نیشنل بینک کے پنشنرز پنشن میں اضافے کے حقدار، عدالت نے بینک کی اپیل مسترد کردی
- فیصلے کا مکمل متن تاحال موصول نہیں ہوا، سیکریٹری این بی پی مہناز سالار
نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کے پنشنرز کو وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پنشن میں اضافے کا حقدار قرار دے دیا گیا ہے، کیونکہ وفاقی آئینی عدالت نے طویل عرصے سے جاری پنشن کیس میں بینک کی اپیل مسترد کردی۔
این بی پی کی قائم مقام سیکریٹری مہناز سالار نے جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو جاری نوٹس میں بتایا کہ ایف سی سی نے 16 ستمبر کو سول اپیل نمبر 1688/2021، نیشنل بینک آف پاکستان و دیگر بنام خواجہ عبد الحمید ناصر و دیگر میں فیصلہ سناتے ہوئے بینک کی اپیل مسترد کردی۔
نوٹس میں کہا گیا کہ وفاقی آئینی عدالت پاکستان نے بینک کی اپیل مسترد کردی، جس کے نتیجے میں اس کے پنشنرز اپنی پنشن میں حکومتی اضافے وصول کرنے کے حقدار ہوگئے ہیں مگر فیصلے کا مکمل متن تاحال موصول نہیں ہوا۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے کہا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں این بی پی کو پنشن واجبات سے متعلق اضافی پروویژننگ کرنا پڑسکتی ہے، تاہم ممکنہ رقم فی الحال واضح نہیں۔
ٹاپ لائن کے مطابق تازہ فیصلے کے تحت حکومتی اعلان کردہ پنشن میں اضافے کا فائدہ ان این بی پی پنشنرز کو بھی ملے گا جو سابقہ مقدمے میں فریق نہیں تھے۔
بروکریج ہاؤس نے یاد دلایا کہ لاہور ہائی کورٹ نے 2016 میں پنشنرز کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے این بی پی کو اپنے پنشنرز کی پنشن میں حکومت کی جانب سے اعلان کردہ اضافے دینے کی ہدایت کی تھی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے اس حکم کو معطل کردیا تھا اور مرکزی پنشن کیس کے تحت اضافے صرف ان پنشنرز کو دینے کی ہدایت کی تھی جو مقدمے میں فریق تھے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے اندازے کے مطابق اضافی پنشن پروویژن میں ہر 5 ارب روپے کے اضافے سے این بی پی کی آمدن پر فی حصص 1.1 سے 1.3 روپے کا اضافی بعد از ٹیکس اثر پڑسکتا ہے۔
بروکریج ہاؤس نے بتایا کہ این بی پی نے 2024 میں ماضی کی سروس سے متعلق پنشن اخراجات کی مد میں پہلے ہی 57.5 ارب روپے مختص کیے تھے۔ اس کے مطابق تازہ فیصلے کے بعد بینک کی انتظامیہ کچھ اضافی پروویژننگ کرسکتی ہے، تاہم اس کی مالیت فی الحال واضح نہیں۔
این بی پی کے پنشن سے متعلق اخراجات میں گزشتہ پیش رفت کے بعد پہلے ہی نمایاں اضافہ ہوچکا ہے۔ بینک نے 2024 میں ایک مرتبہ کے 57.5 ارب روپے کے اخراجات ریکارڈ کیے، جس کے باعث پنشن فنڈ کی مجموعی لاگت 2023 کے 4.4 ارب روپے کے مقابلے میں 72.6 ارب روپے تک پہنچ گئی، جس میں مستقل نوعیت کے اخراجات بھی شامل تھے۔
ٹاپ لائن کے مطابق 2025 میں پنشن فنڈ کی لاگت کم ہوکر 8.7 ارب روپے رہ گئی، جس کی بنیادی وجہ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں تبدیلی تھی۔
دریں اثنا این بی پی کی جانب سے ادا کیے جانے والے پنشن فوائد 2024 میں بڑھ کر 20 ارب روپے ہوگئے، جبکہ 2021 سے 2023 کے دوران یہ تاریخی طور پر تقریباً 1.7 سے 1.8 ارب روپے سالانہ رہے تھے۔
نتیجتاً بینک کی خالص قابل ادائیگی پنشن واجبات 2024 میں بڑھ کر 75.6 ارب روپے ہوگئیں، جو 2023 میں 22.9 ارب روپے تھیں۔ ٹاپ لائن نے واضح کیا کہ یہ اعداد و شمار صرف پنشن فنڈ سے متعلق ہیں اور ان میں طبی سہولیات، گریجویٹی اسکیموں اور دیگر واجبات شامل نہیں ہیں۔