پاکستان نے بھارت کی سرپرستی میں دہشت گردی کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا
- بھارت نے پروپیگنڈے کو ریاستی حکمت عملی، غلط معلومات کو سفارت کاری اور دہشت گردی کو پالیسی کے آلے کے طور پر اپنایا ہے، صائمہ سلیم
پاکستان نے ہفتے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارتی نمائندے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے بھارت پر شدید الزامات عائد کیے اور کہا کہ نئی دہلی نے پروپیگنڈے کو ریاستی حکمت عملی، غلط معلومات کو سفارت کاری اور دہشت گردی کو پالیسی کے آلے میں تبدیل کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے عام مباحثے میں بھارتی نمائندے کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشیر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت نے پروپیگنڈے کو ریاستی حکمت عملی، غلط معلومات کو سفارت کاری اور دہشت گردی کو پالیسی کے آلے کے طور پر اپنایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت علاقائی بالادستی کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور اسلاموفوبیا اور ہندوتوا نظریے کو ادارہ جاتی شکل دے چکا ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ پاکستان بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی قیمت بخوبی جانتا ہے۔ ان کے مطابق رواں صدی کے آغاز سے پاکستان دہشت گردی کے باعث تقریباً ایک لاکھ جانوں سے محروم ہو چکا ہے جبکہ اس سے معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں اور قربانیوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ سمیت پاکستان کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد گروہوں کی بھارتی مالی معاونت اور مدد کے شواہد بھی پیش کیے ہیں۔
صائمہ سلیم نے بھارت پر دہشت گردی کے الزامات کو علاقائی سطح سے عالمی سطح تک پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کلبھوشن جادھو اور نکھل گپتا کے مقدمات کا حوالہ بھی دیا۔
کشمیر کے معاملے پر پاکستانی نمائندے نے کہا کہ جموں و کشمیر کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں تھا اور نہ ہوگا بلکہ یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔ انہوں نے بھارتی زیر انتظام کشمیر میں کشمیریوں کے بنیادی حقوق اور حق خودارادیت سے محرومی کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں حکمران آر ایس ایس، بی جے پی حکومت نے ہندوتوا نظریے کو ریاستی پالیسی کا حصہ بنا دیا ہے اور اقلیتوں کے خلاف امتیازی رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق مسلمانوں، مسیحیوں، دلتوں اور سکھوں کو مختلف نوعیت کے امتیازات اور دباؤ کا سامنا ہے۔