✕
کاروبار اور معیشت

ای انوائسنگ سے انضمام میں ناکامی، ایف بی آر نے سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل کرنا شروع کردی

  • سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 21 کے تحت سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل کرنے کا اختیار غیر معمولی اقدام ہے، ٹیکس ماہر
شائع اپ ڈیٹ

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے الیکٹرانک انوائسنگ نظام کے ساتھ اپنے کاروبار کو مربوط نہ کرنے والے کارپوریٹ اور نان کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل کرنا شروع کردی ہے۔ ٹیکس مشینری نے مقررہ مدت میں انضمام نہ کرنے والے ٹیکس دہندگان کے خلاف کارروائی تیز کردی ہے۔

اس اقدام پر ٹیکس ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایف بی آر ممکنہ طور پر ایسے اختیار کو معمول کی کارروائی کے طور پر استعمال کررہا ہے جو غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے دیا گیا تھا۔

سینئر ٹیکس ماہر ارشد شہزاد کے مطابق سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 21 کے تحت سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل کرنے کا اختیار غیر معمولی اقدام ہے، جس کا بنیادی مقصد جعلی انوائسنگ، ٹیکس فراڈ اور سپلائی چین میں ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کی غلط منتقلی کے خلاف سیلز ٹیکس نظام کا تحفظ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ نہیں کہ ایف بی آر کو ای انوائسنگ پر عمل درآمد نہیں کرنا چاہیے، بلکہ تشویش یہ ہے کہ اتنے سنگین تجارتی نتائج رکھنے والے اختیار کو ہر عدم تعمیل کے معاملے میں معمول کی انتظامی کارروائی نہیں بننا چاہیے۔

ٹیکس ماہر کے مطابق الیکٹرانک انوائسنگ نظام سے انضمام میں ناکامی پر سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت مخصوص جرمانے پہلے ہی موجود ہیں، اس لیے معمول کی عدم تعمیل اور ایسے حالات میں فرق کرنا ضروری ہے جہاں رجسٹریشن معطل کرنے جیسے غیر معمولی اختیار کا استعمال ضروری ہو۔

انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن کی معطلی محض ایک اور جرمانہ نہیں بلکہ اس سے ٹیکس دہندہ کا کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور اس کے صارفین کی جانب سے ان پٹ ٹیکس کریڈٹ حاصل کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوسکتی ہے، جس کے اثرات پوری سپلائی چین تک پہنچ سکتے ہیں۔

ٹیکس ماہر کے مطابق دفعہ 21 کے تحت ایف بی آر کو جعلی انوائسز اور ٹیکس فراڈ کے خلاف وسیع اختیارات حاصل ہیں، تاہم ان کا استعمال خودکار یا میکانکی انداز میں نہیں ہونا چاہیے۔

موجودہ قانونی طریقہ کار کے تحت کمشنر مخصوص حالات میں سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل کرسکتا ہے۔ قانون معطلی کے بعد مقررہ مدت میں شوکاز نوٹس جاری کرنے اور مزید کارروائی سے قبل ٹیکس دہندہ کو سماعت کا موقع فراہم کرنے کا طریقہ کار بھی وضع کرتا ہے۔

ٹیکس ماہر نے زور دیا کہ بڑے پیمانے پر معطلی کے احکامات جاری کیے جانے کی صورت میں ان قانونی تحفظات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ای انوائسنگ سے مقررہ مدت میں انضمام نہ کرنا قانونی خلاف ورزی اور جرمانے کا باعث بن سکتا ہے، تاہم صرف عدم انضمام کو خود بخود جعلی انوائسنگ یا ٹیکس فراڈ قرار نہیں دیا جاسکتا، جب تک متعلقہ قانونی تقاضے پورے نہ ہوں۔

ماہرین کے مطابق ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن اور معیشت کو دستاویزی بنانے کی کوشش قابل فہم ہے، تاہم عمل درآمد متناسب اور قانونی دائرہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقصد ٹیکس دہندگان کو نظام کا حصہ بنانا ہونا چاہیے، صرف رجسٹریشن معطل کرنا نہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026