✕
دنیا

نیتن یاہو کا دعویٰ: مسافروں نے فلائی دبئی کی پرواز تباہ کرنے کی کوشش کرنے والے کو پائلٹ کو قابو کرلیا

  • معاون پائلٹ کی دورانِ پرواز حملے اور طیارہ تباہ کرنے کی کوشش مسافروں نے ناکام بنا دی، ہنگامی لینڈنگ محفوظ رہی
شائع اپ ڈیٹ

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بدھ کو کہا کہ دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کے معاون پائلٹ نے پائلٹ کو چاقو مارنے کے بعد طیارہ تباہ کرنے کی کوشش کی، تاہم مسافروں نے اسے قابو کرلیا جبکہ دیگر پائلٹس نے طیارے کو سعودی عرب میں بحفاظت اتار لیا۔

نیتن یاہو نے اس واقعے کو ’’انتہائی سنگین سکیورٹی واقعہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی حکام متحدہ عرب امارات سے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کے معاون پائلٹ سے پوچھ گچھ کریں گے۔

نیتن یاہو کے مطابق مبینہ حملہ آور، جس کی شناخت ایک اسرائیلی عہدیدار نے عمانی شہری کے طور پر کی ہے، طیارے کے سعودی عرب میں اترنے کے بعد گرفتار کرلیا گیا۔

نیتن یاہو نے اپنے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو بیان میں کہا کہ ’’تمام مسافر محفوظ ہیں‘‘، اور بتایا کہ ان میں تقریباً سبھی اسرائیلی شہری تھے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے ایک مسافر کے حوالے سے بتایا کہ طیارے کے ’’اچانک بے قابو ہوکر غوطہ لگانے‘‘ کے بعد مسافروں اور عملے کے ایک رکن نے کاک پٹ میں داخل ہوکر معاون پائلٹ کو ’’طیارے کے نظام میں تخریب کاری کی کوشش کرتے‘‘ دیکھا۔

انہوں نے کہا، ’’انہوں نے بہت سی جانیں بچائیں۔ انہوں نے ایک بڑے سانحے کو روک دیا۔‘‘

اسرائیلی عہدیدار نے اس سے قبل رائٹرز کو بتایا تھا کہ طیارے سے ہنگامی سگنل بھیجے گئے تھے۔ پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق طیارے کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے ہنگامی سگنل بھیجے جانے سے قبل طیارہ 30 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اچانک اور تیزی سے تقریباً 14 ہزار فٹ نیچے آیا۔

طیارے کی سعودی عرب میں لینڈنگ کے وقت اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے ترجمان ڈورون اسپیل مین نے رائٹرز کو بتایا کہ واقعے کو طیارہ ہائی جیک کرنے کی کوشش نہیں سمجھا جارہا، بلکہ اسے ’’ایک مختلف نوعیت کا واقعہ‘‘ قرار دیا۔

اسرائیلی عہدیداروں نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسرائیل کے موجودہ جائزے کے مطابق یہ واقعہ ’’دہشت گرد حملے‘‘ کی کوشش تھی اور اس کا تعلق دونوں پائلٹس میں سے کسی کے ذہنی صحت کے مسئلے سے نہیں تھا۔