✕
کاروبار اور معیشت

اٹک ریفائنری کا 50,000 بی پی ڈی نئی ڈیپ کنورژن ریفائنری کا منصوبہ

  • سب سے بڑا چیلنج پلانٹ کو اپگریڈ کرنا ہے، کمپنی
شائع اپ ڈیٹ

اٹک ریفائنری لمیٹڈ جو اٹک آئل کمپنی لمیٹڈ کی ذیلی کمپنی ہے 50 ہزار بیرل یومیہ گنجائش کی نئی ڈیپ کنورژن ریفائنری قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

یہ کمپنی جو پاکستان کے ڈاؤن اسٹریم پٹرولیم شعبے کی ایک اہم کمپنی ہے نے پیر کو جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ میں اپنے منصوبوں سے آگاہ کیا۔

ریفائنری نے کہا کہ اگر شمالی علاقوں سے مقامی خام تیل کی پائیدار بنیادوں پر اضافی مقدار میں فراہمی دستیاب ہوجائے اور حکومت کی جانب سے ضروری معاونت حاصل ہو تو اے آر ایل 50,000 بیرل یومیہ (بی پی ڈی) گنجائش کی جدید ترین نئی ڈیپ کنورژن ریفائنری لگانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

اپنے توسیعی منصوبوں کے حوالے سے اے ٹی آر ایل نے بتایا کہ اسے درپیش سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک اپنے پلانٹس کو اپ گریڈ کرنا ہے تاکہ یورو-V ایندھن کے معیارات پر پورا اترا جاسکے۔

کمپنی نے کہا کہ مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے کے مقصد سے اس نے توسیع کے لیے ایک اسٹریٹجک پلان تیار کیا ہے۔

کمپنی نے بتایا کہ منصوبہ بندی کے تحت شروع کیے جانے والے منصوبوں میں ایک کنٹینیوس کیٹالسٹ ری جنریشن (سی سی آر) یونٹ کا قیام بھی شامل ہے جس سے پی ایم جی کی پیداوار کا حجم بڑھانے اور پی ایم جی پول کے آکٹین نمبر کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی تاکہ یورو-V کے معیارات پر پورا اترا جاسکے جبکہ آکٹین بڑھانے والے ایڈیٹوز کے استعمال اور نیفتھا کی برآمد کی ضرورت بھی ختم ہوجائے گی۔

مزید برآں ڈی ایچ ڈی ایس یونٹ کی اپ گریڈیشن سے ایچ ایس ڈی میں سلفر کی مقدار کم ہو کر 10 پی پی ایم رہنے کی توقع ہے۔

اے آر ایل نے بتایا کہ اس نے اپنے مجوزہ اپ گریڈیشن منصوبے کے تحت سی سی آر یونٹ کے اضافے اور ڈی ایچ ڈی ایس یونٹ کی اپ گریڈیشن کے لیے لائسنسر فرنٹ اینڈ انجینئرنگ ڈیزائن (ایف ای ای ڈی ) کی اسٹڈیز پہلے ہی مکمل کرلی ہیں جس پر تقریباً 600 ملین ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔

مزید برآں پراجیکٹ فرنٹ اینڈ انجینئرنگ ڈیزائن اور پراجیکٹ مینجمنٹ کنسلٹنسی سروسز کا معاہدہ اٹلی کی کمپنی Studi Technologie Progetti SpA (ایس ٹی پی) کو دیا گیا ہے۔ اس وقت ایس ٹی پی کے ساتھ ایف ای ای ڈی سے متعلق دستاویزات کا تبادلہ جاری ہے جن میں مینجمنٹ، پروسیس، مکینیکل، سول، الیکٹریکل اور انسٹرومنٹیشن سمیت متعدد شعبوں سے متعلق مطلوبہ دستاویزات شامل ہیں۔ اس کے نتیجے میں پراجیکٹ کے ایف ای ای ڈی پیکیج کا تقریباً 90 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔

کمپنی نے بتایا کہ ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی مد میں خزانے میں اس کی سالانہ شراکت 156 ارب روپے رہی جبکہ درآمدی متبادل اور برآمدات کے ذریعے 167.13 ملین ڈالر کی زرمبادلہ بچت حاصل ہوئی۔

اٹک ریفائنری کو 8 نومبر 1978 کو پاکستان میں ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے طور پر رجسٹر کیا گیا تھا اور 26 جون 1979 کو اسے پبلک کمپنی میں تبدیل کردیا گیا۔ کمپنی بنیادی طور پر خام تیل کی ریفائننگ کے کاروبار سے وابستہ ہے۔