✕

کوانٹم ویلی پاکستان نوجوانوں، اسٹارٹ اپس اور ہائی ٹیک کاروباروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی، احسن اقبال

  • حکومت نے 2035 تک ملکی معیشت کا حجم ایک ٹریلین ڈالر اور 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر تک پہنچانے کے اہداف کا اعادہ کیا
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے بدھ کو کہا ہے کہ کوانٹم ویلی پاکستان کا آغاز ملک کے لیے تکنیکی ترقی، جدت طرازی اور علم پر مبنی معیشت کی جانب ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔

اسلام آباد میں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ یہ تقریب محض ایک منصوبے کا افتتاح نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک نئی سمت کے آغاز کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا، ’’آج محض ایک منصوبے کا افتتاح نہیں ہو رہا بلکہ یہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک نئی سمت کے آغاز کا دن ہے۔‘‘ انہوں نے اس موقع کو ملک کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستانی نوجوانوں کو عالمی مراکزِ جدت اور ٹیکنالوجی سے منسلک کرنے میں مدد دے گا۔

تقریب میں کیمبرج انوویشن سینٹر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹم رو، کیمبرج انوویشن سینٹر کے پارٹنر ڈوگن شیرووڈ اور پلگ اینڈ پلے کے مینیجنگ پارٹنر سینا امیدی نے شرکت کی۔

اس موقع پر دو معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ ایک معاہدہ کیمبرج انوویشن سینٹر اور کوانٹم ویلی پاکستان جبکہ دوسرا پلگ اینڈ پلے اور کوانٹم ویلی پاکستان کے درمیان طے پایا۔ ان معاہدوں کا مقصد تکنیکی تعاون کو فروغ دینا اور ملک کے جدت طرازی کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

احسن اقبال نے ان معاہدوں کو پاکستانی نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے اور جدت طرازی، کاروباری سرگرمیوں اور ہائی ٹیک کاروبار کے فروغ کے لیے نئے راستے ہموار کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کوانٹم ویلی پاکستان پاکستانی نوجوانوں کو عالمی ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کے مراکز سے جوڑنے کے پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گی، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے ایک مربوط ماحولیاتی نظام کے تحت تمام متعلقہ فریقوں کو ایک دوسرے کے قریب لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں ملک میں اسٹارٹ اپس اور ہائی ٹیک کاروباروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہا، ’’ہمارا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کے میدان میں ایک نمایاں مقام دلانا ہے۔‘‘

احسن اقبال نے کہا کہ اکیسویں صدی میں طاقت کا مرکز اب جسمانی قوت نہیں بلکہ ذہنی اور تخلیقی صلاحیت ہے، اور وہی ممالک عالمی معیشت میں آگے بڑھیں گے جن کے پاس بہترین خیالات ہوں گے اور جو ان خیالات کو مصنوعات میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ملک کے نوجوان صلاحیت اور استعداد کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں۔

انہوں نے کہا، ’’ہمیں اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو یکجا کرکے ٹیم پاکستان کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔‘‘ انہوں نے نوجوانوں کو ’’اقبال کے شاہین‘‘ قرار دیتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بروئے کار لائیں۔

حکومت کے وسیع تر معاشی اہداف کا حوالہ دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی اور سفارتی کامیابیوں کو مضبوط اور پائیدار معیشت کا سہارا حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے حکومت کے اس ہدف کا بھی اعادہ کیا کہ 2035 تک ملکی معیشت کا حجم ایک ٹریلین ڈالر جبکہ 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر تک پہنچایا جائے۔

انہوں نے کہا، ’’2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف حاصل کرنا یقیناً مشکل ہے، لیکن ناممکن نہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ جس ملک نے بے پناہ مشکلات کے باوجود جوہری طاقت بننے کا اعزاز حاصل کیا، وہ عزم، جدت طرازی اور اجتماعی قومی کوشش کے ذریعے یہ ہدف بھی حاصل کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی نوجوان نسل کے لیے ایک مضبوط معاشی مستقبل درکار ہے، ’’اپنی سڑکوں پر افراتفری نہیں‘‘، جبکہ مکمل معاشی خودمختاری کے حصول کے لیے برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیر نے یاد دلایا کہ پاکستان نے 2017 میں ابھرتے ہوئے شعبوں میں متعدد قومی مراکز قائم کیے تھے، جن میں بگ ڈیٹا اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، آٹومیشن و روبوٹکس، جغرافیائی معلوماتی نظام اور خلائی ٹیکنالوجی، اطلاقی ریاضی اور لائیو اسٹاک و جینومکس شامل تھے۔ ان مراکز کے ذریعے جامعات کو ایک قومی ٹیکنالوجی نیٹ ورک سے منسلک کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 2024 میں ’’اڑان پاکستان‘‘ کے تحت اس سفر کو مزید تیز کیا گیا اور اس کے نتیجے میں تشکیل پانے والا ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام 2035 تک پاکستان کی برآمدات 100 ارب ڈالر تک بڑھانے کے حکومتی ہدف کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔

پاکستان کی 26 کروڑ آبادی کو معاشی استعداد کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ملک کو سالانہ کم از کم 400 ارب ڈالر زرمبادلہ کمانے کی صلاحیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا، ’’پاکستان کے نوجوان علم اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ملک کے لیے سالانہ لاکھوں ڈالر کا زرمبادلہ کما سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو محض روزگار کے متلاشی افراد کے بجائے علم، جدت طرازی اور ترقی کے معماروں میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کوانٹم ویلی پاکستان کے آغاز کو محض ایک نئے ادارہ جاتی اقدام کا آغاز نہیں بلکہ ٹیکنالوجی پر مبنی، جدت پسند اور معاشی طور پر بااختیار پاکستان کی جانب ایک وسیع تر سفر کا نقطۂ آغاز قرار دیا۔