مسابقت کے نام پر اجارہ داری؟
- پبلک پروکیورمنٹ رولز کے رول 42(ایف) پر تنازع ٹیلی کام شعبے سے کہیں بڑھ کر اہمیت رکھتا ہے
ایسا کوئی بھی پروکیورمنٹ قاعدہ جو سرکاری رقم کو کھلے مسابقتی عمل سے باہر خرچ کرنے کی اجازت دیتا ہو، اس کے جواز کے لیے غیر معمولی طور پر مضبوط وضاحت درکار ہونی چاہیے، کیونکہ حکومتی معاہدوں میں صوابدید ہی وہ مقام ہے جہاں نااہلی، جانبداری اور بدعنوانی کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پبلک پروکیورمنٹ رولز کے رول 42(ایف) پر تنازع ٹیلی کام شعبے سے کہیں بڑھ کر اہمیت رکھتا ہے۔
یہ شق 2021 میں شامل کی گئی تھی اور بعض ایسے کاموں اور خدمات کے لیے، جنہیں وقت کے لحاظ سے حساس اور عوامی مفاد میں تصور کیا جائے، سرکاری ملکیت والے اداروں کے ساتھ براہِ راست معاہدے کی اجازت دیتی ہے، جس کے تحت مسابقتی بولی کا عمل نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔
ٹیلی کام آپریٹرز ایسوسی ایشن اب اس شق کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہی ہے، اس کا مؤقف ہے کہ یہ طریقہ کار سرکاری آئی ٹی، ٹیلی کام اور ڈیجیٹل سروسز کے منصوبوں سے نجی کمپنیوں کو بتدریج باہر کررہا ہے۔ یہ تشویش جائز ہے۔
کھلی مسابقتی بولی کسی وجہ سے موجود ہے۔ جب حکومت ٹیکس دہندگان کی رقم خرچ کرتی ہے تو عمومی طور پر مقابلے کے ذریعے یہ طے ہونا چاہیے کہ مطلوبہ سروس کون قیمت، معیار اور صلاحیت کے بہترین امتزاج کے ساتھ فراہم کرسکتا ہے۔
براہِ راست معاہدہ ناگزیر طور پر اس عمل میں صوابدید کو شامل کرتا ہے، اور واضح طور پر متعین حدود کے بغیر صوابدید ترجیحی سلوک، نااہلی اور بالآخر بدعنوانی کے مواقع پیدا کرتی ہے۔
یہ مسئلہ اس وقت مزید تشویشناک ہوجاتا ہے جب کوئی سرکاری ملکیتی ادارہ (ایس او ای) بغیر مسابقت کے حکومتی معاہدہ حاصل کرے اور اس کے بعد بعض اوقات کام کسی نجی کمپنی کو منتقل کردے۔ رول 42( ایف) خود اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ براہِ راست معاہدہ حاصل کرنے والا ادارہ اپنے ہی وسائل کے ذریعے کام مکمل کرے اور نجی شعبے کی شراکت داری، مشترکہ منصوبے یا ذیلی ٹھیکیدار کی حیثیت سے شرکت پر پابندی عائد کرتا ہے۔ اگر ٹیلی کام آپریٹرز ایسوسی ایشن کے الزام کے مطابق منصوبے اس کے باوجود ذیلی ٹھیکیداری کے ذریعے دیے جارہے ہیں تو حکومت کو فوری طور پر اس کی تحقیقات کرنی چاہیے۔
اس معاملے میں ایک بنیادی معاشی مضحکہ خیزی بھی موجود ہے۔ اگر کسی سرکاری ادارے کو اس لیے معاہدہ ملتا ہے کہ اسے حکومتی پروکیورمنٹ تک خصوصی رسائی حاصل ہے اور پھر وہ اصل کام انجام دینے کے لیے کسی نجی کمپنی کو مقرر کردیتا ہے جبکہ اپنا منافع کا حصہ برقرار رکھتا ہے، تو وہ عملاً کرایہ وصول کرنے والے ثالث میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ حکومت براہِ راست نجی کمپنیوں کو معاہدے کے لیے مسابقت کی دعوت دے سکتی تھی، مارکیٹ قیمت کو شفاف انداز میں دریافت کرسکتی تھی اور اس غیر ضروری اضافی سطح کو مکمل طور پر ختم کرسکتی تھی۔
یہ صورتحال حکومت کے اس بار بار دہرائے جانے والے مؤقف سے بھی مطابقت نہیں رکھتی کہ معاشی ترقی میں نجی شعبے کا کردار بتدریج مرکزی ہونا چاہیے۔ نجی کمپنیوں سے معقول طور پر یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور ہنرمند ملازمین میں سرمایہ کاری کریں، ٹیکس ادا کریں اور بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کریں، جبکہ ریاست بیک وقت قیمتی مقامی کاروبار ان اداروں کے لیے محفوظ رکھے جن کی وہ ملکیت رکھتی اور سرپرستی کرتی ہے۔
بالخصوص ٹیکنالوجی کے شعبے میں، مقامی معاہدے پاکستانی کمپنیوں کو وہ تجربہ، وسعت اور ساکھ فراہم کرسکتے ہیں جن کی بنیاد پر وہ بیرون ملک کاروبار حاصل کرنے کے قابل ہوسکتی ہیں۔
آئی ایم ایف نے بھی پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ سرکاری اداروں کے درمیان براہِ راست معاہدوں سے متعلق پروکیورمنٹ قوانین میں اصلاحات کرے، جس سے زیادہ مسابقت اور شفافیت کی ضرورت کے مؤقف کو مزید تقویت ملتی ہے۔ تاہم جی ٹو جی یعنی حکومت سے حکومت کے درمیان معاہدوں کے لیے کسی نہ کسی استثنا کو برقرار رکھنے کی ایک دلیل بھی موجود ہے۔
حکومتوں کو بعض اوقات ہنگامی حالات، حساس منصوبوں یا حقیقی طور پر وقت کی انتہائی اہمیت رکھنے والی ضروریات کا سامنا ہوتا ہے، جہاں روایتی پروکیورمنٹ طریقہ کار ناقابلِ قبول تاخیر کا باعث بن سکتے ہیں۔ لہٰذا براہِ راست معاہدے کے ہر راستے کو ختم کردینا بھی اپنے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔
اسی وجہ سے اس استثنا کی حدود خاص طور پر اہم ہیں۔ رول 42(ایف) کو ایک محدود اور واضح طور پر متعین دائرے میں نافذ ہونا چاہیے، جس میں مخصوص اہلیت کی شرائط، تحریری جواز اور مؤثر نگرانی شامل ہو۔ عوامی مفاد اور وقت کی حساسیت ایسے سہل الفاظ نہیں بننے چاہئیں جو محض اس لیے معاہدوں کے ساتھ جوڑ دیے جائیں کہ کوئی ادارہ مسابقت سے بچنا چاہتا ہے۔ ہر استثنا کو بعد میں ہونے والی جانچ پڑتال کا سامنا کرنے کے قابل ہونا چاہیے، جس میں یہ بھی واضح کیا جائے کہ مسابقتی بولی کیوں موزوں نہیں تھی اور منتخب سرکاری ادارہ بہتر قدر یا فائدہ کیسے فراہم کرتا تھا۔
جہاں کوئی سرکاری ملکیتی ادارہ معمول کے حکومتی کاروبار کے لیے مقابلہ کرنا چاہتا ہو، وہاں اس کے لیے کھلے ٹینڈر سے خوفزدہ ہونے کی کوئی خاص وجہ نہیں۔ سرکاری اور نجی اداروں کو مساوی بنیادوں پر اپنی پیشکشیں جمع کرانی چاہئیں، اپنی قیمتیں ظاہر کرنی چاہئیں اور اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اگر سرکاری ادارہ واقعی بہترین قدر فراہم کرتا ہے تو اسے کامیاب ہونا چاہیے۔
حکومت کے پاس بعض پروکیورمنٹ معاملات میں صوابدید برقرار رکھنے کی جائز وجوہات ہوسکتی ہیں، لیکن پاکستان کا تجربہ اس بات کے کافی شواہد فراہم کرتا ہے کہ جب صوابدید معمول بن جائے تو کیا کچھ ہوسکتا ہے۔ لہٰذا استثنا کو حقیقتاً استثنا ہی رہنا چاہیے۔ بصورت دیگر مسابقتی پروکیورمنٹ محض دعوت پر مبنی مسابقت بن کر رہ جائے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026