آبنائے ہرمز سے سعودی تیل لے جانے والے 2 آئل ٹینکرز پر حملہ
- بحری راستوں کی نگرانی کرنے والی فرم میریسک کے مطابق بیک وقت پیش آنے والے واقعات عمانی بحری راہداری میں خطرات میں مزید اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں
بحری جہازوں سے متعلق انٹیلی جنس اور نگرانی کرنے والی کمپنیوں میریسکس اور کپلر کے مطابق پیر کی رات آبنائے ہرمز سے باہر نکلتے ہوئے سعودی تیل لے جانے والے دو سپر ٹینکرز کو چند منٹ کے وقفے سے نامعلوم سمت سے آنے والے میزائلوں یا گولہ نما اشیا سے نشانہ بنایا گیا۔
میریسکس نے کہا کہ تقریباً بیک وقت پیش آنے والے یہ واقعات عمانی بحری راہداری میں خطرات کی صورتحال میں مزید اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق دونوں ٹینکرز نے گزشتہ ہفتے جوعیمہ ٹرمینل سے 20،20 لاکھ بیرل سعودی خام تیل لادا تھا۔ سعودی آرامکو نے اگست میں آبنائے ہرمز کے اندر سے تیل کی لوڈنگ اور فروخت دوبارہ شروع کی تھی۔
آبنائے ہرمز پر ایرانی اور امریکی ناکہ بندیوں کے باعث خلیج سے توانائی کی برآمدات میں نمایاں کمی آئی ہے، کیونکہ دونوں فریق آبی گزرگاہ پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
قطر اور عمان سمیت ثالثوں کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے معاہدہ کرانے کی کوششیں اب تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکیں۔ امریکی اور اسرائیلی افواج کی جانب سے ایران پر حملے شروع کیے جانے سے قبل یہ آبی گزرگاہ دنیا بھر کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی کی ترسیل کا ذریعہ تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف مزید حملوں کی دھمکی کے بعد منگل کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ یہ دھمکی جولائی کے اواخر کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ کے پہلے تبادلے کے بعد سامنے آئی۔
بحری جہازوں پر حالیہ حملوں کے حوالے سے میریسکس نے بتایا کہ سعودی پرچم بردار بہت بڑا خام تیل بردار جہاز سدر کو عمان کے علاقے خصب سے تقریباً 16.6 بحری میل شمال مشرق میں رات 7 بج کر 52 منٹ (یو ٹی سی) کے قریب نامعلوم سمت سے آنے والے میزائلوں یا گولہ نما اشیا سے نشانہ بنایا گیا۔
میریسکس کے مطابق چند منٹ بعد لائبیریا کے پرچم بردار سینیگال پراسپیریٹی کو خصب سے تقریباً 17 بحری میل مشرق میں تین نامعلوم میزائلوں یا گولہ نما اشیا سے نشانہ بنائے جانے کی اطلاع ملی۔ کمپنی نے بتایا کہ جہاز پر سوار تمام عملہ محفوظ رہا۔
برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی نے بھی آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے والے ایک ٹینکر کو اسی مقام پر تین میزائلوں یا گولہ نما اشیا سے نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر وہی واقعہ تھا۔
سدر کو چلانے والی کمپنی بحری اور سینیگال پراسپیریٹی کی آپریٹر کمپنی سینوکور نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔
اس سے قبل منگل کو ایرانی میڈیا نے اطلاع دی تھی کہ ایک سعودی آئل ٹینکر کو آبنائے ہرمز کی جنوبی بحری راہداری سے گزرتے ہوئے روک لیا گیا۔