✕
کاروبار اور معیشت

کاٹن جنرز کا حکومت سے کپاس اگاؤ، معیشت بچاؤ مہم شروع کرنے کا مطالبہ

  • ایسوسی ایشن کی سفارشات کو قومی پالیسی کا حصہ بنانے پر بھی غور کیا جائے، اجلاس
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں کپاس اگاؤ، معیشت بچاؤ مہم شروع کی جائے جب کہ ایسوسی ایشن کی سفارشات کو قومی پالیسی کا حصہ بنانے پر بھی غور کیا جائے۔

پی سی جی اے کے جنرل باڈی اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ کپاس کے علاقوں میں کام کرنے والی تمام شوگر ملز کو فوری طور پر بند کیا جائے، کپاس اور اس کی ضمنی مصنوعات پر عائد تمام ٹیکس واپس لیے جائیں، کاٹن سیڈ کیک اور کپاس کے بیج پر سیلز ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، بجلی بلوں پر عائد فکسڈ ٹیکس ختم کیا جائے جبکہ جننگ سیکٹر کو صنعتی حیثیت دی جائے تاکہ اسے صنعتی نرخوں پر بجلی اور گیس دستیاب ہوسکے۔ ایسوسی ایشن نے کاٹن کنٹرول ایکٹ پر مکمل عمل درآمد کا بھی مطالبہ کیا۔

اجلاس میں سابق سینئر صوبائی وزیر اور یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے رہنما ایس ایم تنویر، وفاقی چیمبر کے صدر عاطف اکرام شیخ، سابق ایف پی سی سی آئی صدر میاں تنویر احمد شیخ، ذکی اعجاز، جنرز گروپ کے چیئرمین حاجی محمد اکرم، سابق چیئرمین مسعود اے مجید، میاں محمود احمد، چوہدری وحید ارشد، حاجی حفیظ انور، امان اللہ قریشی، مہیش کمار اور چاروں صوبوں سے بڑی تعداد میں جنرز، صنعت کاروں اور تاجروں نے شرکت کی۔

سہیل محمود کو بلا مقابلہ پی سی جی اے کا نیا چیئرمین منتخب کرلیا گیا جبکہ کیول مال دیونانی کو سینئر وائس چیئرمین اور مظہر شعیب خان نتکانی کو وائس چیئرمین منتخب کیا گیا۔ ایس ایم تنویر نے نومنتخب عہدیداران سے حلف لیا۔

چیئرمین سہیل محمود ہرل نے کپاس کی بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا عزم ظاہر کیا اور کپاس کی تجارت پر عائد ٹیکسز اور ڈیوٹیز کے خاتمے کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا وعدہ کیا۔

ایس ایم تنویر نے کہا کہ پاکستان کی جی ڈی پی کم ہو کر 450 ارب ڈالر رہ گئی ہے اور زرعی پیداوار اپنی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور سالانہ 60 سے 70 لاکھ بچے پیدا ہو رہے ہیں جبکہ برآمدات 30 ارب ڈالر سے کم کی سطح پر جمی ہوئی ہیں جس کے باعث نوجوان نسل ملک چھوڑنے پر مجبور ہورہی ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ کپاس کی پیداوار میں کمی کے باعث پاکستان عالمی مسابقت میں پیچھے رہ گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں بجلی کی قیمت 12 سینٹ فی یونٹ ہے جبکہ پڑوسی ممالک میں یہی بجلی 6 سینٹ فی یونٹ میں دستیاب ہے۔

متفقہ قراردادوں کے ذریعے پی سی جی اے، ایف پی سی سی آئی اور مختلف صنعتی تنظیموں نے کپاس کے شعبے کے بقا اور بحالی کے لیے مشترکہ جدوجہد کا اعلان کیا۔ قراردادوں میں کپاس کو زرعی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ عالمی منڈیوں میں پاکستان کی کھوئی ہوئی پوزیشن دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کپاس کا شعبہ انتہائی اہم ہے۔