✕
رائے

پاکستان کو درپیش توانائی کا بحران

  • پاکستان کو صرف مہنگی توانائی نہیں بلکہ توانائی کی حقیقی دستیابی کے بحران کا سامنا ہے، جس کے اثرات گھریلو بجٹ، صنعت، زراعت اور بجلی کے شعبے تک پھیل سکتے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کو توانائی کے ایسے شدید بحران کا سامنا ہے جو تیزی سے معاشی اور سماجی بحران کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ آبنائے ہرمز میں خلل اور بحیرہ احمر کے گرد جاری غیر یقینی صورت حال نے توانائی کے مسئلے کو محض قیمتوں کے سوال سے نکال کر اس کی حقیقی دستیابی کا مسئلہ بنا دیا ہے۔

تیل اور ایل این جی کی ترسیل دباؤ کا شکار ہے، ایشیائی خریدار متبادل کارگوز کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان کے پاس اپنے بڑے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں مالی اور رسدی تحفظ کے وسائل بھی محدود ہیں۔

اصل خطرہ اب صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ گھریلو بجٹ، کارخانوں، زراعت، بجلی کی فراہمی اور روزگار تک پہنچ سکتا ہے۔ آنے والی سردیاں پاکستان کی معاشی لچک کا فیصلہ کن امتحان بن سکتی ہیں۔

موجودہ بحران محض مہنگے تیل کے ایک اور دور سے مختلف ہے۔ فوری تشویش یہ ہے کہ آیا پاکستان تک مطلوبہ مقدار میں توانائی حقیقتاً پہنچ بھی سکے گی اور اگر پہنچے گی تو کس قیمت پر۔

آبنائے ہرمز سے معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس میں خلل نے ایشیا کو خاص طور پر متاثر کیا ہے، جبکہ بحیرہ احمر کا مسئلہ متبادل رسدی راستوں کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اندازے کے مطابق اس خلل سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد ایل این جی کی فراہمی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

پاکستان اس صورت حال سے خاص طور پر متاثر ہوسکتا ہے کیونکہ ایل این جی اس کے بجلی اور صنعتی نظام کا بنیادی حصہ ہے۔ قطری ایل این جی پر انحصار نے اسے خلیجی ممالک سے توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں کے مقابلے میں زیادہ کمزور بنا دیا ہے، جس کے باعث پاکستان کو انتہائی مہنگی اور بڑھتے ہوئے مسابقتی اسپاٹ مارکیٹ کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔

فوری طور پر ایک مشکل صورت حال سامنے ہے۔ بجلی پیدا کرنے کے لیے درکار گیس کا مقابلہ صنعت، کھاد سازی اور گھریلو صارفین کی ضروریات سے ہوگا۔ مہنگے متبادل ایندھن بعض بجلی گھروں کو چلتا رکھ سکتے ہیں، لیکن اس کی لاگت براہِ راست بجلی کے نرخوں اور وسیع تر معیشت پر منتقل ہوگی۔

پاکستان اس بحران کا سامنا کرنے والا واحد ملک نہیں۔ فرق صرف دستیاب حفاظتی وسائل کا ہے جو اس بحران کے اثرات کو برداشت کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

بنگلہ دیش، جو پاکستان کی طرح ایل این جی پر انحصار کرنے والی جنوبی ایشیائی معیشت ہے، پہلے ہی گیس کی قلت، بجلی کی بندش اور کارخانوں کی بندش کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کی حکومت متبادل ایل این جی کارگوز کے حصول کے لیے تگ و دو کر رہی ہے، جبکہ شمسی توانائی کے زیادہ استعمال اور دیگر ایندھن کے متبادل پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

بھارت کو بھی توانائی کی زیادہ قیمتوں اور خلیجی ممالک سے ترسیل میں رکاوٹوں کا سامنا ہے، تاہم اس کی کہیں بڑی ریفائننگ صلاحیت، خام تیل کے متنوع ذرائع، ذخائر اور زرمبادلہ کے ذخائر اسے صورت حال سے نمٹنے کے لیے زیادہ گنجائش فراہم کرتے ہیں۔

اس سے ایک اہم سبق ملتا ہے: ایشیا کی کوئی بھی بڑی معیشت اس بحران سے محفوظ نہیں، تاہم متنوع رسدی ذرائع اور زیادہ مالی وسائل رکھنے والے ممالک زیادہ عرصے تک اس جھٹکے کو برداشت کرسکتے ہیں۔

پاکستان کے عوام کے لیے توانائی کا یہ بحران اب روزمرہ زندگی کے بحران میں تبدیل ہوچکا ہے۔ پٹرول کی قیمت پہلے ہی تقریباً 391 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت تقریباً 425 روپے فی لیٹر ہے۔

ایک عام پاکستانی خاندان کے لیے یہ محض آمدورفت کا خرچ نہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتیں روزانہ سفر، پبلک ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش کی ترسیل اور زرعی سرگرمیوں کی لاگت بڑھاتی ہیں۔ ایل پی جی اور دیگر ایندھن بھی مہنگے ہوجاتے ہیں۔ بالآخر اس کے اثرات تقریباً ہر گھریلو خریداری پر پڑتے ہیں۔

اس کے سماجی اثرات بھی سنگین ہوسکتے ہیں۔ رکشہ ڈرائیور کی آمدنی کم ہوجاتی ہے کیونکہ مسافر زیادہ کرایہ برداشت نہیں کرسکتے؛ کوئی کارخانہ پیداوار کم کردیتا ہے کیونکہ توانائی کی لاگت معاشی طور پر ناقابل برداشت ہوجاتی ہے؛ کسان کو آبپاشی اور نقل وحمل پر زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے؛ جبکہ تنخواہ دار گھرانہ اپنے ماہانہ ایندھن اور بجلی کے بل پورے کرنے کے لیے دیگر اخراجات کم کردیتا ہے۔

یوں توانائی کا بحران قوتِ خرید اور پیداواری صلاحیت میں کمی کا باعث بنتا ہے۔

پاکستان میں حالیہ تجربہ پہلے ہی دکھا چکا ہے کہ توانائی کی قلت کام کے اوقات اور کاروباری سرگرمیوں کو کتنی تیزی سے متاثر کرسکتی ہے۔ حکومت سردیوں میں گیس کی طلب بڑھنے سے پہلے ماضی میں کاروباری اداروں کو جبراً قبل از وقت بند کرنے کی صورت حال دہرانے سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مہنگی بجلی اور غیر فعال آزاد بجلی گھروں کے تضاد کے ساتھ پاکستان کو ایک اور تکلیف دہ صورت حال کا سامنا ہے۔

ملک کے پاس بجلی پیدا کرنے کی خاطر خواہ نصب شدہ صلاحیت موجود ہے، تاہم ایندھن دستیاب نہ ہونے یا بجلی پیدا کرنا بہت مہنگا پڑنے کی صورت میں صارفین کو طویل لوڈشیڈنگ یا محدود فراہمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب ریاست معاہدوں کے تحت بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو گنجائشی ادائیگیاں جاری رکھتی ہے، خواہ ان کی پوری صلاحیت استعمال ہو یا نہ ہو۔ اس کا نتیجہ زیادہ بجلی کے نرخوں کی صورت میں نکلے گا، جس کا بوجھ صارفین کو زیادہ بجلی کے بلوں کی شکل میں برداشت کرنا پڑے گا۔

یہ ایک انتہائی نقصان دہ معاشی تضاد ہے: پاکستان ایسی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کی ادائیگی کر رہا ہے جسے استعمال کرنا اس کے لیے مہنگا ہے، نتیجتاً گردشی قرضہ بڑھ رہا ہے، جبکہ صارفین بیک وقت قلت اور بلند نرخوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

وزارتِ توانائی کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے پہلے 11 ماہ میں آزاد بجلی گھروں کو حکومت کی ادائیگیاں تقریباً 2.94 کھرب روپے رہی ہیں۔

ان ادائیگیوں کو محض غیر قانونی یا ناجائز قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ معاہداتی ذمہ داریوں کے تحت کی جاتی ہیں۔ تاہم جب طلب کمزور ہو، بجلی کی پیداوار محدود کی جا رہی ہو اور ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہوں تو ان ادائیگیوں کا بڑھتا ہوا بوجھ برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

موجودہ بحران اس دائرے کو مزید وسیع کرنے کا خطرہ رکھتا ہے: مہنگا درآمدی ایندھن بجلی کی پیداوار کی لاگت بڑھاتا ہے؛ کم طلب کے باعث بجلی پیدا کرنے کی مزید صلاحیت غیر استعمال شدہ رہتی ہے؛ گنجائشی ادائیگیاں برقرار رہتی ہیں؛ بجلی کے نرخ بڑھتے ہیں؛ صارفین اپنی کھپت مزید کم کرتے ہیں؛ اور توانائی کے شعبے پر مالی بوجھ بڑھتا جاتا ہے۔

پاکستان کو مختلف وزارتوں کے منتشر ردعمل کے بجائے ایک واحد اور مسلسل فعال قومی توانائی کمانڈ کی ضرورت ہے۔

اسے روزانہ کی بنیاد پر ایندھن اور ایل این جی کے ذخائر، تصدیق شدہ کارگوز، بحری راستوں، بجلی پیدا کرنے کی ضروریات اور مختلف قیمتوں کے منظرناموں کے تحت زرمبادلہ کی ضروریات کی نگرانی کرنی چاہیے۔

آبنائے ہرمز کے علاوہ تیل اور ایل این جی کی فراہمی کے ہر ممکن ذریعے کو بروئے کار لایا جانا چاہیے۔ موجودہ مرحلے پر سستا کارگو حاصل کرنے کے مقابلے میں رسد کا تحفظ زیادہ اہم ہے۔

محدود ایل این جی کی تقسیم معاشی ترجیحات کے مطابق ہونی چاہیے، جن میں بجلی کی پیداوار، کھاد سازی، برآمدی صنعتیں، اسپتال اور دیگر بنیادی خدمات شامل ہیں۔

توانائی کے تحفظ کا آغاز خود حکومت سے ہونا چاہیے۔ سرکاری ایندھن کے استعمال، سرکاری گاڑیوں کی خریداری اور بیرون ملک سرکاری دوروں میں حالیہ اعلان کردہ کمی ایک مناسب قدم ہے، تاہم اسے طلب کے وسیع تر انتظامی پروگرام کا حصہ بنانا ہوگا۔

صارفین کے لیے امداد غیر امتیازی سبسڈی کے بجائے مستحق اور کمزور گھرانوں تک محدود ہونی چاہیے۔ پٹرول کو نہیں بلکہ لوگوں کو سبسڈی دی جائے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت کو طویل عرصے تک جاری رہنے والی رکاوٹ کے لیے تیاری کرنی چاہیے، بجائے اس کے کہ یہ فرض کرلیا جائے کہ آبنائے ہرمز جلد معمول کی صورت حال پر واپس آجائے گی۔

یہ بحران محض ہنگامی انتظامات سے زیادہ اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔

موجودہ بحران ایشیا بھر میں توانائی کی حکمت عملی بھی تبدیل کر رہا ہے۔ ممالک متبادل سپلائرز کی تلاش، ذخائر میں اضافے، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور درآمدی گیس پر انحصار پر نظرثانی کر رہے ہیں۔

پاکستان کو بھی اس اشارے کو سمجھنا چاہیے۔

ملک میں تیزی سے بڑھتی شمسی توانائی پہلے ہی کچھ حد تک تحفظ فراہم کر رہی ہے، تاہم شمسی توانائی اکیلے شام کے اوقات میں بجلی کی طلب کے عروج کا مسئلہ حل نہیں کرسکتی اور نہ ہی پوری معیشت میں گیس کا متبادل بن سکتی ہے۔ توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام، پن بجلی، ایل این جی کے متنوع ذرائع، مقامی وسائل اور بجلی کی طلب کے زیادہ مؤثر انتظام کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

پاکستان کو سفارتی ذرائع بھی بھرپور انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ خلیجی ممالک اور ایران کے ساتھ اس کے تعلقات ایسے ذرائع فراہم کرتے ہیں جن کے ذریعے توانائی کی ترسیل اور بحری نقل وحمل کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ توانائی سفارت کاری اب معاشی سفارت کاری بن چکی ہے۔

آنے والی سردیاں فیصلہ کن ثابت ہوں گی۔

اگر توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ جلد دور ہوجاتی ہے تو موجودہ دباؤ کا کچھ حصہ کم ہوجائے گا۔ لیکن اگر یہ صورت حال برقرار رہی تو پاکستان کو بیک وقت ایندھن، گیس، بجلی، صنعت، اشیائے خورونوش کی قیمتوں، روزگار اور زرمبادلہ کے دباؤ کا سامنا ہوسکتا ہے۔

پاکستان آبنائے ہرمز یا عالمی توانائی کی قیمتوں کو کنٹرول نہیں کرسکتا۔ تاہم وہ یہ طے کرسکتا ہے کہ دستیاب توانائی کا کتنی دانش مندی سے انتظام کیا جائے اور اس کا بوجھ کتنی منصفانہ انداز میں تقسیم کیا جائے۔

خطرہ محض یہ نہیں کہ پاکستان کو ایندھن کی قلت کا سامنا ہوسکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ مہنگی اور غیر یقینی توانائی بتدریج عوام کی قوتِ خرید، صنعتوں کی پیداواری صلاحیت اور بجلی کے نظام کی پائیداری کو متاثر کرسکتی ہے۔

یہ وہ بحران ہے جو پٹرول پمپ سے آگے بڑھ چکا ہے، اور پاکستان کو اس کے لیے فوری طور پر تیاری کرنا ہوگی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026