لوگ سگریٹ نوشی کیوں نہیں چھوڑتے؟
- نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کو اکثر جوانی میں قدم رکھنے کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے، مریض سے سچائی سے کہیں کہ تمباکو نوشی چھوڑنا آسان نہیں، پہلے ترک یا کم کرنے کی کوشش کریں ورنہ متبادل اختیار کرکے شدید نقصان سے بچیں
ہر روز اپنے کلینک میں میری متعدد مریضوں سے ایک ہی طرح کی گفتگو ہوتی ہے۔ ان میں سے کئی مریض بارہا سگریٹ نوشی ترک کرنے کی کوشش کر چکے ہیں، لیکن ہر بار دوبارہ سگریٹ پینا شروع کر دیتے ہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ وہ اس کے نقصانات سے لاعلم ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ سگریٹ نوشی کتنی نقصان دہ ہے۔ وہ سگریٹ کے پیکٹ پر درج انتباہات بے شمار مرتبہ پڑھ چکے ہیں۔ انہیں اپنی صحت اور معیارِ زندگی کی بھی فکر ہے۔ اس کے باوجود وہ سگریٹ نوشی سے نجات حاصل نہیں کر پاتے۔
یہ صورتحال صرف میرے کلینک تک محدود نہیں ہے۔ تمباکو کا استعمال موجودہ اور سابقہ دونوں طرح کے سگریٹ نوش افراد میں پھیپھڑوں کے سرطان اور قلبی امراض سے بدستور منسلک ہے۔ خطرات سے آگاہی کے باوجود ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں ممالک میں سگریٹ نوشی جاری رکھنے والے افراد کی تعداد اب بھی زیادہ ہے۔
نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کو اکثر جوانی میں قدم رکھنے کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے، جبکہ ہم عمروں کا دباؤ ابتدائی مرحلے میں مداخلت کو مشکل بنا دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماریاں ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور سانس کی بیماریاں عموماً بعد کی عمر، یعنی درمیانی عمر اور اس کے بعد ظاہر ہوتی ہیں۔
یہ ایک واضح سوال اٹھاتا ہے : جب اتنے لوگ جانتے ہیں کہ سگریٹ نوشی دل پر کتنا بوجھ ڈالتی ہے اور سرطان کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے تو پھر اتنے زیادہ لوگ سگریٹ نوشی کیوں جاری رکھتے ہیں؟ اس کا جواب ہر شخص کے لیے یکساں نہیں ہے۔ کچھ لوگ اپنے اردگرد کے لوگوں کو سگریٹ نوشی کے نتائج بھگتتے دیکھ کر اسے ترک کر دیتے ہیں۔ جبکہ کچھ لوگ خطرے کی علامات کتنی ہی واضح کیوں نہ ہو جائیں، سگریٹ نوشی چھوڑ نہیں پاتے۔
مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریباً 80 فیصد سگریٹ نوش افراد سگریٹ نوشی ترک کرنا چاہتے ہیں، تاہم دوبارہ سگریٹ نوشی شروع کرنے کی شرح بدستور بہت زیادہ ہے۔ ارادے اور عملی نتیجے کے درمیان یہ فرق محض قوتِ ارادی کے بارے میں کم اور خود نشے کی نوعیت کے بارے میں زیادہ بتاتا ہے، جو بیک وقت جسمانی، نفسیاتی اور رویّوں سے متعلق ہوتی ہے۔
طب کے شعبے میں کئی سال گزارنے کے بعد میں ایک ایسی تلخ حقیقت کو تسلیم کرنے لگا ہوں جو شاید سننا آسان نہیں : لوگوں کو صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ وہ سگریٹ نوشی چھوڑ دیں اور ایک ایسے ڈاکٹر کی حیثیت سے جو چاہتا ہے کہ اس کے مریض اپنی بہترین ممکنہ زندگی گزاریں، میری ذمہ داری ہے کہ میں انہیں بہتر زندگی کی طرف جانے کا راستہ تلاش کرنے میں مدد دوں، بجائے اس کے کہ انہیں خود ہی یہ راستہ تلاش کرنے کے لیے کہوں اور اب ہمارے پاس موجود معلومات کی بدولت انہیں بہتر طرزِ زندگی کی طرف رہنمائی کرنا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔
اپنی گفتگو کے دوران ایک بات جو اکثر لوگوں کو حیران کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ سگریٹ نوشی سے متعلق بیماریوں کی بنیادی وجہ نکوٹین نہیں ہے۔ ایک سگریٹ جلانے سے تقریباً 7,000 کیمیائی مرکبات خارج ہوتے ہیں اور سائنس نے ایک کے بعد ایک مطالعے کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ نقصان کی اصل وجہ نکوٹین نہیں بلکہ سگریٹ کا جلنا یعنی احتراق ہے۔
600 ڈگری سیلسیس سے زیادہ درجۂ حرارت پر ہر کش کے ساتھ کاربن مونو آکسائیڈ، ٹار اور سرطان پیدا کرنے والے متعدد کیمیائی مادے پھیپھڑوں میں داخل ہوتے ہیں۔ نکوٹین کا کردار مختلف ہے : یہ وہ مادہ ہے جو نشے کو برقرار رکھتا ہے۔ یہ دماغ پر اس طرح اثر انداز ہوتی ہے کہ حقیقی جسمانی انحصار پیدا ہو جاتا ہے اور نکوٹین کی کمی کی صورت میں چڑچڑاپن، افسردہ مزاج، بے چینی، بے خوابی اور شدید طلب جیسی علامات پیدا ہوتی ہیں، جن کی شدت اکثر سگریٹ نوشی سے پرہیز کو دوبارہ سگریٹ نوشی شروع کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
نشے کا رویّوں سے متعلق پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے۔ بہت سے سگریٹ نوش افراد مخصوص حالات میں سگریٹ کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں، مثلاً گاڑی چلاتے ہوئے، دوستوں کے ساتھ میل جول کے دوران، قطار میں کھڑے ہوتے وقت یا محض ذہنی دباؤ محسوس ہونے پر۔ لہٰذا سگریٹ نوشی کم کرنے کی کسی بھی سنجیدہ کوشش میں کیمیائی عوامل کے ساتھ ساتھ ان محرکات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ نشے کو سمجھنے کا مطلب ان تینوں پہلوؤں کو ایک ساتھ سمجھنا ہے : لوگ اکثر اس لیے سگریٹ نوشی جاری رکھتے ہیں کیونکہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے فوائد اب بھی اس کے خطرات سے زیادہ ہیں۔
نکوٹین اور سگریٹ کے جلنے کے عمل کے درمیان یہ فرق انتہائی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس سے یہ بنیادی طور پر تبدیل ہو جاتا ہے کہ ہم تمباکو کے استعمال سے کیسے نمٹتے ہیں۔
اس معاملے میں صحتِ عامہ سے وابستہ حلقے بعض اوقات خود اپنے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوئے ہیں۔ متبادل طریقوں کے نقصانات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا یا کم خطرے والی مصنوعات کے حوالے سے کسی بھی اعتراف کو نامناسب سمجھنا ان ہی لوگوں کو ہم سے دور کر دیتا ہے جن تک پہنچنا ہمارے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے۔ اس طرزِ عمل میں اس سائنسی شواہد کو بھی مکمل طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے جس سے ظاہر ہوا ہے کہ نکوٹین پہنچانے کے لیے دھوئیں کے بغیر استعمال کیے جانے والے طریقے، اگرچہ مکمل طور پر بے ضرر نہیں، تاہم سگریٹ کے مقابلے میں ایک بہتر متبادل ہیں۔
کسی مریض کو واضح اور ایماندارانہ انداز میں یہ بتانا کہ دھوئیں سے پاک زندگی کی طرف اس کا سفر شاید اتنا آسان نہ ہو جتنا اسے بتایا گیا ہے، جھوٹ نہیں ہے۔ سگریٹ نوش افراد کے لیے میرا پہلا مشورہ ہمیشہ سادہ ہوتا ہے : چاہے یہ آسان نہ ہو، سگریٹ چھوڑنے کی کوشش کریں۔ اگر آج سگریٹ نوشی ترک نہیں کر سکتے تو اسے کم کریں لیکن اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو متبادل اختیار کریں۔ یہ سگریٹ نوشی سے نکلنے کی جانب پہلا قدم ہے۔ اگرچہ اس سے مکمل طور پر سگریٹ نوشی ترک نہ بھی ہو، پھر بھی یہ سگریٹ نوش کو اس بڑے نقصان سے محفوظ رکھتا ہے جو سگریٹ کے جلنے سے پیدا ہوتا ہے۔ آخرکار بہتری کا سفر ہمیشہ سیدھی لکیر میں آگے بڑھنا ضروری نہیں۔
کئی دہائیوں سے جاری انسدادِ سگریٹ نوشی مہمات کچھ پیش رفت کا دعویٰ کر سکتی ہیں۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں اربوں لوگ اب بھی سگریٹ نوشی کرتے ہیں اور مزید لوگ بھی اسے شروع کر سکتے ہیں۔ بامعنی کامیابی کی کمی نے ہمیں صرف ’سگریٹ چھوڑو یا کچھ نہیں‘ کے طریقۂ کار کی حدود سے آگاہ کیا ہے۔ لہٰذا طب اور صحتِ عامہ سے وابستہ اپنے ساتھیوں سے میں یہ کہنا چاہوں گا : ہمارا کام لوگوں کے کیے گئے انتخاب پر فیصلہ سنانا نہیں، بلکہ انہیں درست اور شواہد پر مبنی معلومات فراہم کرنا ہے تاکہ وہ سمجھ داری سے اپنے فیصلے کر سکیں۔
ایسی پالیسی جو قابلِ پیمائش نتائج کے بجائے نظریاتی پاکیزگی کو ترجیح دے، صحتِ عامہ کی پالیسی نہیں بلکہ محض ایک طرزِ عمل ہے۔ سگریٹ نوش افراد اس سے بہتر رویے کے مستحق ہیں۔ انہیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ان کے لیے ایک ایسا کم نقصان دہ راستہ بھی موجود ہے جو انہیں بہتر مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026