سونے کی بلند قیمتیں: ویلیو ایڈیشن میکنزم میں نظرثانی کیلئے کابینہ سے منظوری طلب
- متنازع امور پر تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس ذاتی طور پر طلب کیا جائے، چیئرمین کمیٹی
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے وزارت کو ہدایت کی ہے کہ بین الاقوامی سونے کی قیمتوں سے منسلک ویلیو ایڈیشن میکنزم میں نظرثانی کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو سمری ارسال کی جائے جس پر اسٹیٹ بینک سمیت تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے اتفاق کیا ہے۔
وزیر تجارت نے یہ ہدایات جوائنٹ سیکریٹری کامرس (ایکسپورٹ امپورٹ) وقاص عظیم کو اس وقت جاری کیں جب انہوں نے وفاقی وزیر کو سونے کے زیورات کی صنعت کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔
قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان اور کمیٹی کے رکن گل اصغر خان نے اتفاق رائے سے طے شدہ مسائل کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔
چیئرمین کمیٹی نے وزیر تجارت سے یہ بھی درخواست کی کہ متنازع امور پر تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس ذاتی طور پر طلب کیا جائے تاکہ باہمی اتفاقِ رائے سے درمیانی راستہ نکالا جا سکے۔
جوائنٹ سیکریٹری کامرس کے مطابق جیمز اینڈ جیولری کے شعبے نے تین بڑے مسائل کی نشاندہی کی ہے جن میں سے ایک ویلیو ایڈڈ سونے کی مصنوعات کے لیے ویلیو ایڈیشن میں نظرثانی سے متعلق ہے۔
بزنس ریکارڈر کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق، گولڈن آرٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز آف آرٹسٹک گولڈ جیولری کے نمائندے عارف پٹیل نے ایس آر او 760(I)/2013 کے تحت بین الاقوامی سونے کی قیمتوں سے منسلک ویلیو ایڈیشن کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ 2013 میں مذکورہ ایس آر او کے اجرا کے بعد سے سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو تقریباً 1,380 ڈالر فی اونس سے بڑھ کر تقریباً 5,100 ڈالر فی اونس ہوگئی ہیں، یعنی تقریباً 400 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ طریقہ کار جس کے تحت ویلیو ایڈیشن کو سونے کی قیمت سے منسلک کیا گیا ہے، اب بین الاقوامی طریقہ کار سے ہم آہنگ نہیں رہا اور اس کے باعث برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ویلیو ایڈیشن سونے کی مالیت کے فیصد کے بجائے فی گرام کی بنیاد پر مقرر کیا جائے۔
صنعت نے سادہ چوڑیوں اور چینز کے لیے 1.50 ڈالر فی گرام، دیگر سادہ زیورات کے لیے 2 ڈالر فی گرام جبکہ جڑے ہوئے یا نگینے والے زیورات کے لیے 4 ڈالر فی گرام ویلیو ایڈیشن مقرر کرنے کی تجویز دی۔
اسٹیٹ بینک کے نمائندے نے اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی بینک کو ویلیو ایڈیشن مقرر کرنے کے لیے فیصد یا فی گرام، دونوں میں سے کسی بھی بنیاد پر کوئی اعتراض نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسٹیٹ بینک نے فیصد کی بنیاد پر ویلیو ایڈیشن کے طریقہ کار کو لازمی قرار دینے کے حوالے سے کوئی تحریری مؤقف جاری نہیں کیا۔
تاہم وزارت صنعت و پیداوار کے نمائندے کی رائے تھی کہ موجودہ فیصد پر مبنی نظام برقرار رکھا جانا چاہیے، البتہ فیصد کی حد کم کرکے اسے علاقائی طریقہ کار سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔
مجموعی طور پر تمام اسٹیک ہولڈرز نے اتفاق کیا کہ ویلیو ایڈیشن کے طریقہ کار کو معقول بنانے کی ضرورت ہے۔ بعد ازاں تجویز دی گئی کہ ویلیو ایڈیشن کے قواعد میں نظرثانی کرتے ہوئے انہیں فی گرام کی بنیاد پر مقرر کیا جائے جس کے تحت سادہ سونے کے زیورات کے لیے 2 ڈالر، سادہ سونے کی چینز کے لیے 3 ڈالر جبکہ نگینے والے سونے کے زیورات کے لیے 5 ڈالر فی گرام ویلیو ایڈیشن مقرر کیا جائے۔
دوسرا معاملہ ایس آر او 760(I)/2013 کے تحت قیمتی دھاتوں کی درآمد پر سیلز ٹیکس کے اطلاق سے متعلق تھا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ایس آر او کے تحت قیمتی دھاتوں کی درآمد کو متعلقہ قوانین کے تحت تمام ڈیوٹیز اور ٹیکسز، بشمول کسٹمز ڈیوٹی، اضافی کسٹمز ڈیوٹی اور ودہولڈنگ انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جانا مقصود تھا، تاہم سیلز ٹیکس ایکٹ کو اس استثنیٰ کے طریقہ کار سے مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں کیا گیا تھا۔
اس وقت سیلز ٹیکس ایکٹ کے چھٹے شیڈول کے ٹیبل-1 کے سیریل نمبر 178 کے تحت صرف انٹرسٹمنٹ اسکیم کے تحت درآمد کیا جانے والا سونا سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ ہے جبکہ سیلف کنسائنمنٹ اسکیم کے تحت درآمدات اور فروخت نہ ہونے والے زیورات پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے۔
اس تضاد کو دور کرنے کے لیے تجویز دی گئی کہ سیریل نمبر 178 میں موجود استثنیٰ کی شق میں ترمیم کرکے اسے ’’SRO 760(I)/2013 کے تحت درآمد قرار دیا جائے، بجائے اس کے کہ اسے صرف انٹرسٹمنٹ اسکیم تک محدود رکھا جائے۔ متبادل طور پر انٹرسٹمنٹ اسکیم کا حوالہ مکمل طور پر حذف کرکے SRO 760(I)/2013 کو استثنیٰ کی واحد بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے۔
تمام اسٹیک ہولڈرز نے اس تجویز سے اتفاق کیا اور فیصلہ کیا کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم پر اٹھایا جائے گا۔
جوائنٹ سیکریٹری کامرس نے بتایا کہ ایف بی آر نے مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں سیلز ٹیکس سے متعلق مسئلہ حل کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم بجٹ میں آخرکار کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
تیسرا معاملہ برآمدی آمدنی کی وصولی سے متعلق تھا۔
موجودہ طریقہ کار کے تحت برآمد کنندگان کے لیے لازم ہے کہ برآمدی آمدنی کا کم از کم 50 فیصد زرمبادلہ کی صورت میں معمول کے بینکاری ذرائع کے ذریعے وصول کریں جبکہ باقی 50 فیصد رقم زرمبادلہ یا قیمتی دھاتوں کی صورت میں وصول کی جا سکتی ہے۔
نجی شعبے نے نشاندہی کی کہ سونے کی قیمتیں اور امریکی ڈالر کی شرحِ تبادلہ مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہیں جبکہ اکثر مقامی اور بین الاقوامی سونے کی قیمتوں میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں برآمد کنندگان کو مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔صنعت نے موجودہ شرط ختم کرنے اور برآمد کنندگان کو برآمدی آمدنی کا 100 فیصد تک سونے کی صورت میں وصول کرنے کی اجازت دینے کی تجویز دی، مؤقف اختیار کیا کہ اس اقدام سے برآمدات کی استعداد میں اضافہ ہوگا۔
اگرچہ زیادہ تر اسٹیک ہولڈرز نے اس تجویز کی حمایت کی تاہم اسٹیٹ بینک کے نمائندے نے موجودہ 50:50 انتظام برقرار رکھنے کی حمایت کی اور برآمدی آمدنی کا 100 فیصد سونے کی صورت میں وصول کرنے کی اجازت دینے کی مخالفت کی۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس معاملے کو باقاعدہ طور پر اسٹیٹ بینک کے سامنے پیش کرکے اس کی رائے اور تبصرے طلب کیے جائیں جس کے بعد مرکزی بینک تحریری جواب دے گا۔
جوائنٹ سیکریٹری کامرس نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے برآمدی آمدنی کی وصولی سے متعلق تجویز سے اتفاق نہیں کیا تھا بلکہ اس کی خواہش تھی کہ برآمدی آمدنی کی مکمل رقم ڈالرز میں پاکستان منتقل کی جائے۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سونے کی درآمد اور زیورات کی برآمد سے متعلق مسائل کے حل کے لیے ایک جامع پالیسی کی ضرورت ہے۔
تفصیلی غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ وزارت تجارت سونے کی مصنوعات کے لیے نظرثانی شدہ ویلیو ایڈیشن میکنزم کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو سمری ارسال کرے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026