ایپل نے تقریب کے آغاز پر آئی فون 18 پرو پیش کردیا
- آئی فون نے ایپل کے حالیہ مالی سال میں 209.6 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی، جو کمپنی کی مجموعی فروخت کا آدھے سے کچھ زیادہ حصہ ہے
ایپل نے بدھ کو کیلیفورنیا کے شہر کیوپرٹینو میں واقع اپنے ہیڈکوارٹرز میں مصنوعات کی سالانہ رونمائی کی تقریب کا آغاز کردیا، جہاں کمپنی کی جانب سے مہنگا فولڈنگ آئی فون متعارف کرائے جانے کی توقع کی جارہی ہے، جبکہ آئی فون 18 پرو کے نئے ماڈلز بھی پیش کیے جارہے ہیں۔
یہ تقریب ایپل کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر جان ٹرنَس کی سربراہی میں پہلی تقریب ہے۔ اس موقع پر کمپنی کی فلیگ شپ مصنوعات میں 2017 میں آئی فون ایکس سے فزیکل ہوم بٹن ہٹائے جانے کے بعد سب سے نمایاں تبدیلی متوقع ہے۔ ایپل کے حالیہ مالی سال میں آئی فون نے 209.6 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی، جو کمپنی کی مجموعی فروخت کا نصف سے کچھ زیادہ حصہ ہے۔
سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹم کُک نے ایک ویڈیو کے ذریعے ٹرنَس کو قیادت کی ذمہ داریاں سونپنے کا اعلان کیا۔ پریزنٹیشن کے آغاز سے متعلق ویڈیو کے اختتام پر کُک کا کلوز اَپ دکھایا گیا، جہاں انہوں نے ٹرنَس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’میں نہیں، اب یہ ذمہ داری آپ کی ہے۔‘‘
ٹرنَس نے آئی فون کو ذاتی نوعیت کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) مرکز کے طور پر پیش کیا جس میں صارف کی رازداری کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر کمپنیاں ذاتی ڈیٹا جمع کرکے محفوظ کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’سچ کہوں تو جب آپ کا ڈیٹا مزید آپ کے اپنے اختیار میں نہ رہے تو اعتماد بھی ایک حد تک ہی قائم رہتا ہے۔ اسی لیے ایپل انٹیلی جنس جہاں ممکن ہو، براہِ راست ڈیوائس پر کام کرتی ہے۔‘‘
آئی فون ساز کمپنی میں اے آئی مصنوعات کی نگرانی کرنے والی ایپل کی لِلیان رِنکون، جنہیں رواں سال کے آغاز میں گوگل سے بھرتی کیا گیا تھا، نے اپ ڈیٹ شدہ سری اسسٹنٹ متعارف کرایا، جو اجرا کے وقت 3 لاکھ ایپس کے ساتھ کام کرے گا۔
کمپنی کے حکام نے آئی فون 18 پرو اور 18 پرو میکس ماڈلز بھی پیش کیے، جو ایپل کی معروف آئی فون سیریز کے تازہ ترین ورژن ہیں۔ آئی فون 18 پرو کی ابتدائی قیمت 1,199 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
ایپل نے بتایا کہ اس کی نئی اے 20 پرو چِپ دو نینو میٹر ٹیکنالوجی پر تیار کی گئی ہے اور اس میں ایسی بہتریاں کی گئی ہیں جن کی مدد سے جدید اے آئی ماڈلز براہِ راست آئی فون پر چل سکیں گے۔ ایپل کے مطابق اے 20 پرو چِپ میں بخارات پر مبنی کولنگ سسٹم کو بھی بہتر بنایا گیا ہے، جس میں اس کے میک چپس میں استعمال ہونے والی جدید پیکیجنگ تکنیکیں بروئے کار لائی گئی ہیں۔ اس کا مقصد فون میں پنکھے کے بغیر کارکردگی بڑھانا ہے۔ یہ چِپ آئی فون 18 پرو میں استعمال کی جائے گی۔
پی پی فوری سائٹ کے تجزیہ کار پاؤلو پیسکیٹور نے کہا، ’’ایپل انٹیلی جنس اور سری کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ایپل اپنی سب سے بڑی طاقت یعنی اس کے ہارڈویئر کی وسیع بنیاد کو بروئے کار لا رہا ہے تاکہ اے آئی کو مختلف ڈیوائسز پر روزمرہ استعمال کا لازمی حصہ بنایا جاسکے۔‘‘ ایپل کی پریزنٹیشن کے دوران کمپنی کے حصص کی قیمت تقریباً ایک فیصد کم ہوئی۔
مہنگی قیمت کا چیلنج
ٹرنَس اس سے قبل ایپل کے ہارڈویئر شعبے کے سربراہ رہ چکے ہیں، تاہم چند مصنوعات کی رونمائی اور پائیداری سے متعلق اقدامات کے علاوہ وہ عوامی سطح پر زیادہ نمایاں نہیں رہے۔ اب ٹرنَس کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ایپل کے صارفین کو قائل کریں کہ انہیں ایک فولڈنگ ڈیوائس کی ضرورت ہے، جس کی قیمت تجزیہ کاروں کے اندازے کے مطابق 2,000 ڈالر سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ یہ اس عالمی برانڈ کے لیے قیمت کی نئی بلند ترین سطح ہوگی جس نے بڑے پیمانے پر دستیاب لگژری مصنوعات کی شناخت قائم کی ہے۔
اگرچہ سام سنگ الیکٹرانکس اور ہواوے ٹیکنالوجیز نے 2019 سے فولڈنگ فونز فروخت کیے ہیں، تاہم یہ ڈیوائسز اب تک ٹیکنالوجی کے شوقین صارفین تک محدود رہی ہیں۔ اس کے باوجود، قیمت بہت زیادہ ہونے کے باوجود انٹرنیشنل ڈیٹا کارپوریشن سمیت تجزیاتی اداروں کو توقع ہے کہ ایپل جتنے فولڈنگ آئی فون تیار کرسکے گا، وہ تمام فروخت ہوجائیں گے اور کمپنی آئندہ سال کے اختتام تک اس منافع بخش شعبے میں 40 فیصد مارکیٹ شیئر حاصل کرلے گی۔
تجزیہ کاروں کو یہ بھی توقع ہے کہ فولڈنگ فونز کے شعبے میں دیر سے داخل ہونے کا فائدہ ایپل کو اس صورت میں مل سکتا ہے جب وہ اہم انجینئرنگ چیلنجز پر قابو پالے، جن میں ایسا خوبصورت مگر مضبوط قبضہ تیار کرنا شامل ہے جو بار بار کھولنے اور بند کرنے کے باوجود برقرار رہے اور اس مقام پر اسکرین کے پڑنے والے شکن کو کم سے کم کرے جہاں فون فولڈ ہوتا ہے۔
ایک اہم چیلنج یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ڈیوائسز دھول اور پانی سے کس حد تک محفوظ رہتی ہیں۔ اس معاملے میں گوگل کا حالیہ پکسل 10 پرو فولڈ سام سنگ کی مصنوعات پر سبقت لے گیا ہے، جسے آئی پی 68 ریٹنگ حاصل ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ڈیوائس مکمل طور پر گردوغبار سے محفوظ ہے اور اسے ایک میٹر (3.3 فٹ) گہرے پانی میں ڈبویا جاسکتا ہے۔
بدھ کو ہونے والی تقریب سے ایپل کے سالانہ مصنوعات کے شیڈول میں بھی بڑی تبدیلی متوقع ہے۔
اگرچہ تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ ایپل نئی اسمارٹ واچز پیش کرے گا، تاہم ان کے مطابق کمپنی اپنے نسبتاً کم قیمت والے آئی فون ماڈلز کی اپ ڈیٹس آئندہ موسمِ بہار تک مؤخر کرسکتی ہے اور اس تقریب میں صرف نئے فولڈنگ ڈیوائس اور آئی فون پرو و پرو میکس سیریز پر توجہ مرکوز رکھ سکتی ہے۔
اس اقدام کا مقصد ایپل کے سالانہ فروخت کے دورانیے کو متوازن بنانا ہے، جس میں عموماً امریکا اور یورپ میں سال کے اختتامی تعطیلاتی سہ ماہی کے دوران کمپنی کی آمدنی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔