پاکستان کا مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ
- مستقل مندوب عاصم افتخار نے مقبوضہ کشمیر میں طاقت کے بے دریغ استعمال پر او ایچ سی ایچ آر رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے عالمی برادری، بالخصوص سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر تنازع کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے اپنی ہی قراردادوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرے۔
وہ پاکستان کی میزبانی میں سلامتی کونسل کے اریہ فارمولا اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔سفیر نے جموں و کشمیر تنازع کے حل میں مسلسل ناکامی سے لاحق خطرات کو اجاگر کیا، بالخصوص دو جوہری طاقتوں کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں۔
عاصم افتخار نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں (او پی ٹی) اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر (آئی آئی او جے کے) کی صورتحال کو بین الاقوامی قانون کی بالادستی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ساکھ کا مسلسل امتحان قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً آٹھ دہائی قبل سلامتی کونسل نے ایک درجن سے زائد قراردادوں کے ذریعے پُرامن حل کی راہ متعین کی تھی، جس کے تحت جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیر جانب دارانہ استصواب رائے کرایا جانا تھا، تاکہ وہاں کے عوام کی مرضی معلوم کی جاسکے۔
یہ وعدہ تاحال پورا نہیں ہوا، جبکہ بھارتی قابض افواج کے مظالم میں اضافہ ہوا ہے۔ 2018 اور 2019 کی او ایچ سی ایچ آر رپورٹس کے علاوہ اقوام متحدہ کے خصوصی طریقہ کار کے تحت متعدد مراسلات میں طاقت کے بے دریغ استعمال، من مانی گرفتاریوں، بڑے پیمانے پر تشدد، جبری گمشدگیوں، جنسی تشدد، سزا سے استثنیٰ اور بنیادی آزادیوں پر پابندیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر 16 اکتوبر 2025 کو اقوام متحدہ کے خصوصی طریقہ کار کے تحت جاری ایک مشترکہ مراسلے میں مقبوضہ علاقے میں تقریباً 2,800 افراد کی گرفتاری اور حراست پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، جن میں صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ گھروں کی مسماری، تقریباً 8,000 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش اور 22 اپریل سے 2 مئی 2025 کے مختصر عرصے کے دوران کشمیریوں اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، دھمکانے اور انسانیت سے محروم کرنے کے 64 واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے۔
عاصم افخار نے مزید کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات، جن کے ذریعے ڈومیسائل، زمین کی ملکیت اور سیاسی نمائندگی سے متعلق قوانین میں تبدیلیاں کی گئیں، نے غیر قانونی آبادیاتی تبدیلیوں کی راہ ہموار کی، جبکہ سیاسی سرگرمیوں، اظہار رائے اور مذہبی آزادی پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں۔
انہوں نے اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کو آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے اور اپنے حق خودارادیت کو استعمال کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا بین الاقوامی قانونی نظام کی ساکھ کا اس سے زیادہ تکلیف دہ امتحان کہیں نہیں ہوا جتنا غزہ میں، جہاں بڑے پیمانے پر تباہی، گھروں سے بے دخلی اور محرومی نے پورے معاشرے کو تباہ کردیا ہے۔ غزہ اس بات کا امتحان ہے کہ آیا بین الاقوامی انسانی قانون کے بنیادی اصول یکساں اور بلا استثنا لاگو ہوتے ہیں۔ بالآخر قبضے کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام کو آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے، اپنے حق خودارادیت کو استعمال کرنے اور 1967 سے قبل کی سرحدوں پر ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے قیام کا حق حاصل ہونا چاہیے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔