عبدالفتاح السیسی اور محمد بن سلمان کا بحیرہ احمر میں آزادانہ جہاز رانی کا مطالبہ
- سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی قاہرہ میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات
سعودی عرب اور مصر کے رہنماؤں نے منگل کو بحیرۂ احمر میں آزادانہ جہازرانی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا جبکہ ریاض نے یمن کے حوثیوں کے حملوں کا بھرپور جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے جو اس اہم آبی گزرگاہ کے جنوبی داخلی راستے پر قابض ہیں۔
حوثی جولائی میں یمن کی خانہ جنگی دوبارہ بھڑکنے کے بعد سے سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے ساتھ دوبارہ جاری لڑائی میں مصروف ہیں۔ اسی دوران حوثیوں نے ریاض کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے بحیرۂ احمر میں سعودی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا بھی شروع کردیا۔
گزشتہ ہفتے ایک برق رفتاری سے کی جانے والی کارروائی میں حوثیوں نے یمن کے بحیرہ احمر کے پورے ساحلی علاقے اور باب المندب آبنائے پر قبضہ کرلیا جو خلیج میں جاری وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کے بعد سعودی خام تیل کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم ہوگئی ہے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے منگل کو قاہرہ میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی جہاں دونوں رہنماؤں نے تازہ ترین بحران پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز اور باب المندب سے سمندری جہازرانی کی آزادی اور سلامتی یقینی بنانے پر زور دیا۔ ایوانِ صدر کے مطابق صدر السیسی نے سعودی عرب کی جانب سے اپنی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا۔
یمن کی جنگ جو 2022 سے غیر فعال تھی اچانک دوبارہ شروع ہونے کے بعد ریاض کو فوری ردعمل دینے کی کوشش کرنا پڑی ہے۔ امریکی میڈیا نے گزشتہ ہفتے رپورٹ کیا کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ذاتی طور پر امریکی مداخلت کی درخواست کی تاہم ان کی درخواست مسترد کردی گئی۔
حوثیوں کا اصرار ہے کہ باب المندب میں سعودی بحری جہازوں کے سوا کسی اور کے لیے جہازرانی کو کوئی خطرہ نہیں تاہم اس آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کے حملے سے بحری جہازوں کے لیے اس راستے کی کشش کم ہونے کا امکان ہے۔
آبنائے میں خلل پڑنے سے مصر بھی متاثر ہوسکتا ہے کیونکہ بحیرۂ احمر نہر سویز تک رسائی کا راستہ ہے اور قاہرہ اہم زرمبادلہ کمانے کے لیے نہر سویز کی آمدنی پر انحصار کرتا ہے۔
نہر سویز سے حاصل ہونے والی آمدنی اس وقت 2023 میں حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں پر حملے شروع کرنے سے قبل کی سطح کے مقابلے میں تقریباً نصف رہ گئی ہے۔ حوثیوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے غزہ میں اسرائیل کی حماس کے خلاف جنگ کے دوران فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے یہ مہم شروع کی تھی۔
قطر نے منگل کو خبردار کیا کہ باب المندب کی بندش کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور یہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی۔