✕
پاکستان

نورستان میں جھڑپیں، پاکستان نے افغان طالبان کے الزامات مسترد کردئیے

  • افغان طالبان حکومت سے افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں کو افغانستان کے صوبہ نورستان میں مبینہ تشدد سے جوڑنے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے انہیں لغو، بے بنیاد اور حقیقت سے عاری قرار دیا۔

وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری فیکٹ چیک میں پاکستان نے واضح طور پر نورستان یا افغانستان کے کسی بھی دوسرے علاقے میں اندرونی جھڑپوں میں ملوث ہونے کی تردید کی۔ وزارت نے ان الزامات کو بھی مسترد کیا کہ پاکستان سابق افغان سیکیورٹی اہلکاروں کو بھرتی یا تربیت دے رہا ہے یا داعش سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کو سہولت فراہم کر رہا ہے۔

وزارت نے کہا کہ پاکستان کے مبینہ ملوث ہونے کے ثبوت میں کوئی شناخت، دستاویزات، مواصلاتی ریکارڈ، فرانزک شواہد یا آزادانہ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔

وزارت نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک مبینہ ویڈیو کو بھی ثبوت کے طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس میں صرف چند غیر مسلح افراد دکھائی دیتے ہیں، جو مناسب لباس یا سازوسامان سے محروم تھے اور بظاہر ایک پیشگی منصوبہ بندی کے تحت بنائی گئی ویڈیو میں گرفتار کیے گئے تھے۔

وزارت نے کہا کہ افغانستان کے اندر مختلف دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کو اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی متعدد رپورٹس میں دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ اس نے مزید کہا کہ پاکستان سے تعلق جوڑنے کی کوششیں افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی مسلسل موجودگی کی حقیقت کو چھپا نہیں سکتیں۔

پاکستان نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ افغانستان سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق کارروائی کرے اور اپنے اس عزم کو پورا کرے کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

وزارت نے مزید طالبان حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ایسے الزامات کے ذریعے اپنے داخلی سیکیورٹی مسائل کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے حوالے سے اس کے طرزِ عمل پر بھی تنقید کی۔

یہ فیکٹ چیک پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے، جب دونوں جانب سے سرحد پار عسکریت پسندی اور سیکیورٹی واقعات کے حوالے سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔