بینکوں پر مبنی معیشت، ترقی کی حامل معیشت نہیں
- پاکستان نے ایسی مالیاتی معیشت تشکیل دی ہے جو ترقی کے لیے درکار خطرہ مول لینے کے بجائے اس استحکام کی حفاظت کرتی ہے جو اس کے پاس ہے ہی نہیں
حال ہی میں شائع ہونے والے دو مضامین میں ایک ایسی بحث چھیڑی گئی ہے جسے اب طے کیا جانا چاہیے۔ شاہد کاردار نے ڈان میں اپنے مضمون ’’بینکوں کی بالادستی‘‘ میں واضح کیا کہ پاکستان کا مالیاتی نظام محض اتفاقاً نہیں بلکہ ساختی طور پر بینکوں کے غلبے کا شکار ہے۔ دوسری جانب ظفر مسعود نے ’پرافٹ‘ میں اپنے مضمون ’’وہی بینک، مختلف میدان‘‘ میں مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی نقدی پر مبنی معیشت، غیر رسمی شعبے اور مالیاتی خسارے کو مدنظر رکھا جائے تو خطے میں نجی شعبے کو فراہم کیے جانے والے قرضوں کا فرق تقریباً ختم ہوجاتا ہے۔ ان کے مطابق، بینکوں کو جس میدان میں کام کرنے کا موقع دیا گیا ہے، اس میں وہ ’’تقریباً بالکل اسی شرح سے قرض دیتے ہیں جس شرح پر کوئی اور دیتا‘‘۔
دونوں مضامین کو یکجا کرکے پڑھا جائے تو دراصل ان میں اختلاف نہیں۔ کاردار نے مجھے طریقۂ کار فراہم کیا ہے، جبکہ مسعود نے، اگرچہ غیر ارادی طور پر، اس کے شواہد فراہم کردیے ہیں۔ دونوں مل کر اس بات کی تصدیق کرتے ہیں جس کا میں پہلے بھی مؤقف اختیار کرتا رہا ہوں: پاکستان نے مالیاتی منڈیاں قائم نہیں کیں، بلکہ ایک بینکاری کارٹل تشکیل دیا ہے، جسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مسابقت کا پابند بنانے کے بجائے محض نگرانی تک محدود رکھا ہے۔
بینکوں کی بالادستی
کاردار اعداد و شمار فراہم کرتے ہیں۔ تجارتی بینک مالیاتی شعبے کے 80 فیصد سے زیادہ اثاثوں کے مالک ہیں۔ بینکاری اثاثوں کا تقریباً 62 فیصد سرکاری سیکیورٹیز میں لگا ہوا ہے، جبکہ نجی شعبے کو دیے جانے والے قرضوں کا حصہ صرف 22 فیصد ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں عوام کی شرکت 0.5 فیصد سے بھی کم ہے؛ مارکیٹ کیپٹلائزیشن جی ڈی پی کے 10 فیصد سے کم ہے اور اس میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ کارپوریٹ قرضوں کا حصہ قرضہ جاتی مارکیٹ میں 3 فیصد سے بھی کم ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ کاردار بتاتے ہیں کہ بینکوں سے مقابلہ کرنے کے لیے بنائے گئے غیر بینکاری مالیاتی ادارے ایسا کیوں نہ کرسکے۔ بینکوں کے مساوی سرمائے سے متعلق قواعد کا سامنا کرتے ہوئے، مگر بینکوں جیسی لیکویڈیٹی سہولت سے محروم رہتے ہوئے، بینکوں نے مقابلے کی دوڑ میں شامل ہونے کے بجائے اپنے ممکنہ حریفوں کو ہی خرید لیا۔
بڑے میوچل فنڈز اور اثاثہ جاتی انتظام کار بینکوں کے ذیلی ادارے ہیں، حریف نہیں۔ لیکن کیا یہ صورتِ حال محض ضابطہ کاری کا اتفاق ہے یا اسی کا ڈیزائن؟ حکومت اور اسٹیٹ بینک کو بینکوں کے مقابلے میں مسابقت میں کوئی دلچسپی نہیں۔ دونوں نے عملاً غیر بینکاری مالیاتی اداروں کو سکڑنے پر مجبور کردیا اور منی مارکیٹ و زرمبادلہ مارکیٹ بینکوں کے حوالے کردی۔
کیا بینکاری میں سستی ہے؟
مسعود کے مؤقف کا جواب دینے سے پہلے اسے منصفانہ انداز میں بیان کرنا ضروری ہے۔ وہ اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ پاکستان میں نجی شعبے کو قرضوں کا تناسب کم ہے؛ ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجوہ ایسی ہیں جن پر بینکوں کا اختیار نہیں۔ وہ محض دعوے کے بجائے ایک متبادل مفروضے کے ذریعے اپنا مقدمہ پیش کرتے ہیں۔
بھارت میں نجی شعبے کو قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب 44 فیصد اور بنگلہ دیش میں 34 فیصد ہے۔ اگر ان اعداد کو ان تین پابندیوں کے مطابق ازسرنو ایڈجسٹ کیا جائے جن کا سامنا پاکستان کو ہے مگر ان دونوں ممالک کو نہیں، تو تصویر بدل جاتی ہے۔ پہلی پابندی نقدی پر زیادہ انحصار کرنے والی معیشت ہے، جہاں وسیع زر کی مجموعی مقدار کا 28 فیصد بینکاری نظام سے باہر گردش کرتا ہے، جبکہ دونوں ہمسایہ ممالک میں یہ تناسب 13 فیصد ہے۔ دوسری نصف دستاویزی معیشت ہے، جہاں جی ڈی پی کا 50 فیصد ٹیکس دائرے سے باہر ہے، جبکہ بھارت میں غیر رسمی معیشت کا حصہ 18 فیصد اور بنگلہ دیش میں 30 فیصد ہے۔ تیسری ریاست کا بینکوں کے بیلنس شیٹ پر غلبہ ہے، جہاں سرکاری سیکیورٹیز بینکوں کے 55 سے 60 فیصد اثاثے جذب کیے ہوئے ہیں، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ تناسب 20 سے 21 فیصد ہے۔
ان تینوں عوامل کو یکجا کرکے ایڈجسٹ کیا جائے تو بھارت کا 44 فیصد تناسب تقریباً 13 فیصد رہ جاتا ہے، جبکہ بنگلہ دیش کا 34 فیصد تقریباً 12 فیصد تک گر جاتا ہے۔ سری لنکا پر یہی طریقہ لاگو کیا جائے تو شرح بھی تقریباً 11 فیصد بنتی ہے۔ پاکستان کی حقیقی شرح 11 فیصد کے مقابلے میں خطے کا وہ نمایاں فرق، جسے ہمارے بینکوں کو سست قرار دینے کے لیے اکثر پیش کیا جاتا ہے، دراصل زیادہ تر ساخت کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، رویے کا نہیں۔ مسعود کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق، اگر پاکستانی بینکوں کو اسی نقدی پر مبنی، غیر دستاویزی اور مالیاتی دباؤ کا شکار معیشت میں کام کرنے دیا جائے تو وہ تقریباً اسی شرح سے قرض دیتے ہیں جس شرح پر کوئی اور ادارہ دے گا۔
جدت کہاں تلاش کی جارہی ہے اور یہ غلط جگہ کیوں ہے؟
مسعود راست اور ون لنک کی مثال دیتے ہیں، جو سالانہ تقریباً 125 کھرب روپے کی ادائیگیوں کا نظام چلا رہے ہیں، اور مستقبل میں نادرا، ٹیکس اور اراضی کے ریکارڈ کو باہم مربوط کرنے والے ڈیٹا ایکسچینج کے ساتھ ساتھ ایس ایم ای اور ہاؤسنگ فنانس کے لیے کوڈیٹ طرز کے ضمانتی اداروں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
کاردار تبدیلی کی جگہ کہیں اور تلاش کرتے ہیں: ان کے نزدیک نئے مالیاتی مصنوعات متعارف کرانے کے بجائے ضابطہ کاری کی ازسرنو تشکیل ضروری ہے، یعنی بینک اور غیر بینکاری مالیاتی اداروں کے درمیان حد بندی کے تحفظ کے بجائے کام کی بنیاد پر نگرانی کا نظام اپنایا جائے۔ دونوں تجاویز مفید اصلاحات ہیں۔ لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ دونوں میں سے کوئی بھی اس بنیادی مسئلے کو نہیں چھیڑتا کہ ایسی کوئی صورت کیسے پیدا ہو جس میں رقم بینک کی بیلنس شیٹ سے باہر منتقل، قیمت دار یا محفوظ ہوسکے۔ مسعود کے ادائیگی کے نظام بھی بینکوں کے ذریعے رقوم منتقل کرتے ہیں؛ ان کی ضمانتیں بھی مزید بینکاری قرضوں کو کم خطرہ بناتی ہیں۔
کاردار کی تجویز بھی بنیادی طور پر بینکوں کو ان غیر بینکاری مالیاتی اداروں پر قبضہ کرنے سے روکنے تک محدود ہے جو ان کے لیے چیلنج بن سکتے تھے، بجائے اس کے کہ نئے غیر بینکاری ذرائع تشکیل دیے جائیں۔ دونوں مصنفین کی نظر میں جدت کا مطلب یہ نہیں کہ مسابقت باہر سے آئے—مثلاً بانڈ مارکیٹ، آزاد اثاثہ جاتی منتظم، کریڈٹ یونین یا غیر بینکاری زرمبادلہ ڈیلر۔ دونوں اسی ایک پائپ کے لیے بہتر نظامِ ترسیل کی بات کر رہے ہیں، جبکہ اصل کمی یہ ہے کہ یہاں صرف ایک ہی پائپ موجود ہے۔
غلط سوال
مجھے خدشہ ہے کہ ہم غلط سوال پر بحث کر رہے ہیں۔ یہ سوال کہ بینک جی ڈی پی کے مقابلے میں بہت کم قرض دے رہے ہیں، محض ایک مفروضہ ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک جس بینکوں پر مبنی ماڈل کو نافذ کر رہا ہے، وہ ترقی کو سہارا دینے والی مسابقتی مالیاتی مارکیٹ قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔
ایسی مارکیٹ میں بچت کرنے والوں اور سرمایہ کاروں کو اجارہ داری کے بجائے انتخاب کی ایک پوری فہرست دستیاب ہونی چاہیے—ریٹیل ٹی بل اور پی آئی بی مارکیٹ، فعال ریپو اور ثانوی بانڈ مارکیٹ، فنڈز کی کھلی تقسیم، مسابقتی زرمبادلہ، ایکویٹی، ڈیریویٹو اور کموڈیٹی مارکیٹس۔ آج پاکستان کے شہریوں کو وہ خطرات کے انتظام اور زندگی کے مختلف مراحل کے لیے درکار مالیاتی ذرائع دستیاب نہیں جو ایک جدید بچت کنندہ کو درکار ہوتے ہیں۔ چنانچہ سرمایہ کاری کم رہنے پر حیرت نہیں ہونی چاہیے، اور نہ ہی اس پر کہ سرمایہ بیرونِ ملک منتقل ہوجاتا ہے یا محض سونے میں پڑا رہتا ہے۔
کارکردگی کی دیانت دارانہ پیمائش
مالیاتی شعبے میں کارکردگی صرف قرضوں کے تناسب سے نہیں ناپی جاسکتی۔ لاگت کی کارکردگی کا سوال یہ ہے کہ بچت کی رقوم کتنی کم لاگت سے قرض لینے والوں تک پہنچتی ہیں۔ پاکستان اس پیمانے پر واضح طور پر ناکام ہے، کیونکہ اگست 2026 میں قرض اور ڈپازٹ کی شرحوں کے درمیان فرق 7.82 پوائنٹس تھا، جبکہ بھارت میں یہ فرق ایک دہائی کی کم ترین سطح 2.71 پوائنٹس تک آگیا ہے۔
وسائل کی مؤثر تقسیم کا سوال یہ ہے کہ سرمایہ اپنے بہترین استعمال تک پہنچ رہا ہے یا نہیں۔ یہاں ناکامی سب سے زیادہ نمایاں ہے، کیونکہ بینکوں کے 55 سے 62 فیصد اثاثے سرکاری کاغذات میں لگے ہوئے ہیں، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ تناسب 20 سے 21 فیصد ہے۔
معلوماتی کارکردگی کا سوال یہ ہے کہ قیمتیں حقیقی معلومات کی عکاسی کرتی ہیں یا نہیں۔ جب اسٹاک اکاؤنٹس رکھنے والی آبادی 0.5 فیصد سے بھی کم ہو تو اس پیمانے پر ناکامی کے لیے بھی بمشکل کوئی مارکیٹ موجود ہے۔
صرف ادارہ جاتی منافع اور ایکویٹی پر منافع کی بنیاد پر پاکستانی بینکاری کو ’’موثر‘‘ قرار دیا جاسکتا ہے—اور وہ بھی اس لیے کہ طریقۂ کار قیمت مقرر کرنے کی طاقت کو پیداواریت سمجھ کر اس کا صلہ دیتا ہے۔ یہ محض پیمائش کی خامی نہیں، بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں بینکاری ایک محفوظ شعبہ ہے جسے کسی مسابقتی دباؤ کا سامنا نہیں۔
مارکیٹ نہیں، کارٹل
کاردار جسے ساختی برتری اور مسعود جسے ماحول سے پیدا ہونے والی پابندی قرار دیتے ہیں، اس کے لیے ایک سادہ لفظ ہے: کارٹل۔
چند بند اداروں پر مشتمل ایک محدود حلقہ، جسے نئے حریفوں کے داخلے سے تحفظ حاصل ہو اور جس پر مسابقتی دباؤ نہ ہو، ایسے نگران ادارے کے زیرِ نگرانی کام کر رہا ہے جس نے بینکوں کو محفوظ رکھنے اور انہیں بلا مقابلہ رکھنے کے درمیان فرق کو خلط ملط کردیا ہے۔
دیکھیں کہ جدت کہاں آنی چاہیے تھی۔ میوچل فنڈز، منی مارکیٹ اور زرمبادلہ—دنیا کے دیگر حصوں میں ان شعبوں میں آزاد اثاثہ جاتی منتظمین قیمت کی بنیاد پر ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں۔ یہاں یہ سب بینکوں کی بیلنس شیٹس میں سمو دیے گئے ہیں۔ اثاثہ جاتی انتظامی کمپنیاں بینکوں کے ذیلی ادارے ہیں۔
زرمبادلہ کا کاروبار صرف مجاز ڈیلر بینکوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ منی مارکیٹ فنڈز بھی بنیادی طور پر ڈپازٹس کو انہی مالیاتی آلات میں دوبارہ لگاتے ہیں جو بینک پہلے ہی اپنے پاس رکھتے ہیں۔ ہر وہ شعبہ جسے موجودہ اداروں پر مسابقتی دباؤ ڈالنا تھا، بالآخر انہی کے قبضے میں چلا گیا۔
عوام کو اس کی قیمت دو مرتبہ ادا کرنا پڑتی ہے۔ مسابقتی نگرانی نہ ہونے کے باعث فیس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ کلیئرنگ کا عمل ایسی مدت میں مکمل ہوتا ہے جسے کسی مسابقتی مارکیٹ میں برداشت نہ کیا جائے، جبکہ تاخیر کے دوران بینک اس رقم پر فلوٹ کی آمدنی حاصل کرتے ہیں۔
ضابطوں کی پابندی بھی یک طرفہ ہے۔ کے وائی سی اور اے ایم ایل، جن کا مقصد مالیاتی نظام کا تحفظ ہے، کھاتہ داروں کے ساتھ اس وقت تک مجرم جیسا برتاؤ کرتے ہیں جب تک وہ بے گناہی ثابت نہ کردیں—اکاؤنٹس منجمد کیے جاتے ہیں، سوالات بڑھتے جاتے ہیں—جبکہ یہ تقاضے عائد کرنے والے ادارے خود اپنی خدمات یا قیمتوں کے حوالے سے ایسی ہی نگرانی کا سامنا نہیں کرتے۔
اس کے نیچے سب سے واضح ثبوت موجود ہے۔ اسٹیٹ بینک اوپن مارکیٹ آپریشنز کے ذریعے لیکویڈیٹی فراہم کرتا ہے؛ بینک یہ رقم براہِ راست سرکاری سیکیورٹیز میں لگا دیتے ہیں اور شرحوں کے فرق سے منافع کماتے ہیں۔ یوں مرکزی بینک انہی اداروں کو فنڈ فراہم کرتا ہے جو پھر وہی رقم منافع کے عوض ریاست کو واپس قرض دے دیتے ہیں، بغیر کسی کریڈٹ رسک اور بغیر قرض کی فراہمی کے کسی ابتدائی کوشش کے۔
یہی کاردار کا ’’دو ہندسوں پر مشتمل، خطرے سے پاک منافع‘‘ ہے، اگر اسے واجبات کی جانب سے دیکھا جائے۔ اسٹیٹ بینک مالیاتی غلبے کو محض برداشت نہیں کر رہا؛ وہ دراصل اسی غلبے کی مالی اعانت کر رہا ہے۔
یہ کسی بھی طور صلاحیت کی ناکامی نہیں۔ پاکستان کے بینک عالمی معیار کی تنخواہیں لینے والے قابل اور اعلیٰ پیشہ ورانہ اسناد رکھنے والے افسران چلا رہے ہیں۔ لیکن ایک محفوظ دائرے کے اندر موجود صلاحیت کا نتیجہ عین یہی نکلتا ہے: کم خطرے، کم جدت اور زیادہ فیس پر مبنی کاروبار کا بھاری معاوضوں پر انتظام، نہ کہ وہ مسابقت جو یہی صلاحیت اس وقت پیدا کرسکتی ہے جب اسے مارکیٹ میں حصے کے لیے حقیقی مقابلہ کرنا پڑے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ مقابلے کے لیے کوئی حریف موجود ہی نہیں—اور اس کی سب سے واضح علامت یہ ہے کہ نئے مکمل خدمات فراہم کرنے والے بینکنگ لائسنس کا حصول تقریباً ناممکن ہے۔ جو نگران ادارہ کارٹل نہیں بلکہ ایک حقیقی مارکیٹ چاہتا ہو، وہ مارکیٹ میں داخلے کو مخصوص گروہ کی رکنیت کے بجائے خطرے کی بنیاد پر ممکن بناتا ہے۔
یہ کسی فرد کے کردار پر فردِ جرم نہیں۔ یہ اس توازن پر فردِ جرم ہے جسے بینک اور حکومت دونوں برقرار رکھنا چاہتے ہیں: حکومت کو اپنے قرضوں کے لیے ایک یقینی خریدار اور شرحِ سود پر خاموش اثر و رسوخ حاصل رہتا ہے، جبکہ بینکوں کو مسابقت کے بغیر بڑے پیمانے پر کاروبار اور منافع ملتا ہے۔
مسعود اس بات میں درست ہوسکتے ہیں کہ بینکار ذاتی طور پر قصوروار نہیں۔ لیکن کھلاڑیوں کو بری الذمہ قرار دینے سے کھیل کا میدان بری الذمہ نہیں ہوجاتا۔ اصل امتحان یہ نہیں کہ بینک منافع بخش رہتے ہیں یا نہیں—وہ رہیں گے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک بچت کنندہ اپنی رقم ڈپازٹ کے علاوہ کہیں اور سرمایہ کاری کرسکتا ہے؟ کیا حکومتی قرض حقیقی مارکیٹ میں خرید و فروخت ہوتا ہے؟ کیا پنشن فنڈ بینک کو درمیان میں لائے بغیر پی آئی بی خرید سکتا ہے؟ اس پیمانے پر ’’مختلف میدان‘‘ کوئی دفاع نہیں بلکہ اعتراف ہے۔
کیا تبدیل ہونا چاہیے
قرضہ جاتی مارکیٹ قائم کی جائے: نیشنل سیونگز اور ڈیبٹ آفس کو ضم کرکے ایس ای سی پی کے مساوی ایک بااختیار ادارہ قائم کیا جائے، جو گھرانوں اور پنشن فنڈز کو سرکاری سیکیورٹیز تک براہِ راست ڈیجیٹل رسائی فراہم کرے۔ غیر بینکاری پرائمری ڈیلرز کو ریپو اور سیکیورٹیز مارکیٹ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔
فنڈز کی کھلی تقسیم کا نظام لازم قرار دیا جائے۔ زرمبادلہ کی مارکیٹ کو باقاعدہ ضابطوں کے تحت کام کرنے والے غیر بینکاری اداروں کے لیے وسیع کیا جائے۔ بینکاری کو قابلِ مسابقت بنایا جائے: خطرے کی بنیاد پر لائسنسنگ، اوپن مارکیٹ آپریشنز کے اعداد و شمار کی اشاعت، فیس کے عوامی معیارات اور ایسی ضابطہ کاری جو خطرے کو ہدف بنائے، نہ کہ پہلے سے کسی کو قصوروار سمجھے۔
کریڈٹ یونینز اور علاقائی کوآپریٹو بینکوں کو الگ اور نسبتاً کم ضابطہ کاری والے درجے کے طور پر لائسنس دیا جائے۔ جرمنی میں اسپارکاسن بینکاری اثاثوں کا تقریباً نصف رکھتے ہیں؛ پاکستان میں اس نوعیت کا کوئی قابلِ ذکر متبادل موجود نہیں۔
ضابطہ کاری کو مارکیٹ کے تحفظ سے الگ کیا جائے: اسٹیٹ بینک کو نظامی خطرات کی نگرانی تک محدود رکھا جائے، جبکہ ایس ای سی پی مارکیٹیں تشکیل دے اور مسابقتی کمیشن اس امر کا جائزہ لے کہ آیا شعبے کی ساخت خود مسابقت کی راہ میں رکاوٹ تو نہیں بن رہی۔
صرف قرض نہیں، ایکویٹی بھی
ہم بینکوں پر اس قدر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، جہاں اسٹیٹ بینک خطرے سے گریز کرنے والے کارٹل کے محافظ کا کردار ادا کرتا دکھائی دیتا ہے، کہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک نوجوان اور ترقی کرتی ہوئی معیشت کو صرف قرض نہیں بلکہ خطرہ برداشت کرنے والا سرمایہ بھی درکار ہوتا ہے۔ جی ڈی پی کے قریب 10 فیصد کا ایکویٹی تناسب سرے سے ہی غلط ذریعہ ہے۔
قرض نتائج سے قطع نظر مقررہ ادائیگی کا تقاضا کرتا ہے اور خیالات کے بجائے ضمانت کو ترجیح دیتا ہے؛ اس لیے اس کا جھکاؤ فطری طور پر بڑے قرض لینے والوں اور سب سے محفوظ اثاثے یعنی ریاست کی جانب ہوتا ہے۔
جس معیشت میں 80 فیصد مالیاتی دعوے قرض کی شکل میں ہوں اور بمشکل ایک دسویں حصے کے برابر ایکویٹی ہو، اس نے ایسا نظام تشکیل دیا ہے جو خطرے سے بچنے کے لیے بنایا گیا ہے، عین اس وقت جب ترقی کے لیے خطرہ مول لینا ضروری ہوتا ہے۔
اسی لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور نئے کاروباری منصوبوں کے لیے مالی اعانت کا خلا برقرار ہے، حالانکہ قرضوں میں اضافہ بظاہر معقول دکھائی دیتا ہے۔ بینک ضمانت کے عوض قرض دیتے ہیں، لیکن ایسے نئے ادارے یا پہلی مرتبہ کاروبار شروع کرنے والے ایسے افراد کو سرمایہ فراہم کرنے والا کوئی نہیں جن کے پاس خیالات تو ہیں مگر گروی رکھنے کے لیے اثاثے نہیں۔
جنوبی کوریا، ویتنام اور بھارت نے اپنی ترقی میں جزوی طور پر اس لیے پیش رفت کی کہ انہوں نے اپنی بیلنس شیٹس میں محفوظ اثاثوں کے ساتھ ساتھ خطرہ برداشت کرنے والے سرمائے کا حصہ بھی بڑھایا۔
پاکستان نے اس کے برعکس راستہ اختیار کیا ہے—ایسی استحکام کی خاطر مالی اعانت کی جس کا وہ حقیقت میں حامل نہیں، بجائے اس ترقی کے جس کی اسے ضرورت ہے۔ اور بحث اب بھی بینکوں ہی کے گرد گھوم رہی ہے، جو دنیا کی ترقی کرتی ہوئی معیشتوں کے تجربے سے بالکل الٹ سمت ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026