سرمایہ کاری کا اعتماد، پختہ عزم کا اب بھی انتظار
- اگست میں خالص ایف ڈی آئی بڑھ کر 315.9 ملین ڈالر ہوگئی
پاکستان میں سرمایہ کاری ملے جلے اشارے دے رہی ہے۔ مالی سال 2027 کے ابتدائی مہینوں میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں بہتری آئی ہے، منافع کی وطن واپسی معمول کی جانب آ رہی ہے، خودمختار کریڈٹ ریٹنگز بہتر ہوئی ہیں اور گرین فیلڈ سرمایہ کاری کے منصوبوں کی پائپ لائن بھی زیادہ سرگرم دکھائی دے رہی ہے۔
لیکن یہ اب بھی سرمایہ کاری کی بحالی سے بہت دور ہے۔
اگست میں خالص ایف ڈی آئی بڑھ کر 315.9 ملین ڈالر ہوگئی، جس کے بعد مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں مجموعی آمد 494.5 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 24.1 فیصد زیادہ ہے۔ پہلی نظر میں یہ حوصلہ افزا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن یہ ایک کمزور مالی سال 2026 کے بعد ہوا ہے، جب ایف ڈی آئی کم ہو کر صرف تقریباً 1.6 سے 1.7 ارب ڈالر رہ گئی تھی۔ صرف دو بہتر مہینے مسلسل سرمایہ کاری کے دور کی نشاندہی کیلئے کافی نہیں ہیں۔
شعبہ جاتی صورتحال بھی یکساں نہیں ہے۔ مالیاتی کاروبار اور بجلی کے شعبوں نے سرمایہ کاری کا خاصا حصہ حاصل کیا، جبکہ تجارت اور الیکٹرانکس میں بھی بہتری آئی۔ اس کے ساتھ ہی کان کنی، مواصلات اور تیل و گیس کی تلاش کے شعبوں میں خالص سرمایہ کا اخراج دیکھا گیا۔ یہ اب بھی ایک محدود اور منتخب نوعیت کی صورتحال ہے۔ ابھی تک وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کے مینوفیکچرنگ، برآمدات اور پیداواری صلاحیت کی جانب منتقل ہونے کے شواہد بہت کم ہیں۔
منافع کی وطن واپسی ایک اور اشارہ فراہم کرتی ہے۔ مالی سال 2023 کے بحران کے دوران منافع اور ڈیویڈنڈ کی ادائیگیوں میں تاخیر کا سبب بننے والی زرمبادلہ پابندیاں اب نرم ہوگئی ہیں، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی ایک اہم تشویش دور ہوگئی ہے۔ مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ میں منافع اور ڈیویڈنڈ کی بیرون ملک منتقلی 557.6 ملین ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 13.4 فیصد کم ہے۔
لیکن منافع کی آسان وطن واپسی صرف اس سہولت کو بحال کرتی ہے جو سرمایہ کاروں کو دستیاب ہونی چاہیے تھی۔ یہ اپنے طور پر نیا سرمایہ نہیں لاتی۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ مالی سال 2026 میں منافع کی بیرون ملک منتقلی نئی ایف ڈی آئی سے زیادہ رہی۔ موجودہ سرمایہ کار رقم باہر لے جانے میں کامیاب رہے، جبکہ نسبتاً کم نیا سرمایہ ملک میں آیا۔ لہٰذا بڑا سوال یہ نہیں کہ سرمایہ کار منافع واپس لے سکتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا انہیں دوبارہ سرمایہ کاری اور اپنے کاروبار کو وسعت دینے کیلئے کافی وجوہات نظر آتی ہیں۔
کاروباری ماحول اس ہچکچاہٹ کی وضاحت میں مدد کرتا ہے۔ ٹیکس ریفنڈز میں تاخیر، ضابطہ جاتی غیر یقینی، تعمیل کے بلند اخراجات اور بڑھتے ہوئے آپریٹنگ اخراجات رسمی کاروباروں پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں اور ان کا ورکنگ کیپیٹل بھی پھنسا رہے ہیں۔
یہ معمولی نوعیت کی مشکلات نہیں ہیں۔ یہ براہ راست نئی سرمایہ کاری کی بنیاد کو متاثر کرتی ہیں اور کاروباری ماحول بہتر بنانے کیلئے حکومت کی کوششوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
گرین فیلڈ سرمایہ کاری کی پائپ لائن بھی اسی طرح کی صورتحال ظاہر کرتی ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں، بیٹریوں، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مینوفیکچرنگ میں اعلانات کی کمی نہیں ہے۔ لیکن اعلانات سرمایہ کاری نہیں ہوتے۔ مفاہمتی یادداشتیں، منظوریوں اور تجاویز کی اہمیت اسی وقت ہوتی ہے جب وہ فنانسنگ، تعمیرات اور حقیقی سرمایہ کاری تک پہنچیں۔ جب تک مزید منصوبے اس مرحلے تک نہیں پہنچتے، پائپ لائن پختہ اعتماد کے بجائے دلچسپی کی علامت ہی رہتی ہے۔
خودمختار سطح پر صورتحال زیادہ واضح طور پر بہتر ہوئی ہے۔ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگز میں بہتری آئی ہے، بیرونی مالیاتی ذخائر مضبوط ہوئے ہیں اور ملک دوبارہ عالمی کیپٹل مارکیٹس میں واپس آچکا ہے۔ اس سے خودمختار خطرات میں کمی آتی ہے، لیکن اسے نجی سرمایہ کاری کی بحالی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
خودمختار بانڈ خریدنا اور ایک فیکٹری لگانا دو بالکل مختلف فیصلے ہیں۔ بانڈ سرمایہ کار بنیادی طور پر منافع کی شرح اور رقم کی واپسی کے خطرے کو دیکھتا ہے۔ ایک طویل مدتی سرمایہ کار کو توانائی کے اخراجات، ٹیکس، ضوابط، معاہدوں کے نفاذ، منافع کی وطن واپسی اور اس بات پر بھی غور کرنا ہوتا ہے کہ آیا قواعد وقت کے ساتھ مستحکم رہیں گے یا نہیں۔
ان پیمانوں پر پاکستان کو ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تضاد واضح ہے۔ ملک نیا غیر ملکی سرمایہ چاہتا ہے، لیکن موجودہ سرمایہ کاروں کو اب بھی ٹیکس ریفنڈز میں تاخیر، بلند اخراجات اور غیر یقینی قواعد کا سامنا ہے۔
لہٰذا ایف ڈی آئی میں حالیہ بہتری کو اس کے حقیقی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سرمایہ کار دوبارہ پاکستان پر نظر ڈال رہے ہیں اور کچھ منتخب شعبوں میں سرمایہ بھی لگا رہے ہیں۔ منافع کی وطن واپسی آسان ہوئی ہے اور بحران کے برسوں کے مقابلے میں خودمختار خطرہ بھی کم ہے۔
لیکن یہ اب بھی ایک کم سطح کا معیار ہے۔
اصل امتحان یہ ہے کہ آیا سرمایہ کار بڑے، طویل مدتی اور ناقابلِ واپسی نوعیت کے وعدے کرنے کیلئے تیار ہیں یا نہیں۔
اب تک وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی بحالی کے شواہد بہت کم ہیں۔ فی الحال اشارہ بڑھتے ہوئے اعتماد کے بجائے اس بات کا زیادہ ہے کہ سرمایہ کار اپنے اختیارات کھلے رکھے ہوئے ہیں۔