✕
پاکستان

مکہ دفاعی معاہدہ کسی کے خلاف نہیں، ترجمان پاک فوج

  • معاہدے میں کوئی جارحانہ پیش رفت یا مداخلت کا عنصر شامل نہیں ہے، احمد شریف چوہدری
شائع اپ ڈیٹ

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ (مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ) کسی ملک کے خلاف نہیں اور نہ ہی اس کے پس پردہ کوئی علاقائی عسکری عزائم ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے سعودی نشریاتی ادارے العربیہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ یہ معاہدہ محض ایک اجتماعی دفاعی انتظام ہے جس کا مقصد خطے میں عدم جارحیت، عدم مداخلت اور امن و استحکام قائم رکھنا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے میں کوئی جارحانہ پیش رفت یا مداخلت کا عنصر شامل نہیں ہے، تینوں ممالک کے دیگر عالمی اتحادوں اور ممالک کے ساتھ بھی الگ اور آزادانہ تعلقات قائم ہیں، اس لیے یہ کسی کے ساتھ مقابلے کے بجائے متبادل اور مددگار کے طور پر کام کرے گا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ ہوا تو پاکستان کا ردعمل کیا ہوگا تو لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ فوجی اور دفاعی معاہدوں پر عمل درآمد کے طریقۂ کار کو عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ آپ دراصل یہ پوچھ رہے ہیں کہ معاہدے کے تحت کارروائی کیسے کی جائے گی، فوجی اور سیکیورٹی سے متعلق معلومات خفیہ رکھی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو تینوں ممالک کی قیادت باہمی مشاورت سے آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی۔

آئی ایس پی آر کے سربراہ نے اس تاثر کو بھی مسترد کردیا کہ یہ معاہدہ محض ایک اسلامی بلاک یا مسلم ممالک کا کلب ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسے اسلامی اتحاد کہنے کے بجائے علاقائی استحکام کے لیے اتحاد قرار دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امن، عدم جارحیت اور اجتماعی دفاع پر یقین رکھنے والے دیگر ممالک کے لیے بھی اس کے دروازے کھلے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کو وسعت دینے سے متعلق کوئی بھی فیصلہ تینوں رکن ممالک کی سیاسی اور عسکری قیادت کرے گی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا یہ معاہدہ چین کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات کو متاثر کرسکتا ہے تو لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بیجنگ اور دیگر بڑی طاقتیں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی طور پر گہرے تعلقات کو سمجھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کے چین کے ساتھ بھی مضبوط تعلقات ہیں اور یہ معاہدہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران پاکستان کے جانب سے ثالثی کے کردار کے حوالے سے آئی ایس پی آر کے سربراہ نے کہا کہ اسلام آباد یہ کردار صرف خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی تمام دوست ممالک کے ساتھ یکساں طور پر مثبت تعلقات برقرار رکھنا ہے جس کی بدولت ہم ایک غیر جانب دار اور فعال ثالث کا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔