اقتصادی تعاون تنظیم کے تجارتی معاہدے میں اصلاحات کا مطالبہ
ایف پی سی سی آئی اور ایکو چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے ایکو تجارتی معاہدے میں اصلاحات اور اس پر مؤثر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ خطے میں باہمی تجارت کو فروغ دے کر ایک مضبوط اور مسابقتی اقتصادی بلاک تشکیل دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایکو خطہ عالمی تجارت میں صرف تقریباً 4 فیصد حصہ رکھتا ہے، جبکہ باہمی تجارت کا حجم تقریباً 8.75 فیصد ہے، جو خطے کی حقیقی صلاحیت سے کہیں کم ہے۔
عاطف اکرام شیخ کے مطابق خطے میں معدنی و توانائی کے وسیع ذخائر، نوجوان افرادی قوت اور ایشیا کو یورپ سے ملانے والے اہم زمینی و ریلوے راستے موجود ہیں۔ تاہم بلند ٹیرف، غیر ٹیرف رکاوٹیں، ادائیگیوں کے مسائل اور مختلف تجارتی قوانین باہمی تجارت کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایکوٹا 2003 میں طے ہوا اور اپریل 2008 میں نافذ ہوا، مگر ٹیرف کے اختلافات اور دیگر مسائل کے باعث اس پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
انہوں نے زور دیا کہ معاہدے کو محض کاغذی دستاویز کے بجائے مؤثر بنانے کے لیے مسلسل مذاکرات، ٹیرف میں متوازن کمی، مصنوعات میں تنوع، آسان ادائیگیوں، ای کامرس اور بہتر علاقائی ٹرانسپورٹ نظام پر توجہ دینا ہوگی۔