✕
دنیا

برکس کا مشترکہ اعلامیہ منظور، مشرقِ وسطیٰ میں ’’زیادہ سے زیادہ تحمل‘‘ پر زور

  • برکس میں ایران اور متحدہ عرب امارات دونوں شامل ہیں، اس لیے مشترکہ اعلامیے پر اتفاقِ رائے مشکل ہونے کا خدشہ تھا
شائع اپ ڈیٹ

برکس ممالک کے گروپ نے ہفتے کو متفقہ طور پر ایک مشترکہ اعلامیہ منظور کیا، جس میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ پر ’’گہری تشویش‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا گیا اور قومی موقف کا احترام کرتے ہوئے ’’کثیرالجہتی طریقۂ کار‘‘ اختیار کرنے کی حمایت کی گئی ہے۔

نئی دہلی میں برکس سربراہان کے سالانہ اجلاس کے پہلے روز منظور کیا جانے والا یہ اعلامیہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اگست کے بیشتر عرصے تک لڑائی میں وقفے کے بعد امریکا اور ایران نے ایک دوسرے کے خلاف جوابی حملے دوبارہ شروع کر دیے ہیں۔

برکس میں ایران اور متحدہ عرب امارات دونوں شامل ہیں، جس کے باعث میزبان ملک بھارت کے لیے مشترکہ اعلامیے پر اتفاقِ رائے حاصل کرنا خاصا مشکل مرحلہ تصور کیا جا رہا تھا۔

’’نئی دہلی اعلامیے‘‘ میں کہا گیا، ’’ہم مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں مسلسل اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے، ایسے اقدامات سے گریز کرنے پر زور دیتے ہیں جو صورتِ حال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔‘‘

اعلامیے میں رکن ممالک نے بین الاقوامی تنازعات کے ’’مذاکرات، مشاورت اور سفارت کاری کے ذریعے پرامن حل‘‘ کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

اس کے علاوہ رکن ممالک نے تجارت کو مسخ کرنے والے ’’یکطرفہ ٹیرف اور غیر ٹیرف اقدامات‘‘ میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔ یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران تہران پر پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ روس کے خلاف یوکرین کے ساتھ جاری تنازع کے تناظر میں بھی پابندیاں نافذ ہیں۔

برکس میں برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقہ، مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔