✕
اداریہ

وہ رعایت جس پر کسی کی نظر نہ پڑی

پاور ڈویژن کے جائزے میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک ہی بین الاقوامی سپلائرز سے اور ایک ہی تسلیم شدہ بینچ مارک کے تحت کوئلے...
شائع اپ ڈیٹ

پاور ڈویژن کے ایک جائزے میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک ہی بین الاقوامی سپلائرز سے اور ایک ہی تسلیم شدہ بینچ مارک کے تحت کوئلے کی خریداری کرنے والے پاور پلانٹس کو انتہائی مختلف رعایتیں دی جارہی تھیں جو صرف 0.25 ڈالر سے 7.12 ڈالر فی میٹرک ٹن تک تھیں۔

حکومت نے اب ایک سادہ اصول متعارف کرایا ہے کہ پاور پلانٹس کو اسی کنٹریکٹ شدہ سپلائر سے کوئلہ خریدنا ہوگا جو دستیاب بہترین رعایت پیش کرے۔

اس اقدام سے بغیر کسی اضافی سرمایہ کاری کے سالانہ تقریباً 380 ملین روپے کی بچت ہوسکتی ہے۔ بلاشبہ یہ ایک مناسب اقدام ہے، تاہم اس سے ایک قدرے پریشان کن سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اتنی واضح بات پر اتنے طویل عرصے تک عمل کیوں نہیں کیا گیا؟

ان بے ضابطگیوں کا سراغ لگانے کے لیے کسی غیر معمولی فارنزک تحقیقات کی ضرورت نہیں تھی۔ خریداری کا ڈیٹا، معاہدے کے انتظامات اور بینچ مارک سے منسلک قیمتوں کا ریکارڈ پہلے ہی دستیاب تھا اور جب حکام نے ان کا باقاعدہ موازنہ کیا تو نظام کی خامیاں واضح ہوگئیں۔ بعض معاملات میں متبادل انتظامات کے تحت بنیادی سپلائی معاہدوں کے مقابلے میں زیادہ رعایتیں حاصل ہورہی تھیں۔

دوسرے معاملات میں پلانٹس ایسے سپلائرز سے خریداری جاری رکھے ہوئے تھے جو کم موزوں شرائط پیش کررہے تھے حالانکہ معاہدے کے تحت دستیاب متبادل سپلائرز زیادہ بہتر رعایتیں دے رہے تھے۔

جب ایندھن کی لاگت بالآخر بجلی کے ٹیرف میں شامل ہوتی ہے تو ایسے فیصلوں کے اثرات صرف خریداری کے شعبوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ نئی پالیسی کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔ پاور پلانٹس کو دستیاب سب سے زیادہ رعایت دینے والے سپلائر کا انتخاب کرنے کا پابند بنانے سے ایسے نظام میں کاروباری نظم و ضبط کا بنیادی عنصر شامل ہوگا جہاں بالآخر صارفین ہی غیر مؤثر انتظامی فیصلوں کی لاگت برداشت کرتے ہیں۔ درآمدی کوئلہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ صنعتی شعبے میں بھی استعمال ہوتا ہے، تاہم پاور سیکٹر کے معاشی تقاضوں کے باعث خریداری کے عمل میں نظم و ضبط کی اہمیت خاص طور پر بڑھ جاتی ہے۔

ایندھن کی لاگت بجلی کی قیمتوں کے تعین میں شامل ہوتی ہے جبکہ سبسڈیز اور دیگر مالی اقدامات کے باعث شعبے کی لاگت بڑھنے کی صورت میں حکومت کو بھی اس کا کچھ بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ چنانچہ پاور پلانٹ کے کوئلے کے بل میں بلاوجہ شامل کیا جانے والا ایک ڈالر بھی ٹیرف، سبسڈیز اور سرکاری مالیات کے ذریعے سفر کرتے ہوئے بالآخر ٹیکس دہندگان اور صارفین پر بوجھ بن سکتا ہے۔

تاہم حل کی سادگی اصل مسئلے کی گہرائی کو بھی عیاں کرتی ہے۔ ریاستی مشینری نے ایک بار پھر ایسی قابلِ گریز لاگت کا سراغ اس وقت لگایا جب اسے طویل عرصے تک برقرار رہنے دیا جاچکا تھا۔ حکام کو مختلف سپلائرز کی رعایتوں کا موازنہ کرنے میں کوئی تکنیکی رکاوٹ درپیش نہیں تھی۔

کسی مہنگے نئے ادارے، کنسلٹنٹ یا پیچیدہ اصلاحاتی پروگرام کی ضرورت نہیں تھی۔ صرف اعداد و شمار کا جائزہ لینے، تضادات کی نشاندہی کرنے اور یہ سوال اٹھانے کی ضرورت تھی کہ پلانٹس اپنے معاہدوں کے تحت پہلے سے دستیاب زیادہ موزوں شرائط پر خریداری کیوں نہیں کررہے تھے۔

یہ انتظامی ناکامی کی عین مثال ہے جو بار بار حکومت کی لاگت میں اضافہ کرتی ہے۔ معمولی نوعیت کی غیر مؤثریاں اس لیے جڑ پکڑ لیتی ہیں کہ کسی کو رائج طریقہ کار کو چیلنج کرنے کا پابند نہیں کیا جاتا اور وقت گزرنے کے ساتھ یہی رائج طریقہ کار باضابطہ طریقۂ کار کی حیثیت اختیار کرلیتا ہے۔ جب آخرکار کوئی بنیادی تجارتی سوال اٹھاتا ہے تو ممکن ہے صارفین برسوں سے اس کی قیمت ادا کررہے ہوں۔

سالانہ 380 ملین روپے کی متوقع بچت پاور سیکٹر کے وسیع مالی مسائل کے مقابلے میں بظاہر معمولی لگ سکتی ہے لیکن اس سے اصل نکتہ نظرانداز ہوجاتا ہے۔ اگر خریداری کے کسی ایک جزو کے صرف ایک جائزے سے بغیر کسی نئی سرمایہ کاری کے بچت کے مواقع سامنے آسکتے ہیں تو پھر اسی نوعیت کی کتنی مالی لیکیجز دیگر شعبوں میں پوشیدہ ہوں گی؟

لہٰذا پاور ڈویژن کا اعدادوشمار پر مبنی یہ طریقہ کار پورے شعبے میں وسعت دینا درست اقدام ہے۔ ایندھن کی خریداری، مرمت کے معاہدوں، ترسیلی اخراجات، انتظامی اخراجات اور دیگر پاس تھرو مدات کا بھی اسی طرح باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔

مقصد سادہ ہونا چاہیے: جہاں بالآخر عوامی رقم یا صارفین کے ٹیرف سے اخراجات پورے ہوتے ہوں، وہاں تجارتی فیصلے شفاف، مسابقتی اور واضح طور پر مؤثر ہونے چاہئیں۔ پاور پلانٹ کے ایک نمائندے کی یہ تجویز بھی قابلِ غور ہے کہ کوئلے کی خریداری مسابقتی بولی کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔ اس تجویز کو مسترد کرنے کے بجائے اس کے میرٹ کی بنیاد پر جائزہ لیا جانا چاہیے۔

ان جائزوں کے نتائج شائع کرنے کی بھی مضبوط بنیاد موجود ہے۔ بار بار ٹیرف میں اضافے کا بوجھ برداشت کرنے والے صارفین یہ جاننے کے حق دار ہیں کہ قابلِ گریز اخراجات کہاں سامنے آرہے ہیں، یہ اخراجات کتنے عرصے سے موجود تھے اور اصلاحی اقدامات کے نتیجے میں کتنی قابلِ پیمائش بچت حاصل ہورہی ہے۔

شفافیت سے انفرادی پاور پلانٹس اور ریگولیٹرز پر بھی یہ دباؤ بڑھے گا کہ وہ ایسی خریداری کے فیصلوں کی وضاحت کریں جو واضح تجارتی منطق سے مطابقت نہیں رکھتے۔

پاور ڈویژن کو اس مخصوص غیر مؤثری کی نشاندہی کرکے اس پر کارروائی کرنے کا کریڈٹ ضرور ملنا چاہیے۔ لیکن کسی حکومت کو اس بات پر خود کو مبارکباد دینے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کہ ایک ہی چیز سستے داموں خریدنے سے پیسے کی بچت ہوتی ہے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ایسی جانچ پڑتال معمول کا حصہ بن جائے اور یہ تضادات صارفین کے بل کا حصہ بننے سے پہلے ہی پکڑے جائیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026