیوں کے ذریعے نمٹایا جائے گا جبکہ اپیلیں اپیلیٹ کمیٹی کے سامنے دائر کی جاسکیں گی۔
شائع اپ ڈیٹ

حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 کا نوٹیفکیشن فوری طور پر نافذ العمل قرار دیتے ہوئے جاری کردیا ہے اور ایک نئے سرے سے تشکیل دیے گئے فریم ورک کو متعارف کرایا ہے، جس کا محور ڈیجیٹل خریداری، تیسرے فریق کی نگرانی، شفافیت کے مزید سخت تقاضے اور متبادل طریقہ ہائے خریداری میں توسیع ہے۔

شکایات کے ایک مضبوط طریقہ کار کے تحت شکایات کو پروکیورنگ ایجنسی سے باہر کام کرنے والی کمیٹیوں کے ذریعے نمٹایا جائے گا جبکہ اپیلیں اپیلیٹ کمیٹی کے سامنے دائر کی جاسکیں گی۔ بلاشبہ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کم ترین بولی جمع کرانے کے باوجود جن افراد کو غیر منصفانہ طور پر نظرانداز کردیا گیا ہو، وہ اب اپنی شکایت کے ازالے کے لیے رجوع کرسکیں گے۔

شکوک و شبہات رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ نوٹیفکیشن بلاشبہ ان 174 قانون سازی ترامیم میں سے ایک ہے جن پر حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے جاری توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت اتفاق کیا ہے۔ چونکہ اس وقت آئی ایم ایف کے چوتھے جائزے کا عمل جاری ہے، اس لیے ممکن ہے کہ حکومت کو یہ نوٹیفکیشن جاری کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہو، کیونکہ آئی ایم ایف نے آئندہ قسط کے اجرا کے لیے اسے پیشگی شرط قرار دیا ہو، جو ادائیگیوں کے توازن کی معاونت کے لیے اشد ضروری ہے۔

پاکستان میں ماضی کی قانون سازی اور نوٹیفکیشنز پر عمل درآمد خاصا ناقص رہا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے لیے جاری کردہ گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ کو اپ لوڈ کرنے میں تاخیر ہوئی تھی، تاہم آئی ایم ایف کی جانب سے آئندہ قسط کے اجرا کے لیے اسے پیشگی شرط قرار دیے جانے کے بعد رپورٹ جاری کردی گئی۔ متعدد نکات میں سے دو ایسے نتائج جن کے تدارک کی ضرورت تھی، آج تک زیر التوا ہیں: (1) حقِ معلومات ایکٹ کے تحت معلومات کی درخواستیں، جن کے بارے میں رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ 2022 سے 2024 کے دوران متعدد درخواستوں اور اپیلوں پر عمل نہیں کیا گیا۔ ان میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی 21 درخواستیں زیرِ عمل اور 68 بند، وزارت داخلہ کی 26 درخواستیں زیرِ عمل اور 40 بند، قومی احتساب بیورو کی 16 درخواستیں زیرِ عمل اور 38 بند، وزارت اطلاعات کی 21 درخواستیں زیرِ عمل اور 38 بند، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی 23 درخواستیں زیرِ عمل اور 31 بند تھیں؛ اور (2) عدالتی تقرریوں اور مدتِ ملازمت کے لیے معیاری اصول وضع کرنے کی تجاویز، جن کے تحت ججوں، انتظامی ٹریبونلز اور خصوصی عدالتوں کے ارکان کی تقرری اور تمام عدالتی تقرریوں اور عدالتوں میں ان اصولوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جانا تھا۔

اسی وقت معاشی نظریے کو، جو سیاسی جماعت سے وابستگی کا ایک جزو ہے، الگ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اسے تکنیکی ترقی کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ بنایا جاسکے۔ اس تناظر میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ خان انتظامیہ نے تعمیرات کے شعبے کو اقتصادی ترقی کا محرک قرار دیتے ہوئے اس شعبے کے لیے خصوصی مالیاتی اور زرعی مراعات متعارف کرائیں، تاہم ان کے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اقتدار میں رہتے ہوئے سرکاری ملکیتی اداروں کو اپنے وفادار کارکنوں کی بھرتی کے مراکز کے طور پر استعمال کیا، جس کے نتیجے میں ان اداروں میں ضرورت سے زیادہ ملازمین بھرتی ہوئے اور وہ خسارے میں جانے والے اداروں میں تبدیل ہونے میں معاون ثابت ہوئے۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) نے سڑکوں کی تعمیر پر توجہ مرکوز رکھی، جس کے نتیجے میں پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) کے قواعد کی خلاف ورزیاں ہوئیں، جن کا انکشاف پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت اس شعبے کے لیے سب سے زیادہ رقوم جاری کیے جانے سے ہوا۔

حالیہ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نے اپنے ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ نظام میں توازن پیدا کیا ہے، جبکہ پاکستان نے سڑکوں کے نیٹ ورک پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔ بھارت کی برتری کارگو کی نقل و حمل کے دو سستے ترین ذرائع، یعنی ریل اور اندرونِ ملک آبی راستوں، کی توسیع کے ذریعے حاصل ہوئی ہے۔ بھارت نے اپنے کارگو فریٹ کوریڈور کا حصہ 31 فیصد تک بڑھا دیا ہے اور 2030 تک اسے 45 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ اندرونِ ملک آبی راستوں میں بھی توسیع کی جارہی ہے۔ پاکستان میں 96 فیصد کارگو سڑکوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، یعنی صرف چار فیصد ریل کے ذریعے، جبکہ مسافروں کی نقل و حمل کا 93 فیصد بھی سڑکوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ اس تناظر میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال کے ویژن 2025 میں ریل کے ذریعے مال برداری کا حصہ 20 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔

آخر میں پاکستان میں کیے جانے والے تجرباتی مطالعات کی بنیاد پر زیادہ باخبر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے، تاہم ایسے مطالعات وزارتوں کی الماریوں میں پڑے رہنے اور گرد کھانے کے بجائے عملی پالیسی سازی میں استعمال ہونے چاہئیں۔ اگرچہ ملک کو باہم منسلک کرنے کے لیے سڑکیں اہم ہیں، تاہم ہماری انتہائی محدود مالی گنجائش کے پیش نظر یہ منصوبہ بندی کرنا مناسب ہوگا کہ ملک میں شرح نمو کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے کس شعبے اور ذیلی شعبے کو دیگر شعبوں پر ترجیح دی جانی چاہیے۔ اس سے پیداوار میں اضافہ اور روزگار کے زیادہ مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026