پاکستان سعودی دفاعی معاہدے پر عملدرآمد کیلئے پُرعزم ہے، دفتر خارجہ
- کسی بھی فوجی ردعمل کی عملی تفصیلات خفیہ رکھی جائیں گی، سجاد حیدر خان
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے جمعرات کو کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے (ایس ایم ڈی اے) اور سہ فریقی مکہ دفاعی اتحاد پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے، تاہم کسی بھی فوجی ردعمل کی عملی تفصیلات خفیہ رکھی جائیں گی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے ارادوں اور روح کے مطابق ان معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے، تاہم اس بات کی آپریشنل رازداری ضروری ہے کہ طاقت کا استعمال کب، کیسے اور کہاں کیا جائے گا، کن اہداف کے خلاف ہو گا اور اس کے لیے کن ذرائع کا استعمال کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر آپریشنل معاملات کو خفیہ رکھا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ حوثیوں کے مسلسل حملوں کے تناظر میں پاکستان مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ مکرمہ کے مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی شدید مذمت کی اور اس واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے سعودی مسلح افواج کی مستعدی اور بروقت جوابی کارروائی کو بھی سراہا۔
شہباز شریف نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کریں جبکہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کے تقدس و سلامتی کے تحفظ کے لیے پاکستان کی یکجہتی کا اعادہ کیا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی حملے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی، دنیا بھر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کی توہین اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
قبل ازیں رواں ہفتے پاکستان نے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملوں کی بھی مذمت کی تھی۔ دفتر خارجہ کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں پائپ لائن کو نقصان پہنچا اور شہری زخمی ہوئے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 13 ستمبر کو سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کے ساتھ ساتھ خطے میں کشیدگی میں کمی اور امن کی کوششوں کے لیے حمایت کا اعادہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جاری کشیدگی میں اضافے اور اس کے علاقائی امن و سلامتی، بحری آمدورفت اور عالمی توانائی کی فراہمی پر مرتب ہونے والے اثرات پر بدستور تشویش ہے۔ انہوں نے اختلافات کے حل اور مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر اسلام آباد کے زور کا اعادہ کیا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے 15 ستمبر کو پاک بحریہ کی مشق کے دوران پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون میں بھارتی بحری جہاز کی جانب سے کیے گئے جارحانہ اقدام پر بھارت کے سامنے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے نتیجے میں دونوں بحری جہازوں کے درمیان کانٹیکٹ ہوا جبکہ پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور سمندر میں ایسے واقعات کی روک تھام سے متعلق دوطرفہ معاہدوں کی پاسداری کرے۔
دفتر خارجہ نے میڈیا کو لبنان کے ساتھ حالیہ سفارتی رابطوں، شنگھائی تعاون تنظیم کے علاقائی انسداد دہشت گردی ڈھانچے (ایس سی او ریٹس)، پاکستان اور چین کے درمیان سرحدی تعاون اور وزیراعظم شہباز شریف کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک کے آئندہ دورے کے حوالے سے بھی بریفنگ دی۔
ترجمان نے سیکریٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ کی ریٹائرمنٹ کا بھی ذکر کیا اور پاکستان کی سفارتی سروس میں تین دہائیوں سے زائد عرصے تک خدمات انجام دینے پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
کثیرالجہتی محاذ پر ترجمان نے تصدیق کی کہ وزیراعظم شہباز شریف آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطح حصے میں پاکستان کے وفد کی قیادت کریں گے۔ ان کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، دیگر وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام بھی ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اپنے خطاب اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں علاقائی اور عالمی پیش رفت کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف اجاگر کریں گے اور مذاکرات، سفارت کاری، تحمل اور تنازعات کے پُرامن حل کی اہمیت پر زور دیں گے۔ وہ پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، انسداد دہشت گردی، اسلاموفوبیا، عالمی اقتصادی چیلنجز، اقوام متحدہ میں اصلاحات اور گلوبل ساؤتھ کو درپیش مسائل سے متعلق پاکستان کی ترجیحات بھی بیان کریں گے جبکہ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کی صورتحال کی جانب بھی توجہ مبذول کرائیں گے۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ دورے کے دوران وزیراعظم اعلیٰ سطح تقریبات میں شرکت کریں گے اور عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان کے کثیرالجہتی نظام، اقوام متحدہ کے منشور، علاقائی امن اور عالمی تعاون کے لیے عزم کو اجاگر کیا جائے گا۔
سجاد حیدر نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ پاکستان اور چین نے 16 ستمبر کو پاک چین سرحدی مشترکہ کمیشن کو فعال کردیا ہے جبکہ اس کا افتتاحی اجلاس ایک روز قبل اسلام آباد میں وزارت خارجہ میں منعقد ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کی مشترکہ سربراہی میں کام کرنے والا یہ کمیشن سرحدی انتظام، مشترکہ سروے، تجارتی سہولت کاری اور عوامی روابط کے فروغ میں تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا۔