ایس ای سی پی کی انشورنس بانڈز اور گارنٹیز کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم اصلاحات کی تجاویز
- تجویز کردہ فریم ورک میں بیمہ کمپنیوں کی طرف سے جاری کردہ بڈ، پرفارمنس بانڈز، موبلائزیشن ایڈوانس گارنٹیز اور کسٹم گارنٹیز شامل ہیں
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے انشورنس بانڈز اور گارنٹیز کو مزید محفوظ، واضح اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے اصلاحات کی تجاویز پیش کی ہیں، یہ تجاویز خاص طور پر تعمیراتی منصوبوں، حکومتی معاہدوں، عوامی خریداری اور تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے ہیں۔
مجوزہ فریم ورک میں انشورنس کمپنیوں کی جانب سے جاری کردہ بولی اور کارکردگی کی ضمانتیں، موبلائزیشن ایڈوانس گارنٹیز اور کسٹمز گارنٹیز شامل ہیں۔ یہ ضمانتیں اس صورت میں حکومت کے محکموں، منصوبوں کے مالکان اور تجارتی اداروں کو مالی تحفظ فراہم کرتی ہیں جب کوئی ٹھیکیدار یا کاروباری ادارہ اپنے معاہدے کی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوجائے۔
مجوزہ اصلاحات میں مشروط اور غیر مشروط گارنٹی معاہدوں کو مزید واضح کرنے، انشورنس کمپنیوں کے لیے مالی استطاعت اور ریزرو سے متعلق تقاضے سخت کرنے، خطرے کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین، زرِ تلافی کے لازمی معاہدوں اور مناسب ری انشورنس انتظامات کی تجاویز شامل ہیں۔ ان اصلاحات کا مقصد معاہدوں میں ابہام، دعووں کی ادائیگی میں تاخیر اور طویل قانونی چارہ جوئی کو کم کرنا ہے۔
ایس ای سی پی نے کریڈٹ اور ضمانتی انشورنس کو محدود نوعیت کے انشورنس کاروبار کے طور پر درجہ بندی کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔ اس اقدام سے انشورنس کمپنیوں کی زیادہ باریک بینی سے نگرانی ممکن ہوگی اور اس بات کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ صرف مالی طور پر مستحکم کمپنیاں ہی اس نوعیت کا کاروبار کریں۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ اصلاحات سے خطرات کے انتظام اور انشورنس کمپنیوں کی مالی استعداد مضبوط ہوگی، معاہدوں میں وضاحت آئے گی اور انشورنس پر مبنی بانڈز اور گارنٹیز پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
ایس ای سی پی نے انشورنس کمپنیوں، ٹھیکیداروں، کاروباری اداروں، حکومتی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورتی مقالے پر اپنی آرا اور تجاویز پیش کرنے کی دعوت دی ہے، جو ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔