✕
رائے

ریاست اور بینکوں کا گٹھ جوڑ اور اس کے نقصانات

  • ہم نے حکومت کے لیے قرض لینا غیر معمولی حد تک آسان اور شہریوں و کاروباری اداروں کے لیے اسی کام کو مشکل بنا دیا ہے
شائع اپ ڈیٹ

ہر چند روز بعد اخبارات اور ٹی وی پر یہ شکوہ سننے کو ملتا ہے کہ نقد معیشت کا خاتمہ ہونا چاہیے اور پاکستانیوں کے پاس ضرورت سے زیادہ نقد رقم موجود ہے۔

لیکن نقد معیشت کی بحث کا ایک اہم پہلو حیرت انگیز طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے: پاکستان نے کئی دہائیوں سے بینکوں کو تحفظ اور سہولت فراہم کرنے پر توجہ دی، مگر مالیاتی نظام کی حقیقی ترقی کے لیے بہت کم اقدامات کیے۔ یہ فرق اہم ہے۔ بینکاری اور مالیاتی ترقی ایک ہی چیز نہیں۔ ایک ترقی یافتہ مالیاتی نظام بچت کرنے والوں کو کاروباری افراد سے جوڑتا ہے، رہن اور صارفین کو قرض فراہم کرتا ہے، نئے کاروباروں کی صلاحیت دریافت کرتا ہے، بانڈ اور ایکویٹی مارکیٹوں کو وسعت دیتا ہے اور گھرانوں کو مختلف مالیاتی اثاثوں میں سرمایہ کاری کے حقیقی مواقع فراہم کرتا ہے۔

اس کے برعکس پاکستان نے حکومت اور کمرشل بینکوں کے درمیان ایک غیر معمولی طور پر آرام دہ تعلق قائم کر لیا ہے۔

آئی ایم ایف کے اعدادوشمار اس صورتحال کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔

2023 تک پاکستانی بینکوں کے اثاثوں میں حکومت سے متعلق واجبات کا حصہ تقریباً 60 فیصد تک پہنچ گیا تھا، جو ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی اوسط سے تین گنا سے بھی زیادہ اور نجی شعبے کے لیے بینکوں کی قرضہ جاتی رسائی سے تقریباً تین گنا زیادہ تھا۔

فنڈ کے مطابق بینکوں کے لیے حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری منافع کا اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ سرکاری سیکیورٹیز میں نجی قرض خواہ کے خطرے کا جائزہ لینے کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہی سیکیورٹیز اسٹیٹ بینک سے لیکویڈیٹی حاصل کرنے کے لیے ضمانت کے طور پر بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔

ذرا سوچیے، اس صورتحال سے بینکوں کے لیے کیا ترغیبات پیدا ہوتی ہیں۔ کسی باصلاحیت نوجوان کاروباری کی تلاش کیوں کی جائے؟ چھوٹے کاروباروں کو قرض دینے کی مہارت کیوں پیدا کی جائے؟ کسی نئی فیکٹری، ٹیکنالوجی کمپنی یا برآمد کنندہ کی مالی استعداد کا جائزہ کیوں لیا جائے؟ لاکھوں چھوٹے کھاتے داروں کو راغب کرنے کے لیے بھرپور مسابقت کیوں کی جائے؟ جب حکومت ہر ہفتے بھاری رقوم قرض لینے کے لیے موجود ہو تو ان سب کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟

آئی ایم ایف ایک مختلف زاویے سے بھی اسی نتیجے پر پہنچتا ہے۔ اس کے مطابق مالیاتی نظام نے کھاتے داروں کو راغب کرنے کے لیے بینکوں کو بہت کم ترغیب دی ہے۔ بعض بینک ایسے کرنٹ اکاؤنٹس اور اسلامی ڈپازٹ مصنوعات کی جانب بڑھ گئے ہیں جن میں بچت کنندگان کو نسبتاً کم ادائیگی کرنا پڑتی ہے، جس سے بالخصوص ان چھوٹے کھاتے داروں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے جن کی ایک کم رسائی رکھنے والے اور محدود دائرے کے حامل بینکاری نظام کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

یہ مالیاتی ترقی نہیں۔ یہ ریاست اور بینکوں کا ایسا گٹھ جوڑ ہے جس میں حکومتی خسارے بینکوں کے منافع کو برقرار رکھتے ہیں جبکہ نجی شعبے کے لیے مالی وسائل کی رسائی محدود رہتی ہے۔

پھر ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ پاکستانی نقد رقم اپنے پاس کیوں رکھتے ہیں۔

کھاتہ دراصل کس کا پیسہ ہے؟

یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ بینک میں جمع رقم دراصل کھاتے دار کی رقم ہوتی ہے، جو امانت کے طور پر بینک کے پاس رکھی جاتی ہے، نہ کہ بینکر کا ذاتی سرمایہ جسے وہ اپنی مرضی سے استعمال کرے۔ جب بینک اس رقم کا بڑا حصہ ایک ہی ذریعے، یعنی حکومتی سیکیورٹیز میں لگا دیتے ہیں، کیونکہ یہ ان کے لیے آسان اور کم خطرے والی سرمایہ کاری ہوتی ہے، تو وہ دوسروں کی بچت سے سرمایہ کاری کا فیصلہ کر رہے ہوتے ہیں، اپنی رقم سے نہیں۔

اگر کسی کھاتے دار کو اپنی تمام رقم حکومتی بانڈز میں لگانی ہوتی تو وہ براہِ راست ایسا کر سکتا تھا۔ اس نے رقم بینک میں اس توقع پر جمع کرائی کہ بینک اسے زیادہ مفید انداز میں استعمال کرے گا۔

مالیاتی وسائل پر حکومت کی بالادستی نے خاموشی سے بینکاری نظام کو دوسروں کے خطرات کا انتظام کرنے والے ادارے کے بجائے ریاست کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے ایک ذریعے میں تبدیل کر دیا ہے، اور اس لین دین میں کھاتے دار کی رائے کی کوئی جگہ نہیں۔

گاہک کہاں ہیں؟

شاید اس پوری بحث کا سب سے حیران کن اعدادوشمار یہی ہے۔ عالمی بینک کے گلوبل فن ڈیکس 2025 سروے کے مطابق 2024 میں پاکستان کی 15 سال اور اس سے زائد عمر کی آبادی 15 کروڑ 58 لاکھ تھی۔ ان میں سے 11 کروڑ 33 لاکھ افراد کے پاس کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں تھا، یعنی تازہ ترین قابلِ تقابل اعدادوشمار کے مطابق تقریباً 73 فیصد پاکستانی بالغ آبادی بینکاری نظام سے باہر تھی۔

پاکستان ان آٹھ ممالک میں شامل ہے جن میں بنگلہ دیش، چین، مصر، بھارت، انڈونیشیا، میکسیکو اور نائیجیریا بھی شامل ہیں، اور یہ ممالک دنیا بھر کے مجموعی 1.3 ارب ایسے بالغ افراد میں سے نصف سے زیادہ کے حامل ہیں جن کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں۔

ایک بار پھر اس پہلے عدد پر غور کیجیے: 11 کروڑ 30 لاکھ افراد۔

ایسی معیشت میں جہاں تقریباً تین چوتھائی بالغ افراد کے پاس بینک اکاؤنٹ نہیں، نقد رقم کے استعمال کو ایک معمہ سمجھنا اصل وجہ اور نتیجے کو الٹ دینے کے مترادف ہے۔ یہ لوگ اپنی رقم کہاں رکھیں؟ گھریلو ملازم کو اجرت کیسے دی جائے؟ یومیہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور اپنی اجرت کیسے وصول کرے، یا ایک زرعی مزدور دوسرے مزدور کو ادائیگی کیسے کرے، جب دونوں میں سے کسی کا بینک اکاؤنٹ ہی نہ ہو؟

ایسے حالات میں نقد رقم کسی نظریاتی ترجیح کا نتیجہ نہیں۔

یہ بنیادی ڈھانچہ ہے—اور بلاشبہ ملک کا سب سے زیادہ فعال ادائیگی کا نظام، جو اس خلا کو پُر کر رہا ہے جسے رسمی مالیاتی نظام نے کئی دہائیوں سے کھلا چھوڑ رکھا ہے۔

پہلے اکاؤنٹ کھول کر دیکھیے

اکاؤنٹ رکھنے اور بینک کے ساتھ ایک مؤثر مالیاتی تعلق قائم ہونے میں بھی بڑا فرق ہے۔ اکاؤنٹ کھولنے کے لیے شناختی دستاویز، بایومیٹرک تصدیق، ملازمت اور آمدنی کی تفصیلات کے علاوہ مسلسل صارف کی جانچ پڑتال درکار ہو سکتی ہے۔ یہ حفاظتی اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں، کیونکہ پاکستان کو انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے عالمی معیارات پر پورا اترنا ہے۔

لیکن ضوابط کی اپنی لاگت بھی ہوتی ہے اور اسٹیٹ بینک خود بھی اس حقیقت سے آگاہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کا 2025 کا جامع صارف آن بورڈنگ فریم ورک اکاؤنٹ کھولنے کے عمل کو آسان بنانے اور صارف کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے وضع کیا گیا تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ طریقہ کار میں آسانی کی ضرورت محسوس کی گئی۔

یہاں مبالغے سے گریز بھی ضروری ہے۔ بینکوں کو کسی کھاتے دار کا اکاؤنٹ من مانی طور پر بند کرنے کا غیر محدود اختیار حاصل نہیں۔ اسٹیٹ بینک کے قواعد اکاؤنٹس کے طریقہ کار کو منظم کرتے ہیں اور موجودہ ضوابط کے تحت بینک کے لیے ضروری ہے کہ اکاؤنٹ پر پابندی عائد کیے جانے کی صورت میں صارف کو مطلع کرے اور اسے یہ بھی بتائے کہ اکاؤنٹ کو معمول پر کیسے لایا جا سکتا ہے۔

لیکن یہ وضاحت بنیادی مسئلے کو کمزور نہیں بلکہ مزید واضح کرتی ہے۔

روزمرہ زندگی میں کھاتے دار سے بار بار شناخت، آمدنی کے ذریعے اور کسی لین دین کے مقصد کی دوبارہ تصدیق طلب کی جا سکتی ہے۔ غیر فعال اکاؤنٹس سے رقم نکلوانے کی سہولت بحالی تک معطل ہو سکتی ہے، جبکہ مطلوبہ دستاویزات تازہ نہ ہونے کی صورت میں رقم نکلوانے پر پابندی لگ سکتی ہے۔

ایک تنخواہ دار پیشہ ور کے لیے یہ کبھی کبھار پیش آنے والی زحمت ہو سکتی ہے۔ لیکن غیر مستقل آمدنی، نامکمل دستاویزات یا پیچیدہ دفتری طریقہ کار سے نمٹنے کی محدود صلاحیت رکھنے والے شخص کے لیے یہ صورتحال پورے معاملے کا توازن ہی بدل سکتی ہے۔

نقد رقم کبھی کسی سے مزید دستاویز نہیں مانگتی۔ اسے اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ آپ نے 2 لاکھ روپے کیوں منتقل کیے۔ یہ غیر فعال نہیں ہوتی اور اسے دوبارہ فعال کرانے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔

اب قرض لے کر دیکھیے

جیسے ہی کوئی صارف اس نظام سے کچھ واپس مانگتا ہے، تضاد مزید گہرا ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں کریڈٹ کارڈ اب بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی مالیاتی سہولت نہیں۔ آمدنی کی دستاویزات، کریڈٹ جانچ، فیس اور مالیاتی اخراجات بیشتر لوگوں کو اس دائرے سے باہر رکھتے ہیں۔ چھوٹے کاروباروں کے لیے صورتحال اس سے بھی مشکل ہے۔

ہم نے حکومت کے لیے قرض لینا غیر معمولی حد تک آسان اور شہریوں و کاروباری اداروں کے لیے اسی کام کو مشکل بنا دیا ہے۔

آئی ایم ایف اس کی وسیع تر معاشی تصویر بھی پیش کرتا ہے۔ پاکستانی بینک نجی شعبے کو قرض دینے کے معاملے میں طویل عرصے سے علاقائی ہم منصبوں سے پیچھے رہے ہیں، جبکہ حکومتی قرض گیری میں اضافے نے نجی شعبے کے لیے قرض کی دستیابی مزید محدود کر دی ہے۔

حکومت بیک وقت اس مسئلے کے دونوں پہلوؤں پر قابض ہے—وہ اتنی بڑی مقدار میں قرض لے رہی ہے کہ اس کی سیکیورٹیز بینکوں کے لیے انتہائی پرکشش بن جاتی ہیں، جبکہ ضوابط عام صارفین کے ساتھ بینکنگ تعلق کو پیچیدہ اور کاغذی کارروائی سے بھرپور بنا دیتے ہیں۔

بینکوں کے لیے بھی یہ ایک معقول کاروباری فیصلہ ہے کہ جب ریاست ایک وسیع اور محفوظ متبادل پیش کر رہی ہو تو وہ چھوٹے کھاتے داروں یا نسبتاً خطرناک نجی قرض خواہوں کے پیچھے کیوں جائیں۔ نتیجہ کسی کے لیے حیران کن نہیں ہونا چاہیے: حکومت کو قرض ملتا ہے، بینک منافع کماتے ہیں، بڑی اور مستحکم کمپنیوں کو خدمات ملتی ہیں اور کروڑوں پاکستانیوں کے حصے میں نقد رقم آتی ہے۔

5 ہزار روپے کے نوٹ کو موردِ الزام ٹھہرانا بند کریں

یہی وجہ ہے کہ 5 ہزار روپے کے نوٹ پر ضرورت سے زیادہ توجہ دینا بے محل ہے۔ تقریباً 280 روپے فی ڈالر کی شرح پر یہ نوٹ تقریباً 18 ڈالر کا بنتا ہے۔ اسے ختم کرنے سے مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ ایک جائز 10 لاکھ روپے کی نقد ادائیگی کے لیے صرف 200 کے بجائے 1,000 روپے کے ایک ہزار نوٹ درکار ہوں گے۔

ہم نے مالیاتی ترقی نہیں کی ہوگی، صرف بڑے تھیلے درکار ہوں گے۔

یہ بات درست ہے کہ نقد رقم ٹیکس چوری یا رقم چھپانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، اور اس پر اختلاف نہیں۔ لیکن پالیسی سازوں کو مجرمانہ مقاصد کے لیے گمنامی کی طلب اور ایسے ادائیگی کے ذریعے کی جائز ضرورت میں فرق کرنا ہوگا جو وہاں واقعی کام کرتا ہو جہاں 11 کروڑ 30 لاکھ بالغ افراد کا کوئی بینک اکاؤنٹ ہی نہیں۔

صرف بینکاری نہیں، مالیاتی نظام کو ترقی دیں

پاکستان کو یہ ازسرِنو سوچنے کی ضرورت ہے کہ مالیاتی اصلاحات سے مراد کیا ہے۔ مقصد مزید بینک بنانا، اور یقیناً بینکوں سے مزید حکومتی قرض لینا نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت کو بینکاری وسائل پر اپنی غیر معمولی گرفت کم کرنی چاہیے تاکہ بینک اپنے حقیقی کردار کی جانب واپس آئیں: یعنی دوسروں کے مالی خطرات کا انتظام کریں، نہ کہ اپنے ڈپازٹس کو دستیاب سب سے محفوظ سرمایہ کاری میں منتقل کرتے رہیں۔

ڈپازٹس کے حصول کے لیے مسابقت بڑھنی چاہیے، بنیادی بینک اکاؤنٹ کھولنا تقریباً بے تکلف عمل ہونا چاہیے، ضوابط کو ہر شخص پر یکساں شبہے کے بجائے حقیقی خطرے کی سطح کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ صارفین کو واضح حقوق اور اکاؤنٹ تک رسائی محدود کیے جانے کی صورت میں فوری اپیل کا مؤثر طریقہ دستیاب ہونا چاہیے۔

مالیاتی ترقی کو صرف اس بنیاد پر بھی نہیں پرکھنا چاہیے کہ کتنا قرض فراہم کیا جا رہا ہے۔ قرض بچت کو پیداواری استعمال میں منتقل کرنے کا ایک ذریعہ ہے، جو مفید ضرور ہے لیکن محدود نوعیت کا ہے۔ نوجوان اور بڑھتی ہوئی معیشت کے لیے صرف مزید قرض پر انحصار مناسب نہیں، اسے قرض سے زیادہ رسک کیپیٹل کی ضرورت ہوتی ہے۔

قرض میں نتائج سے قطع نظر مقررہ ادائیگی لازم ہوتی ہے اور یہ خیالات کے بجائے ضمانت کی بنیاد پر مالی وسائل فراہم کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ چنانچہ یہ ہمیشہ نئے کاروبار کے مقابلے میں پہلے سے قائم قرض خواہ کو فائدہ پہنچائے گا۔

پاکستان کو دراصل مالیاتی مواقع کے ایک مکمل دائرے کی کمی ہے: عام لوگوں کے لیے رہن کی سہولت، چھوٹے کاروباروں کے لیے حقیقی مسابقت پر مبنی قرض، گہری کارپوریٹ بانڈ مارکیٹ، ایسی وسیع ایکویٹی مارکیٹ جس میں کاروبار اپنے اثاثے گروی رکھے بغیر مستقبل کے منافع میں حصہ دے کر سرمایہ حاصل کر سکیں، اور پنشن و انشورنس فنڈز جو طویل مدتی سرمایہ فراہم کریں۔

اس کے بجائے ملک کے تقریباً ہر مالیاتی تعلق کے مرکز میں حکومت اور چند بڑے بینک ہی موجود ہیں۔

ایسا بچت کنندہ جو کسی کمپنی کو محض مقررہ شرحِ منافع پر قرض دینے کے بجائے اس کی ترقی میں شریک ہونا چاہتا ہے، پاکستان میں اس کے لیے فی الحال بہت کم مواقع موجود ہیں۔ یہ کمی بذاتِ خود مالیاتی پسماندگی کی ایک شکل ہے، جو قرض کی قلت سے الگ اور اس سے پہلے کی حقیقت ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان میں ریاست اور بینکوں کے گٹھ جوڑ کی نشاندہی کو محض ایک ضمنی نکتے کے بجائے انتباہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ بینکاری نظام سے باہر 11 کھرب روپے رکھنے والے پاکستانی غیر منطقی طرزِ عمل کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ وہ اسی مالیاتی نظام کے اندر اپنی بچت اور لین دین سے متعلق فیصلے کر رہے ہیں جو ہم نے ان کے لیے تشکیل دیا ہے—ایسا نظام جہاں ان کے ڈپازٹس کو ایک محدود دائرے میں حکومتی بانڈز کی خریداری کے لیے باآسانی دستیاب سرمایہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ ایسا کوئی متبادل مالیاتی ذریعہ موجود نہیں جو ان کی بچت کو کسی نئے کاروباری خیال کی پشت پناہی کے لیے استعمال کر سکے، بجائے اس کے کہ وہ حکومتی خسارے کو پورا کرے۔

نقد رقم ہمارے اداروں کے بارے میں کچھ بتا رہی ہے۔ ہمیں اسے ختم کرنے کے لیے قانون سازی کرنے کے بجائے اس پیغام کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026