بانڈز اجرا کا بہترین موقع، مدت کے اختتام سے قبل مزید جاری کیے جائیں
- مقصد مزید قرض لینا نہیں بلکہ بیرونی واجبات کی مدت بڑھانا، قلیل مدتی قرضوں پر انحصار کم کرنا اور زرمبادلہ ذخائر مضبوط کرنے کی گنجائش پیدا کرنا ہونا چاہیے
پاکستان مشکل عالمی مالیاتی حالات کے باوجود طویل مدتی بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ میں واپس آگیا ہے اور اب تک کے سب سے بڑے سنگل بانڈ اجرا کے ذریعے 3 ارب ڈالر حاصل کیے ہیں، جبکہ بانڈ کی قیمت بھی قابلِ قبول سطح پر رہی۔ جیسا کہ چند ہفتے قبل اسی کالم میں نشاندہی کی گئی تھی، عالمی مارکیٹ میں دوبارہ رسائی ایک ایسا موقع فراہم کرتی ہے جس سے اس کے برقرار رہنے تک فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔
مقصد محض مزید قرض لینا نہیں بلکہ پاکستان کے بیرونی واجبات کی ساخت اور مدت میں بہتری لانا ہونا چاہیے۔ اس کے لیے کم مدت کے قرضوں کی جگہ طویل مدتی مارکیٹ پر مبنی قرض لیا جائے، سیاسی طور پر حساس دوطرفہ قرضوں کی رول اوور پر انحصار کم کیا جائے اور اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر بڑھانے کی گنجائش پیدا کی جائے۔
اس حوالے سے وقت بھی اہم ہے کیونکہ حالیہ بانڈ اجرا پاکستان کے پیچیدہ بیرونی قرضوں کے انتظام کے ایک اور مرحلے سے جڑا دکھائی دیتا ہے۔ حکومت رواں سال کے آغاز میں سعودی عرب سے حاصل کیے گئے 3 ارب ڈالر واپس کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ رقم بھی ایسے وقت میں حاصل ہوئی تھی جب پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو تقریباً 3.5 ارب ڈالر کی ادائیگی کی تھی۔
سرکاری حلقوں میں یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ سعودی سہولت کو مزید رول اوور کیا جاسکتا ہے یا اس کی شرائط میں ردوبدل کیا جاسکتا ہے۔ تاہم جون 2027 تک پاکستان کے سرکاری زرمبادلہ ذخائر تقریباً 21 ارب ڈالر رہنے کی آئی ایم ایف کی موجودہ پیش گوئی سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونی فنانسنگ کے موجودہ منصوبے میں بڑی ادائیگیاں پہلے ہی شامل ہیں۔
پاکستان کو اس سے بھی بلند ہدف مقرر کرنا چاہیے۔ زرمبادلہ ذخائر کا ہدف تقریباً 25 ارب ڈالر تک لے جانے سے ملک اشیا کی درآمدات کے تقریباً چار ماہ کے حجم کے برابر کوریج حاصل کرنے کے قریب پہنچ جائے گا اور بیرونی جھٹکوں کے ساتھ ساتھ چند قرض دہندگان پر حد سے زیادہ انحصار کے خطرے سے نمٹنے کے لیے زیادہ مؤثر حفاظتی حصار فراہم ہوگا۔
تاہم اس سے بھی اہم معاملہ ان ذخائر کے پیچھے موجود قرضوں کی مدت اور ساخت ہے۔ پاکستان کی بار بار سامنے آنے والی بیرونی کمزوری صرف قرضوں کے مجموعی حجم کا مسئلہ نہیں رہی، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ قلیل مدت میں کتنی رقم دوبارہ حاصل کرنا پڑتی ہے اور اس ری فنانسنگ کے لیے چند دوست ممالک پر کس حد تک انحصار ہے۔
کثیرالجہتی اداروں سے حاصل ہونے والی فنانسنگ پاکستان کے بیرونی قرضوں کے پورٹ فولیو کا مضبوط ترین حصہ ہے۔ درجہ بندی کے طریقہ کار کے لحاظ سے پاکستان کے بیرونی سرکاری قرضوں کا تقریباً نصف کثیرالجہتی اداروں کا واجب الادا ہے، جس میں زیادہ تر قرضے نسبتاً طویل مدت اور رعایتی یا نیم رعایتی شرحوں پر حاصل کیے گئے ہیں۔
اصل مسئلہ کہیں اور ہے۔ دوطرفہ ڈپازٹس اور بعض کمرشل قرضے عالمی بانڈز کے مقابلے میں سستے ہوسکتے ہیں، لیکن ان کی مدت اکثر کم ہوتی ہے اور پاکستان کو بار بار قرض رول اوور کرانے کے لیے مذاکرات کرنا پڑتے ہیں، جن کے نتائج کا انحصار معاشی عوامل کے ساتھ ساتھ جغرافیائی سیاست پر بھی ہوسکتا ہے۔
کسی بھی خودمختار ملک کے مالیاتی معاملات کو اس انداز میں چلانا ایک غیر آرام دہ صورت حال ہے۔ پاکستان گزشتہ کئی برسوں میں یہ تجربہ کرچکا ہے کہ کاغذ پر سستا نظر آنے والا قرض بھی حکمت عملی کے اعتبار سے بہت مہنگا ثابت ہوسکتا ہے، اگر اس کی ری فنانسنگ ایسے وقت میں دوطرفہ تعلقات کی نوعیت پر منحصر ہو جب ملک کو ڈالرز کی شدید ضرورت ہو۔
اس لیے کچھ اضافی لاگت برداشت کرکے قرض کی مدت بڑھانے اور مالیاتی یقین دہانی حاصل کرنے کی ایک مضبوط وجہ موجود ہے۔ یہی اصول ملکی قرضوں کے انتظام میں بھی پہلے سے اہمیت اختیار کر رہا ہے، جہاں حکومت قلیل مدتی ٹریژری بلز پر انحصار کم کرنے اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) سمیت طویل مدتی مالیاتی آلات کے ذریعے قرضوں کی مدت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی حکمت عملی واضح ہے۔ پاکستان کو جہاں شرحِ سود اور قرض کی مدت کے اعتبار سے حالات سازگار ہوں، وہاں قلیل مدتی دوطرفہ اور کمرشل قرضوں کو مرحلہ وار طویل مدتی مارکیٹ پر مبنی قرضوں سے تبدیل کرنا چاہیے۔
گزشتہ ہفتے ہونے والے بانڈ اجرا سے واضح ہوتا ہے کہ اس موقع پر توجہ دینا کیوں ضروری ہے۔ پاکستان نے 5.5 سالہ بانڈ کے ذریعے تقریباً 7.75 فیصد کی شرح پر 1.75 ارب ڈالر جبکہ 10 سالہ بانڈ کے ذریعے تقریباً 8.25 فیصد کی شرح پر مزید 1.25 ارب ڈالر حاصل کیے۔ اس اجرا کے لیے موصول ہونے والے آرڈرز کی مالیت تقریباً 6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔
یہ شرحیں پاکستان کے بحران سے پہلے اسی نوعیت کے قرضوں کے مقابلے میں مجموعی طور پر زیادہ ہیں مگر یہ موازنہ مکمل تصویر پیش نہیں کرتا کیونکہ امریکی بینچ مارک شرحِ سود بھی اس وقت کے مقابلے میں خاصی مختلف ہے، جبکہ 2022-23 کے ادائیگیوں کے توازن کے بحران کے دوران پاکستان کے خودمختار قرضوں پر خطرے کا پریمیم بھی نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔
زیادہ اہم بات سرمایہ کاروں کی طلب ہے۔ سرمایہ کاروں نے پاکستان کی جانب سے قبول کی گئی رقم سے تقریباً دگنی مالیت کے بانڈز خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی، جبکہ 10 سالہ بانڈ کے لیے بھی بھرپور طلب سامنے آئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی فوری طور پر ختم کیے بغیر حکومت کے پاس مزید رقم حاصل کرنے کی گنجائش موجود تھی۔
حکومت کی جانب سے 3 ارب ڈالر تک محدود رہنے کا فیصلہ محض محتاط حکمت عملی کا حصہ ہوسکتا ہے۔ ممکن ہے اس اجرا کو سعودی عرب کو قرض کی واپسی کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہو۔ بہرحال اسے رواں سال پاکستان کی عالمی بانڈ مارکیٹ میں سرگرمی کا اختتام نہیں سمجھنا چاہیے۔
حکومت پہلے ہی مزید مالیاتی آلات، جن میں سکوک اور روپے سے منسلک جبکہ ڈالر میں ادائیگی والے بانڈز شامل ہیں، جاری کرنے پر غور کر رہی ہے۔ متنوع بانڈ اجرا پروگرام اس صورت میں مؤثر حکمت عملی ثابت ہوسکتا ہے جب اس کے ذریعے قرضوں کی مدت بڑھائی جائے اور ایسے واجبات کو تبدیل کیا جائے جن میں بار بار قرض رول اوور کرانے کا خطرہ زیادہ ہے۔ اسے موجودہ اخراجات پورے کرنے کے لیے نیا قرض جمع کرنے کا بہانہ نہیں بننا چاہیے۔
یہ فرق انتہائی اہم ہے۔ معاملہ مزید قرض لینے کی دوڑ کا نہیں بلکہ واجبات کے بہتر انتظام کا ہے۔ پاکستان کو محض عالمی مارکیٹ میں بانڈز جاری کرنے کی خاطر اپنے بیرونی قرضوں کے مضبوط ترین حصے کو بھی متاثر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ کم لاگت والے کثیرالجہتی قرضے اور حقیقی طویل مدتی رعایتی فنانسنگ اپنی جگہ برقرار رہنی چاہیے۔ ترجیح دوطرفہ ڈپازٹس، قلیل مدتی کمرشل قرضوں اور ایسے دیگر واجبات کو طویل مدتی قرضوں سے تبدیل کرنے پر ہونی چاہیے جو پاکستان کو بار بار قرضوں میں توسیع کے لیے اپنے قرض دہندگان سے رجوع کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
رول اوور کے خطرے میں ممکنہ کمی خاصی نمایاں ہوسکتی ہے۔ وزارتِ خزانہ کے اپنے قرضوں کے تجزیے کے مطابق جون 2025 تک قلیل مدتی بیرونی قرضہ مجموعی بیرونی قرضوں کا تقریباً ایک چوتھائی تھا، جو ایک ایسی معیشت کے لیے غیر معمولی طور پر بڑا ری فنانسنگ بوجھ ہے جس کے زرمبادلہ کے ذخائر ابھی حال ہی میں بحران کی سطح سے بحال ہوئے تھے۔
حالیہ عرصے میں متحدہ عرب امارات کے واجبات کی ادائیگی اور سعودی سہولت کی ممکنہ واپسی نے اس صورتحال کو تبدیل کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ درمیانی مدت میں ہدف یہ ہونا چاہیے کہ خودمختار قلیل مدتی بیرونی واجبات میں تیزی سے کمی لائی جائے اور مستقبل میں دوبارہ ایسے قرضوں کے جمع ہونے کا راستہ روکا جائے، خصوصاً جب گزشتہ بحران کی یادیں مدھم ہونا شروع ہوجائیں۔
جغرافیائی سیاسی صورتحال بھی موجودہ موقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ واشنگٹن کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں مسلسل بہتری اور آئی ایم ایف کی حمایت سے جاری معاشی استحکام نے سیاسی عوامل سے ہٹ کر بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات کو مضبوط کیا ہے۔
موجودہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں جغرافیائی سیاسی عوامل کا کتنا کردار ہے، اس کا تعین مشکل اور اسلام آباد کے لیے دانش مندی نہیں ہوگی کہ وہ اپنی قرض پالیسی کو اس بنیاد پر تشکیل دے۔ البتہ اس صورتحال سے ایک محدود مگر اہم نتیجہ ضرور اخذ کیا جاسکتا ہے: سازگار سیاسی صف بندی قرض کی مدت کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے تبدیل ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مارکیٹ سازگار ہو تو طویل مدتی قرض حاصل کرنے کا موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
بالآخر حکومت کو مارکیٹ تک بہتر رسائی کو صرف اپنی بیلنس شیٹ کی اصلاح تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ پاکستان میں ایک فعال خودمختار بانڈ ییلڈ کَرو بڑے نجی شعبے کے اداروں، بالخصوص برآمد کنندگان اور پیداواری اثاثوں میں سرمایہ کاری کرنے والی ان کمپنیوں کے لیے ایک اہم معیار فراہم کرسکتا ہے جن کے پاس قدرتی طور پر زرمبادلہ کی آمدنی کے ذریعے قرضوں سے بچاؤ کا انتظام موجود ہوتا ہے۔
یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کہ خودمختار قرض لینا، خواہ کتنی ہی بہتر انداز میں کیا جائے، خود پیداواری صلاحیت پیدا نہیں کرتا۔ پاکستان کو بالآخر ایسے کاروباروں کی مالی معاونت کے لیے غیر ملکی سرمایہ درکار ہے جو ملک کے بیرونی واجبات کی ادائیگی کے لیے درکار ڈالر پیدا کرسکیں، بجائے اس کے کہ پہلے لیے گئے ڈالر کے قرض کو چکانے کے لیے بار بار نئے ڈالر قرض لیے جاتے رہیں۔
فی الحال فوری ترجیح بیلنس شیٹ کی اصلاح ہے۔ پاکستان کے پاس رول اوور کے خطرے کو کم کرنے، بیرونی قرضوں کی مدت بڑھانے، زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط کرنے اور سیاسی حالات سے مشروط فنانسنگ پر انحصار کم کرنے کا موقع موجود ہے۔
ایسے مواقع ماضی میں بھی آئے ہیں، مگر حیران کن تیزی سے ختم ہوگئے۔ دانش مندانہ حکمت عملی یہی ہے کہ پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھائے، جب تک عالمی مارکیٹ اسے ایسی شرحوں پر طویل مدتی قرض کی سہولت فراہم کر رہی ہے جسے ملک برداشت کرسکتا ہے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026