✕
دنیا

سعودی عرب نے حوثیوں کے بیلسٹک میزائل ناکام بنا دیے، سعودی قیادت والے یمنی اتحاد کا دعویٰ

  • سعودی عرب نے یمن میں بڑھتی کشیدگی کے دوران اہم تنصیبات، بشمول ینبع آئل ٹرمینل، پر حوثیوں کے میزائل حملے ناکام بنا دیے
شائع اپ ڈیٹ

یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے جمعرات کو یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے 6 بیلسٹک میزائلوں کو روک کر جنوبی صوبے طائف اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے ینبع کو نشانہ بنانے والے حملے ناکام بنا دیے۔

یہ واضح نہیں ہوسکا کہ طائف اور ینبع میں کوئی نقصان یا جانی نقصان ہوا یا نہیں۔ ینبع سعودی تیل کی برآمدات کے لیے آبنائے ہرمز کے علاوہ اہم متبادل راستہ ہے۔ اس سے قبل جدہ اور مقدس شہر مکہ سمیت مختلف علاقوں کے لیے بڑے پیمانے پر ہنگامی الرٹ جاری کیا گیا تھا۔

ینبع پر حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب وہاں موجود ٹرمینل سے تیل کی برآمدات دوبارہ شروع ہونے کے امکانات بہتر ہوئے ہیں۔ صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے خام تیل کی پمپنگ کا حجم بڑھا رہا ہے۔ یہ پائپ لائن 11 ستمبر کو ڈرون حملوں کے بعد بند کردی گئی تھی، جن کا الزام ریاض نے عراقی ملیشیا پر عائد کیا تھا۔

آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کی صورت میں ینبع کی بندرگاہ سعودی خام تیل کی برآمدات کے لیے اہم حیثیت رکھتی ہے۔

حوثیوں کا مزید جنوب میں جازان پر حملے کا دعویٰ

حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے جمعرات کو بعد ازاں دعویٰ کیا کہ گروپ نے یمن کی سرحد سے متصل سعودی صوبے جازان میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ سعودی عرب کی جانب سے فوری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

سریع نے کہا کہ حوثیوں نے درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا، جس میں جازان میں ان کے بقول ’’آپریشن رومز، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور اسلحہ ڈپو‘‘ کے علاوہ میزائل داغنے کے مقامات اور فوجی کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔

سعودی شہری دفاع کے ادارے نے بدھ کو جازان میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر ہنگامی الرٹ جاری کیا تھا، تاہم جمعرات کو کوئی الرٹ جاری نہیں کیا گیا۔

شہری دفاع کے حکام نے شمال مغربی صوبے تبوک میں بھی ممکنہ خطرے سے خبردار کیا، جو اردن کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ رواں ماہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے دوران اس علاقے کے لیے یہ پہلا انتباہ تھا۔

حوثیوں نے زیادہ تر سعودی عرب کے جنوبی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے جولائی میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے بعد مملکت پر حملے تیز کردیئے تھے، جس سے امریکا اور ایران کی جنگ کے لیے ایک نیا محاذ کھل گیا۔ حوثیوں نے تقریباً دو ہفتے قبل ایک برق رفتاری سے کی گئی کارروائی کے دوران یمن کے پورے مغربی ساحل پر بھی قبضہ کرلیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ بحیرہ احمر کی اہم باب المندب آبی گزرگاہ کے ساحل تک پہنچ گئے۔

اتحاد نے حملوں کے فوراً بعد جاری بیان میں کہا، ’’دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے کسی بھی کشیدگی میں اضافے اور خلاف ورزیوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔‘‘

یمن کی خانہ جنگی میں شدت، مشرق وسطیٰ کا تنازع وسیع

سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت کی فورسز نے اس سے قبل رات بھر جاری رہنے والے حوثیوں کے ان حملوں کو پسپا کردیا تھا جو جنوبی بندرگاہی شہر عدن سے یمن کے تیسرے بڑے شہر تعز تک جانے والے اہم رسد کے راستے پر کیے گئے۔ عدن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا انتظامی مرکز قائم ہے، حکومتی ذرائع نے بتایا۔

حوثیوں نے ایک دشوار گزار اور بل کھاتی پہاڑی گزرگاہ کے ذریعے حکومتی فورسز پر دباؤ برقرار رکھا ہے تاکہ اپنے اقتدار کو مستحکم کرسکیں۔ حجۃ العبد کے نام سے معروف یہ سڑک یمنی حکومت کی جانب سے لڑنے والی فورسز کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، جنہیں حوثیوں نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔

یہ سڑک یمن کے تیسرے بڑے شہر تعز اور اس کے جنوبی و مغربی دیہی علاقوں میں سامان کی ترسیل کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں سے کوئی کمرشل پروازیں آپریٹ نہ ہونے کے باعث بیرونِ ملک سفر کرنے کے خواہش مند مقامی باشندوں کے لیے یہ واحد راستہ ہے۔

تعز-عدن سڑک کے بعض حصوں پر قبضہ حوثیوں کو تعز کا مزید گھیرا تنگ کرنے اور حکومت کو ایک اور دھچکا دینے کا موقع فراہم کرسکتا ہے، جو مغربی ساحل کا کنٹرول کھونے کے بعد دوبارہ پیش قدمی کی کوششوں میں مشکلات کا شکار رہی ہے۔

یہ لڑائی یمن میں 12 سال سے جاری خانہ جنگی کا تازہ ترین باب ہے، جو 2022ء کی جنگ بندی کے بعد بڑی حد تک منجمد رہی تھی۔ حوثیوں نے 2014ء میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرلیا تھا، جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں سعودی عرب کی قیادت میں اگلے سال فوجی مداخلت کی گئی۔

حالیہ ہفتوں میں کئی سابقہ محاذوں پر دوبارہ لڑائی بھڑک اٹھی ہے، جن میں تعز کے اطراف کے علاقے بھی شامل ہیں، جبکہ حوثیوں نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ جنوب کی جانب پیش قدمی کی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ لڑائی میں 700 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔ تقریباً 1 لاکھ 30 ہزار یمنی ملک کے اندر بے گھر ہوئے ہیں، جبکہ 3 ہزار سے زائد افراد بحیرہ احمر کے راستے کشتیوں کے ذریعے افریقا فرار ہوچکے ہیں۔