✕
کاروبار اور معیشت

پی ایل ایل نے ایمرجنسی اسپاٹ ایل این جی کارگو کی بولی مسترد کر دی، نیا ٹینڈر جاری

  • فوری ایل این جی کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو حکومت کو شام کے اوقات میں بجلی کی بندش کا سلسلہ جاری رکھنا پڑ سکتا ہے، رپورٹ
شائع اپ ڈیٹ

مہنگی ایل این جی خریدنے کی پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد سرکاری ملکیت کی پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے بدھ کو ایل این جی ٹینڈر دوبارہ جاری کردیا ہے اور اب 12 ستمبر سے قبل ایک ایل این جی کارگو حاصل کرنے کے لیے بولیاں طلب کی ہیں۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ جمعہ مقرر کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پی ایل ایل نے اس سے قبل 8 ستمبر تک ترسیل کیلئے ہنگامی بنیادوں پر جاری کیا گیا ٹینڈراس وقت منسوخ کردیا تھا جب اسے بی پی پی ایل سی کی جانب سے 27 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹس کی واحد پیشکش موصول ہوئی، جو جنگ سے قبل کی اسپاٹ قیمتوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ تھی۔

بلومبرگ نے نشاندہی کی کہ اگر فوری طور پر ایل این جی کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو حکومت کو شام کے اوقات میں بجلی کی بندش کا سلسلہ جاری رکھنا پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ امریکا۔ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والے توانائی کے بحران نے پاکستان کے سب سے بڑے ایل این جی سپلائر قطر سے ایل این جی کی ترسیل متاثر کردی ہے جس نے گزشتہ ہفتے فورس میجر میں توسیع کردی تھی۔

گزشتہ ہفتے پاکستان کے پاور ڈویژن نے ملک بھر میں طویل دورانیے کی بجلی کی بندش کا ذمہ دار بالواسطہ طور پر پیٹرولیم ڈویژن کو قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پنجاب میں آر ایل این جی پر چلنے والے تین بجلی گھروں کو چلانے کے لیے درکار آر ایل این جی کی قلت کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی۔

باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ قطر سے معاہدے کے تحت حاصل ہونے والی گیس کی فراہمی فورس میجر کی صورتحال کے باعث معطل ہونے کے بعد پی ایل ایل کو اسپاٹ مارکیٹ سے آر ایل این جی خریدنے پر مجبور ہونا پڑا، جس کے نتیجے میں قلت پیدا ہوئی۔ آر ایل این جی کارگو کی آمد میں تاخیر نے ایندھن کی قلت کو مزید سنگین کردیا اور بجلی کی پیداوار بھی متاثر ہوئی۔

وفاقی حکومت نے پیر کو رات کے اوقات میں لوڈشیڈنگ پر معذرت کرتے ہوئے اس صورتحال کی وجہ قطر سے معاہدے کے تحت حاصل ہونے والی ایل این جی کی عدم دستیابی کو قرار دیا جس کے باعث تقریباً 5 ہزار میگاواٹ مجموعی پیداواری صلاحیت رکھنے والے بجلی گھر کام کرنے سے قاصر رہے۔

وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ اب تک دن یا رات کے اوقات میں بجلی کی فراہمی میں کوئی کمی نہیں ہوئی, تاہم رات کے اوقات میں طلب میں اضافے کے باعث، جب آر ایل این جی پر چلنے والے بجلی گھروں کے بغیر یہ ضرورت پوری کرنا ممکن نہیں ہوتا عوام مشکل وقت سے گزر رہے ہیں جس پر میں معذرت خواہ ہوں۔