✕
دنیا

خلیج کو سکیورٹی کیلئے صرف امریکا پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، قطر

  • ایران کے ساتھ تعلقات مستقبل میں بحال ہوسکتے ہیں، تاہم حملوں کے بعد اعتماد کی بحالی میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں،متحدہ عرب امارات
شائع اپ ڈیٹ

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) جاری امریکا ایران جنگ کے باعث اپنی توانائی کی برآمدات اور تجارتی سرگرمیوں کو کسی فریق کے ہاتھوں یرغمال بننے سے بچانے کے لیے متبادل راستے تیار کر رہا ہے۔

ابوظبی میں ہیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا کہ ملک کی توانائی برآمدات، تجارت اور معاشی سرگرمیوں کو جنگ کے اثرات سے محفوظ رکھا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات اپنے مشرقی ساحل پر بندرگاہوں کی گنجائش بڑھانے کے ساتھ ساتھ متبادل راہداریوں کے لیے پائپ لائنز، ریلوے اور تجارتی راستے بھی تیار کر رہا ہے۔

انور قرقاش نے کہا کہ ایران کے ساتھ تعلقات مستقبل میں بحال ہوسکتے ہیں، تاہم حملوں کے بعد اعتماد کی بحالی میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ انہوں نے خلیجی عرب ممالک کو ایران کے خلاف مشترکہ ردعمل نہ دینے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مشترکہ خدشات کو متحدہ حکمتِ عملی میں تبدیل نہیں کیا جاسکا۔

دوسری جانب قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ خلیجی ممالک کو سکیورٹی کے لیے صرف امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق خطے میں موجود عالمی افواج اور امریکا کے ساتھ اتحاد اہم ضرور ہے، تاہم سکیورٹی کے معاملے میں خود کفالت ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

انور قرقاش نے بھی کہا کہ امریکا کے ساتھ شراکت داری ضروری ہے، تاہم 6 ماہ سے جاری جنگ نے قومی دفاعی صلاحیتوں کی اہمیت واضح کردی ہے۔

آبنائے ہرمز بدستور واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں مرکزی تنازع ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی سپلائی متاثر ہوئی، قیمتیں بڑھیں اور عالمی معاشی بحران کے خدشات پیدا ہوئے۔

انور قرقاش نے کہا کہ بحری آمدورفت کی آزادی کسی رعایت کا معاملہ نہیں اور اسے دباؤ کے تحت دوبارہ طے نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق کسی بھی طویل مدتی حل میں خلیجی عرب ممالک پر مزید ایرانی حملوں کے خلاف قابلِ اعتماد ضمانتیں شامل ہونی چاہئیں۔