فلائی دبئی کے معاون پائلٹ نے ’دہشت گرد حملے‘ کی کوشش میں کپتان پر کلہاڑی سے حملہ کیا،اماراتی حکام
- اماراتی تفتیش کاروں نے واقعے کو دہشت گرد حملے کی کوشش قرار دے دیا
متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل نے ہفتے کو بتایا ہے کہ اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کے معاون پائلٹ نے دورانِ پرواز کلہاڑی کے ذریعے ’’دہشت گرد حملے‘‘ کی کوشش کی۔
اس معاملے سے براہِ راست واقف ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ معاون پائلٹ کی شناخت عمانی شہری حمام الہُمّامی کے نام سے ہوئی ہے۔ تحقیقات سے آگاہ ایک دوسرے ذریعے نے بھی معاون پائلٹ کے نام کی تصدیق کی۔ تاہم اماراتی حکام نے فوری طور پر اس کی شناخت کی تصدیق کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
بدھ کو اس وقت ایک بڑے حادثے کا خطرہ ٹل گیا جب مسافروں اور عملے نے معاون پائلٹ کو قابو کرلیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق معاون پائلٹ نے کپتان پر حملہ کیا تھا اور بظاہر 170 سے زائد مسافروں اور عملے کو لے جانے والے طیارے کو گرانے کی کوشش کی تھی۔
اماراتی حکام اور ایئرلائن نے تاحال معاون پائلٹ کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم اسرائیلی حکام پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ وہ عمانی شہری ہے۔ عمان نے واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اٹارنی جنرل حمد سیف الشمسی نے ایک بیان میں کہا، ’’فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 سے متعلق واقعے کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ معاون پائلٹ نے دہشت گرد حملے کی کوشش کی تھی۔‘‘
اٹارنی جنرل کے مطابق معاون پائلٹ نے کاک پٹ کے اندر کپتان پر ہنگامی صورت حال میں استعمال ہونے والی کلہاڑی سے حملہ کیا اور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔
یہ کلہاڑی عموماً حادثے جیسی ہنگامی صورت حال میں استعمال کے لیے کاک پٹ میں رکھی جاتی ہے۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پرواز ایف زیڈ 1073 کے واقعے کی تحقیقات، بشمول مشتبہ شخص کے محرکات، جاری ہیں اور ’’ضروری کارروائی‘‘ مکمل ہونے کے بعد نتائج جاری کیے جائیں گے۔ تحقیقات کی قیادت متحدہ عرب امارات کر رہا ہے۔ یہ ایئرلائن دبئی حکومت کی ملکیت ہے۔
پرواز کے بیشتر مسافر اسرائیلی تھے
اماراتی تفتیش کاروں کی جانب سے اس واقعے کو دہشت گرد حملے کی کوشش قرار دینے کا یہ پہلا بیان ہے۔ اٹارنی جنرل کے بیان کے اجرا کے بعد متحدہ عرب امارات کے صدر کے سینئر مشیر انور قرقاش نے ایکس پر کہا کہ خلیجی ملک دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور انتہاپسندانہ بیان بازی کے معاملے میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
فلائی دبئی کے ترجمان نے ہفتے کو بتایا کہ واقعے سے متعلق حالات کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں، اس لیے ایئرلائن مزید تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔
رائٹرز فوری طور پر معاون پائلٹ سے منسوب پیشہ ورانہ اور سوشل میڈیا صفحات کی تصدیق نہیں کرسکا، جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ماضی میں دیگر ایئرلائنز کے ساتھ بھی کام کرچکا ہے۔
رائل ایئر ماروک نے رائٹرز کے اس سوال کے جواب میں کہ آیا معاون پائلٹ ماضی میں اس ایئرلائن سے وابستہ رہا تھا، بتایا کہ اس نے 2025 میں ایئرلائن کے ساتھ تین ماہ کی تربیت حاصل کی تھی، تاہم بعد ازاں ملازمت کے لیے اس کی درخواست مسترد کردی گئی۔ رائل ایئر ماروک نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
واقعے پر اپنے پہلے عوامی بیان میں فلائی دبئی کے چیف ایگزیکٹو غیث الغیث نے جمعے کو بتایا کہ کاک پٹ میں ’’حفاظتی نوعیت کے واقعے‘‘ کے بعد پرواز کا رخ موڑ دیا گیا تھا۔
طیارے میں سوار بیشتر مسافر اسرائیلی شہری تھے۔
پرواز میں سفر کرنے والے فلائی دبئی کے ایک متبادل پائلٹ نے طیارے کا کنٹرول سنبھال لیا اور اسے شمال مغربی سعودی عرب کے شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر اتارا، جہاں سعودی حکام نے معاون پائلٹ کو حراست میں لے لیا۔
معاون پائلٹ کو جمعرات کو سعودی عرب سے ابوظبی منتقل کردیا گیا۔ تحقیقات سے آگاہ ایک ذریعے نے جمعے کو رائٹرز کو بتایا کہ توقع ہے کہ اسرائیلی حکام متحدہ عرب امارات میں معاون پائلٹ سے پوچھ گچھ کریں گے۔ ذریعے نے یہ بتانے سے انکار کردیا کہ اسرائیل کا کون سا ادارہ یا اتھارٹی اس عمل میں شریک ہوگی۔
اسرائیلی حکومت کے ایک عہدیدار نے کہا کہ اسرائیلی تفتیش کار متحدہ عرب امارات کی قیادت میں ہونے والی تحقیقات میں اماراتی حکام کے ساتھ مل کر حصہ لیں گے۔
اسرائیل کے عمان کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کہہ چکے ہیں کہ ایسے ممالک کے پائلٹس کو اسرائیل جانے والی پروازیں چلانے کی اجازت نہیں۔ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ معاون پائلٹ کو تل ابیب جانے والی پرواز پر تعینات کیسے کیا گیا۔
نیتن یاہو نے جمعے کو کہا تھا کہ اسرائیل اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا معاون پائلٹ نے کسی کی ہدایت پر یہ کارروائی کی تھی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس میں ملوث کسی بھی شخص کو ’’بھاری قیمت‘‘ چکانا ہوگی۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات سے اسرائیل جاتے ہوئے سعودی عرب کی فضائی حدود میں پرواز کے دوران طیارہ صرف 30 سیکنڈ سے کچھ زائد وقت میں تقریباً 16 ہزار 625 فٹ نیچے آگیا تھا۔ یہ فضائی راستہ اسرائیلی مسافروں میں خاصا مقبول ہے۔