شمالی کوریا اور روس کے بڑھتے تعلقات؛ پہلا سڑک پل کھول دیا گیا
- یہ پل پہلے سے موجود ’فرینڈشپ برج‘ کے قریب واقع ہے، جو ایک ریلوے پل ہے اور کوریا کی جنگ کے بعد 1959 میں اسے ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا تھا
روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق، شمالی کوریا اور روس نے پیر کو اپنا پہلا سڑک رابطہ پل کھول دیا۔ دریائے تومین پر تعمیر کیا گیا یہ پل دونوں ممالک کی جانب سے ان کی تزویراتی شراکت داری میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جارہا ہے۔
یہ پل پہلے سے موجود ’’فرینڈشپ برج‘‘ کے قریب واقع ہے، جو ایک ریلوے پل ہے اور کوریا کی جنگ کے بعد 1959 میں اسے ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا تھا۔
ماسکو اور پیانگ یانگ کے درمیان پہلے ہی براہِ راست فضائی اور ریلوے رابطے موجود ہیں۔ روسی وزیراعظم میخائل میشوستین نے کہا کہ نیا پل دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں، بالخصوص سیاحت، کو فروغ دینے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
تاس کے مطابق میشوستین نے ویڈیو لنک کے ذریعے پل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ سرحد پار ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع تجارت، اقتصادی، سائنسی، تکنیکی اور ثقافتی تعاون کے مزید فروغ کے لیے ایک مضبوط محرک فراہم کرے گی۔‘‘
نئے پل کی تعمیر، جس پر کئی برس سے بات چیت جاری تھی، گزشتہ سال اپریل میں شروع ہوئی۔ اس کی تعمیر پر 2024 میں صدر ولادیمیر پیوٹن کے شمالی کوریا کے دورے کے موقع پر اتفاق کیا گیا تھا۔
2022 میں یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ پیانگ یانگ نے 2024 میں یوکرین کی جانب سے روس کے علاقے کرسک میں کی جانے والی دراندازی کو پسپا کرنے میں مدد کے لیے ہزاروں فوجی روس بھیجے تھے۔