✕
پاکستان

حوثی حملوں پر مکہ معاہدے کے تحت فوجی ردعمل زیر بحث نہیں آیا، پاکستان

  • وقت آنے پر معاہدے کے تحت کارروائی کریں گے، دفتر خارجہ
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان نے کہا ہے کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے جواب میں مکہ معاہدے کے تحت اسلام آباد کی جانب سے کسی فوجی ردعمل پر فی الحال کوئی بات چیت نہیں ہوئی، تاہم پاکستان نے واضح کیا کہ وقت آنے پر معاہدے کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران اس سوال کے جواب میں کہا کہ اس وقت ایسی کوئی بات زیرِ بحث نہیں ہے، جب وقت آئے گا تو ہم معاہدے کے تحت کارروائی کریں گے۔ ان سے سوال کیا گیا تھا کہ ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان اپنی ذمہ داریاں کیسے پوری کرے گا۔

گزشتہ ماہ طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

یہ سوال اس وقت سامنے آیا جب ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے رواں ہفتے سعودی شہروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جس سے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع جمعرات تک جنگ کے دوسرے محاذ میں تبدیل ہوگیا۔

رائٹرز کے مطابق پاکستان نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے یمنی حوثی اتحادیوں کو سعودی عرب پر حملوں میں اضافے سے روکے۔

پاکستان، جو امریکا اور ایران کے درمیان تنازع میں ثالثی بھی کررہا ہے، نے ان حملوں کی مذمت کی، تاہم دفاعی معاہدے کی شرائط کے تحت ممکنہ ردعمل کے حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ مکہ معاہدہ دفاعی اتحاد ہے اور فی الحال اسے وسعت دینے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ انہوں نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے کے بعد معاہدے کے تحت پاکستان کی ذمہ داریوں سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر 7 اگست کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے اور کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کرنے پر اتفاق کیا ہے، جو نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثلت رکھتا ہے۔

تینوں ممالک کے رہنماؤں نے مختلف مواقع پر معاہدے کی خالصتاً دفاعی نوعیت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں اور اس کا مقصد علاقائی امن، استحکام اور دفاعی باز کو فروغ دینا ہے۔ معاہدے میں مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی معلومات کے تبادلے اور دفاعی صنعت میں تعاون سمیت تمام شعبوں میں دفاعی تعاون بڑھانے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ سعودی عرب میں مستقل سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا، جبکہ پاکستان پہلے سیکریٹری جنرل کو تین سال کے لیے نامزد کرے گا۔

ایک روز قبل وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اس صورت میں فعال ہوسکتا ہے جب یمن میں جاری تنازع سعودی عرب تک پھیل جائے۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ یہ اجتماعی دفاع کا معاہدہ ہے، جس کے تحت ایک رکن کے خلاف جارحیت کو تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ بلااشتعال جارحیت یا یمن کے تنازع کے سعودی عرب تک پھیلنے کی صورت میں یہ معاہدہ فعال ہوجائے گا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان معاہدے کا پابند ہے اور ضرورت پڑنے پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کا مقصد جارحیت نہیں بلکہ مشترکہ دفاع اور اجتماعی تعاون ہے۔