نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) کے انٹیگریٹڈ سسٹم پلان (آئی ایس پی) 2025-35 کی منظوری دے دی ہے تاہم مجوزہ 900 ملین ڈالر کی بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (بی ای ایس ایس) سرمایہ کاری اور 2028 میں مقرر کے-الیکٹرک کی ٹرانسمیشن لائن کو منظور شدہ منصوبے سے خارج کر دیا ہے۔
اتھارٹی نے آئی ایس پی-2025 کی منظوری نظرثانی شدہ بیس/ریکمنڈڈ کیس کے دائرہ کار تک دی جو انڈیکیٹو جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان (آئی جی سی ای پی)-2025 کے تحت ہے جب کہ ٹرانسمیشن سسٹم ایکسپینشن پلان (ٹی ایس ای پی)-2025 کے نظرثانی شدہ دائرہ کار کو بھی منظور کیا گیا تاہم یہ منظوری نیپرا کی جانب سے اٹھائے گئے متعدد اعتراضات اور جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد سے مشروط ہے۔
یہ فیصلہ ملک میں طویل مدتی بجلی کی پیداوار اور ترسیلی نظام کی منصوبہ بندی کے حوالے سے ایک اہم ریگولیٹری اقدام ہے کیونکہ نیپرا نے بجلی کی طلب کے تخمینے، منصوبوں کی درجہ بندی، اعداد و شمار کی توثیق، ترسیلی نظام کی منصوبہ بندی، قابلِ تجدید توانائی کے انضمام اور بیٹری اسٹوریج سے متعلق امور پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
فیصلے کے مطابق نظرثانی شدہ بیس/ریفرنس کیس میں منصوبہ بندی کی مدت کے دوران مجموعی موجودہ قدر کی لاگت 47.08 ارب ڈالر متوقع ہے۔ یہ منصوبہ مالی سال 2025-35 پر محیط ہے اور بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں خاطر خواہ اضافے کا تصور پیش کرتا ہے جبکہ نظرثانی شدہ آپٹیمائزیشن میں دھابیجی میں 269 میگاواٹ کا جے سی ایم ونڈ سولر ہائبرڈ منصوبہ بھی شامل کیا گیا ہے۔
جے سی ایم منصوبہ 95 میگاواٹ شمسی اور 174 میگاواٹ ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت پر مشتمل ہے جسے نظرثانی شدہ تکنیکی اور مالیاتی پیرامیٹرز فراہم کیے جانے کے بعد مالی سال 2027 میں شامل کرنے کے لیے آپٹمائز کیا گیا۔ اس کی شمولیت سے مجموعی آپٹمائزڈ ونڈ صلاحیت میں کمی آئی اور بیس/ریفرنس کیس کی لاگت 47.13 ارب ڈالر سے کم ہو کر 47.08 ارب ڈالر ہوگئی۔