✕
پاکستان

ناکام ڈرون دراندازی کے بعد پاکستان کے افغانستان میں 10 مقامات پر حملے

  • پاکستان افغان سرزمین سے کیے جانے والے حملے کسی صورت قبول نہیں کرے گا، عطا اللہ تارڑ
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے جمعرات کو کہا کہ افغانستان کی سرزمین سے ڈرون دراندازی کی کوشش کے بعد پاکستان نے افغانستان میں 10 ایسے مقامات پر ہدفی فضائی اور ڈرون حملے کیے جہاں سے ڈرون لانچ اور ذخیرہ کیے جاتے تھے۔

جمعرات کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے دراندازی کرنے والے تمام ڈرونز کا سراغ لگا کر انہیں ٹریک کیا اور ان کے مقررہ اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ حملے پاکستان کے اپنے دفاع کے خودمختار حق کو استعمال کرتے ہوئے کیے گئے اور یہ سوچے سمجھے، درست، متوازن اور متناسب تھے۔ ان حملوں میں ان فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن کی نشاندہی پہلے ہی کی جا چکی تھی اور جنہیں پاکستان نے ڈرون حملوں کی کوشش سے براہِ راست منسلک قرار دیا۔

عطا اللہ تارڑ نے افغانستان سے لانچ کیے گئے ڈرونز کے ذریعے پاکستانی حدود میں جان بوجھ کر اور غیر قانونی دراندازی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان نے افغان طالبان حکومت اور اس کے رابطہ کاروں کے سامنے بارہا اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے والوں کے خلاف قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق کارروائی کرنے کے بجائے افغان طالبان حکومت نے ڈرون آپریشنز کے ذریعے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان افغان سرزمین سے کیے جانے والے حملے، خواہ وہ دہشت گرد گروہوں کی جانب سے ہوں یا خود افغان طالبان حکومت کی طرف سے، کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کا فوری جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دھمکیاں، تردید یا ذمہ داری سے توجہ ہٹانے کی کوششیں پاکستان کے اپنے علاقے، عوام اور قومی سلامتی کے دفاع کے بیان کردہ حق کو متاثر نہیں کریں گی۔

وفاقی وزیر نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے خلاف فوری طور پر اپنی مخالفانہ سرگرمیاں بند کرے اور افغان سرزمین سے سرگرم عسکریت پسند عناصر کے خلاف مؤثر، ٹھوس، قابلِ تصدیق اور مسلسل کارروائی کرتے ہوئے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے۔

انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملے کرنے یا مخالفانہ کارروائیاں انجام دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

تارڑ نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا اور علاقائی امن، مذاکرات اور تعمیری روابط کے لیے بدستور پُرعزم ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اس عزم کو مخالفانہ اقدامات کے لیے لامحدود برداشت سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے اور واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ افغان طالبان کی جانب سے مزید کوئی اشتعال انگیز اقدام سامنے آیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔