✕
پاکستان

حکومت نے ملک بھر میں لوڈشیڈنگ پر قوم سے معذرت کرلی

  • وزیر توانائی اویس لغاری اور وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے مشترکہ ویڈیو پیغام میں آر ایل این جی کی قلت اور اس کے نتیجے میں لوڈ مینجمنٹ کی وجوہات بیان کیں
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی حکومت نے پیر کو رات کے اوقات میں لوڈشیڈنگ پر عوام سے معذرت کرتے ہوئے اس صورتحال کی وجہ قطر سے معاہدے کے تحت ایل این جی کی عدم دستیابی کو قرار دیا، جس کے باعث مجموعی طور پر تقریباً 5,000 میگاواٹ صلاحیت کے بجلی گھر کام کرنے سے قاصر ہیں۔

وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے مشترکہ ویڈیو پیغام میں آر ایل این جی کی قلت اور اس کے نتیجے میں ملک بھر میں بجلی کی لوڈ مینجمنٹ کی وجوہات بیان کیں، جن میں زیادہ تر ترسیلی نقصانات والے علاقے بھی شامل ہیں۔

اویس لغاری نے کہا کہ اب تک دن یا رات کے اوقات میں بجلی کی فراہمی میں کوئی کمی نہیں ہوئی، تاہم رات کے اوقات میں طلب میں اضافے کے باعث آر ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کے بغیر ضرورت پوری کرنا ممکن نہیں، جس کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے اور وہ اس پر معذرت خواہ ہیں۔

وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ حکومت متاثرہ بجلی گھروں کو چلانے کے لیے اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی خرید سکتی ہے، تاہم ایران اور امریکا کے تنازع اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی منڈی میں اس کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی خرید کر بجلی گھر چلائے گئے تو اس کی لاگت 2 ماہ بعد صارفین کو منتقل ہوگی، جس سے بجلی کے بلوں میں 5 سے 6 روپے فی یونٹ اضافہ ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ عوام کو چند روز مشکلات کا سامنا ہے، تاہم حکومت انہیں ہزاروں روپے کے اضافی بلوں سے بچانے کی کوشش کررہی ہے۔

اویس لغاری کے مطابق ڈیزل اور کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر مکمل صلاحیت پر چلائے جارہے ہیں، جبکہ پن بجلی کی پیداوار بھی جاری ہے، جس کا انحصار زرعی ضروریات کے لیے پانی کی دستیابی پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے جنوبی حصے سے دستیاب زیادہ سے زیادہ بجلی ترسیلی نظام کی گنجائش کے مطابق شمالی علاقوں کو منتقل کی جارہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حیسکو میں سپلائی کی کمی کے باعث لوڈشیڈنگ نہیں ہورہی، تاہم زیادہ بجلی کے ترسیلی نقصانات والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھایا گیا ہے۔

انہوں نے ایک بار پھر عوام سے آر ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث ہونے والی لوڈشیڈنگ پر معذرت کرتے ہوئے یقین دلایا کہ گیس کا مسئلہ حل ہوتے ہی بجلی کی بندش ختم کردی جائے گی۔

اویس لغاری نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے واضح ہدایات دی ہیں کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت لوڈشیڈنگ کے خاتمے، بجلی کی پیداوار بڑھانے اور گیس کی فراہمی کا مسئلہ جلد حل کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کررہی ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال کے باعث توانائی کی عالمی منڈیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایل این جی کے ایک کارگو کی قیمت، جو عام طور پر 30 سے 35 ملین ڈالر ہوتی ہے، اسپاٹ مارکیٹ میں بڑھ کر تقریباً 75 ملین ڈالر ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو مہنگی توانائی کی درآمدات کے ملکی کرنٹ اکاؤنٹ پر اثرات کو بھی مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق مارچ سے جولائی 2026 کے دوران ایندھن کا درآمدی بل تقریباً 1.3 ارب ڈالر رہا۔

علی پرویز ملک نے بتایا کہ عالمی توانائی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کم کرنے اور صارفین کو ریلیف دینے کے لیے حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر 130 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی ہے۔

وزیر پٹرولیم نے کہا کہ وزارت توانائی اور پٹرولیم ڈویژن نے مشکل علاقائی صورتحال کے باوجود توانائی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ جیسی صورتحال کے باوجود حکومت توانائی کی سپلائی چین کو فعال رکھنے اور فراہمی کا تسلسل برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔

علی پرویز ملک کے مطابق حکومت علاقائی اور عالمی توانائی مارکیٹ کی صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور پٹرولیم مصنوعات، ایل این جی اور دیگر توانائی کے وسائل کی مناسب فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قطر سے گیس کی فراہمی جلد بحال کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں، جس کے بعد صورتحال میں بہتری آنے اور رات کے اوقات میں لوڈ مینجمنٹ ختم ہونے کی توقع ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026