✕
پاکستان

ایس سی او اجلاس، 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے 6.6 ارب روپے کی گرانٹ منظور

  • اجلاس ستمبر 2027 میں پاکستان میں منعقد ہوگا
شائع اپ ڈیٹ

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پیر کو آئندہ سال ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے دوران سربراہانِ مملکت کی آمدورفت کے لیے استعمال ہونے والی 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کی خاطر 12.6 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ (ٹی ایس جی) کی منظوری دے دی۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے پیر کو جاری کردہ بیان میں یہ اطلاع دی گئی۔

اجلاس ستمبر 2027 میں پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہوگا۔

شنگھائی تعاون تنظیم ایک مستقل بین الحکومتی بین الاقوامی اتحاد ہے، جس کا بنیادی مقصد علاقائی سلامتی، سیاسی امور اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

دو روزہ بشکیک سربراہی اجلاس کے اختتام پر کرغزستان سے سربراہی کی منتقلی کے بعد پاکستان نے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی باری باری تبدیل ہونے والی صدارت سنبھال لی ہے۔ پاکستان 2027 میں اسلام آباد میں اگلے سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

ای سی سی کا اجلاس پیر کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت وزارتِ خزانہ میں منعقد ہوا۔

بیان کے مطابق، ’’ای سی سی نے کابینہ ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ اس سمری پر غور کیا، جس میں ایس سی او سربراہی اجلاس کے دوران سربراہانِ مملکت کی آمدورفت کے لیے استعمال ہونے والی بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کی خاطر 12.6 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری طلب کی گئی تھی۔ ای سی سی نے تجویز پر تفصیلی غور اور بحث کے بعد 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے 6.6 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی اور کابینہ ڈویژن کو مزید ضرورت کی صورت میں دوبارہ معاملہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔‘‘

بیان میں مزید کہا گیا، ’’ای سی سی نے کابینہ ڈویژن کو ہدایت کی کہ مزید کسی بھی اضافی طلب کے لیے ضرورت کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے اور اگر ضرورت ہو تو معاملہ دوبارہ پیش کیا جائے۔‘‘

ایس سی او کیا ہے؟

شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) 10 رکن ممالک پر مشتمل ایک سیاسی، اقتصادی اور بین الاقوامی سلامتی کی تنظیم ہے، جس کی توجہ سیاسی، اقتصادی، سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون پر مرکوز ہے۔

ایس سی او دراصل ’’شنگھائی فائیو‘‘ کی جانشین تنظیم ہے، جو 1996 میں چین، قازقستان، کرغزستان، روس اور تاجکستان کے درمیان قائم ہوئی تھی۔ جون 2001 میں ان ممالک کے رہنماؤں اور ازبکستان کے سربراہ نے شنگھائی میں ملاقات کی اور ایس سی او کے قیام کا اعلان کیا، جس کا مقصد سیاسی اور اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرنا تھا۔

جون 2017 میں بھارت اور پاکستان کی شمولیت کے بعد تنظیم کے ارکان کی تعداد آٹھ ہوگئی۔ اس کے بعد ایران جولائی 2023 میں جبکہ بیلاروس جولائی 2024 میں تنظیم کا رکن بنا۔ یہ معلومات وکی پیڈیا پر دستیاب تفصیلات کے مطابق ہیں۔

ای سی سی اجلاس میں دیگر امور

ای سی سی نے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے تمباکو کی فصل کے کم از کم اشارتی نرخوں اور مالی سال 2026-27 کے لیے سیس کی شرحوں میں نظرثانی سے متعلق سمری پر بھی غور کیا۔

بیان کے مطابق، ’’تفصیلی بحث کے بعد ای سی سی نے قرار دیا کہ تجویز کے لیے مزید ٹھوس جواز فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ ای سی سی نے ایجنڈا مؤخر کرتے ہوئے وزارت کو ہدایت کی کہ قابلِ جواز تجزیے کے ساتھ تجویز دوبارہ پیش کی جائے۔‘‘

کمیٹی نے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے گوادر فری زون سے گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد سے متعلق مسائل کے حل کے لیے قائم کمیٹی کی سفارشات پر مشتمل سمری پر بھی غور کیا۔

بیان کے مطابق، ’’ای سی سی نے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی سفارش کردہ ضروری حفاظتی اقدامات کے ساتھ تجویز کی منظوری دے دی۔‘‘

ای سی سی نے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی تجویز پر فاطمہ فرٹ اور ایگری ٹیک کو موجودہ انتظام کے تحت 30 ستمبر 2026 تک گیس کی فراہمی جاری رکھنے کی بھی منظوری دے دی۔

کمیٹی نے وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے دانش اسکولز اتھارٹی فنڈ کے لیے تکنیکی ضمنی گرانٹ کے ذریعے 5 ارب روپے بطور ابتدائی سرمایہ فراہم کرنے کی سمری بھی منظور کرلی، جو اینڈومنٹ کے تحت برقرار رکھا جائے گا۔

اس کے علاوہ ای سی سی نے پاکستان اسکلز امپیکٹ بانڈ (پی ایس آئی بی) پر پیش رفت کا جائزہ لیا اور وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو 30 ستمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی کہ حکومتِ پاکستان کی ضمانت میں توسیع سے متعلق اس اقدام پر ہونے والی خاطر خواہ پیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔