✕
دنیا

ٹرمپ انتظامیہ کی ایچ-1 بی ویزا ہولڈرز کی 60 روزہ مہلت ختم کرنے کی تجویز

  • ٹرمپ انتظامیہ کا ایچ-1 بی ویزا ہولڈرز کے لیے 60 روزہ مہلت ختم کرنے کا منصوبہ، ملازمت ختم ہوتے ہی امریکا چھوڑنا ہوگا
شائع اپ ڈیٹ

ٹرمپ انتظامیہ نے 60 روزہ اس مہلت کو ختم کرنے کی تجویز دی ہے جس کے تحت بعض تارکین وطن، جن میں ایچ-1 بی ویزا رکھنے والے ہنرمند کارکن بھی شامل ہیں، ملازمت ختم ہونے کے بعد امریکا میں قیام کرکے نئی ملازمت اور اسپانسر تلاش کرسکتے ہیں۔ یہ بات جمعرات کو آن لائن جاری کیے گئے حکومتی نوٹس میں کہی گئی ہے۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے فیڈرل رجسٹر میں شائع کردہ مجوزہ ضابطے کے تحت ایچ-1 بی اور بعض دیگر عارضی ورک ویزا رکھنے والوں کو ملازمت ختم ہوتے ہی امریکا چھوڑنا ہوگا۔ اس اقدام سے امریکا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو دھچکا لگنے کا خدشہ ہے، جو بڑی تعداد میں غیرملکی کارکنوں پر انحصار کرتی ہیں۔

یہ جنوری 2025 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قانونی امیگریشن محدود کرنے کے لیے اٹھایا جانے والا تازہ ترین اقدام ہے۔ ان کی انتظامیہ نے ہنرمند کارکنوں کے لیے ویزا فیس میں بھی اضافہ کیا ہے اور حال ہی میں نئی تربیتی پالیسی نافذ کرنے کے دوران دنیا بھر میں امریکی سفارتی مشنز پر تارکین وطن کے ویزا انٹرویوز کی تقرریاں بھی عارضی طور پر روک دی ہیں۔

محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) نے اپنی تجویز میں لکھا ہے کہ اس تبدیلی سے متاثر ہونے والی کمپنیوں کو کچھ عرصے کے لیے کاروباری رکاوٹ کا سامنا ہوسکتا ہے، تاہم اس کا کہنا ہے کہ ان ملازمتوں پر امریکی شہریوں کو تعینات کیا جاسکتا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ بعض صورتوں میں امریکا چھوڑنے والے غیرملکی کارکن دوبارہ درخواست دے سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا آجر ان کے لیے درخواست دائر کرے۔

نوٹس میں کہا گیا ہے، ’’ڈی ایچ ایس کا خیال ہے کہ کمپنیاں یا تو یہی ملازمتیں مساوی اہلیت رکھنے والے امریکی کارکنوں کو دیں گی یا اپنی افرادی قوت کی ضرورت کے مطابق آئی-129 درخواست دائر کرنے کے عمل سے گزریں گی۔‘‘

2017 سے نافذ 60 روزہ مہلت غیرملکی کارکنوں کو امریکا میں دوسری ملازمت تلاش کرنے یا ملک چھوڑنے سے پہلے اپنے معاملات نمٹانے کا وقت دیتی ہے، جس میں گھر فروخت کرنا یا بچوں کو اسکول سے نکالنے جیسے امور بھی شامل ہیں۔

1990 میں امریکی کانگریس کی جانب سے متعارف کرائے گئے ایچ-1 بی ویزے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے بھارت اور چین سے ہنرمند افراد کو بھرتی کرکے ایسی اسامیاں پُر کی جاسکتی ہیں جن کے لیے بعض اوقات امریکا میں مطلوبہ اہلیت رکھنے والے کارکن دستیاب نہیں ہوتے۔

مشاورتی کمپنیوں میں ڈیلوئٹ، پی ڈبلیو سی اور ارنسٹ اینڈ ینگ، جبکہ آؤٹ سورسنگ کے شعبے میں ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز، انفوسس، ایچ سی ایل ٹیک اور ایل ٹی آئی مائنڈ ٹری جیسی بڑی کمپنیاں ایچ-1 بی ویزا کے نمایاں اسپانسرز میں شامل ہیں۔

کاروباری امیگریشن معاملات میں مہارت رکھنے والی قانونی فرم برارڈی امیگریشن لا کے وکلا نے کہا کہ اس اقدام سے ’’غیرملکی ملازمین کی برطرفی اور ملازمت سے فارغ کرنے کے عمل کو منظم کرنے کے لیے انسانی وسائل کی ٹیموں کے پاس دستیاب وقت نمایاں طور پر کم ہوجائے گا۔‘‘

اگر یہ تبدیلی نافذ ہوگئی تو اس کا اطلاق ای-1 بین الاقوامی تاجروں کے ویزا رکھنے والوں، ای-2 کمرشل گاڑیوں کے آپریٹرز کے ویزا ہولڈرز، بین الاقوامی کمپنیوں کے ایگزیکٹوز یا مینیجرز کے لیے مختصر مدتی کام کے ایل-1 ویزا، سائنس، کھیل یا فنون کے شعبوں میں ’’غیرمعمولی صلاحیت‘‘ رکھنے والے افراد کے لیے او-1 ویزا اور ٹی این پیشہ ور کارکنوں پر بھی ہوگا۔

اس کے علاوہ سنگاپور اور چلی کے ہنرمند کارکنوں کے لیے ایچ-1 بی 1 ویزا اور آسٹریلیا کے خصوصی مہارت رکھنے والے کارکنوں کے لیے ای-3 ویزا رکھنے والے افراد بھی اس تبدیلی سے متاثر ہوں گے۔

اس ضابطے کو قانون کی شکل دینے سے قبل عوامی رائے حاصل کرنے کے لیے دو ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے۔