✕
اداریہ

افغانستان کا چیلنج

  • پاکستان کو افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنا چاہیے
شائع اپ ڈیٹ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے جاری کی گئی تازہ ترین رپورٹ پاکستان کو درپیش دہشت گردی کے ابھرتے ہوئے خطرے کی ایک انتہائی تشویشناک تصویر پیش کرتی ہے، بالخصوص افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی مسلسل موجودگی اور اسے حاصل حمایت کے حوالے سے۔

ٹی ٹی پی، القاعدہ، اسلامک اسٹیٹ-خراسان (آئی ایس آئی ایل-کے) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے درمیان مبینہ روابط اس چیلنج کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ پاکستان اس بڑھتے ہوئے باہمی طور پر مربوط عسکریت پسند ماحولیاتی نظام کو کم اہمیت دینے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

اسی وقت رپورٹ میں یہ انکشاف بھی توجہ کا مستحق ہے کہ افغان طالبان نے تقریباً 2,000 ٹی ٹی پی جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو پاکستان کی سرحد سے دور منتقل کردیا ہے، جبکہ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ٹی ٹی پی کی قیادت کو پاکستان کے خلاف حملوں سے باز رہنے کی تنبیہ کی ہے۔ اگر ٹی ٹی پی کا کمانڈ، تربیت اور لاجسٹک انفرااسٹرکچر بدستور برقرار رہتا ہے تو یہ اقدامات واضح طور پر ناکافی ہیں۔

تاہم یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کابل کے پاس دہشت گرد گروہ کو قابو میں رکھنے کی کچھ صلاحیت اور شاید کچھ آمادگی بھی موجود ہے۔ لہٰذا پاکستان کو افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنا چاہیے، جبکہ سکیورٹی اور سفارتی دباؤ بھی مضبوطی سے برقرار رکھنا چاہیے۔

مذاکرات کو کمزوری یا رعایت نہ سمجھا جائے۔ اس کے بجائے، مذاکرات اسلام آباد کو ایک ایسا ذریعہ فراہم کرسکتے ہیں جس کے ذریعے افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا جاسکے۔

اس مقصد کے لیے پہلے ہی ایک مفید علاقائی فریم ورک موجود ہے جس کی بنیاد پر مزید پیش رفت کی جاسکتی ہے۔ پاکستان، افغانستان اور چین کے اعلیٰ حکام نے یکم سے 7 اپریل 2026 تک چین کے شہر ارومچی میں غیر رسمی سہ فریقی مذاکرات کیے تھے، جن میں چین نے سال کے آغاز میں ہونے والی فوجی جھڑپوں کے بعد کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں سہولت کاری کی تھی۔

اسلام آباد نے کابل پر زور دیا تھا کہ وہ ٹی ٹی پی کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کرے اور اس کے محفوظ ٹھکانے ختم کرے، جبکہ خیال کیا جاتا ہے کہ بیجنگ نے خطے میں سرگرم ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) کے حوالے سے اپنے خدشات بھی اٹھائے تھے۔

اگرچہ یہ مذاکرات ابتدائی نوعیت کے تھے اور ان سے کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی، تاہم اطلاعات کے مطابق شرکا نے اصولی طور پر اس بات پر اتفاق کیا کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے گا جو کشیدگی میں مزید اضافہ کرسکتے ہوں، اور ایک زیادہ جامع فریم ورک تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اس رابطے کے چینل کو ختم نہیں ہونے دینا چاہیے۔ چین کو افغانستان میں ای ٹی آئی ایم کے حوالے سے خدشات کے باعث براہِ راست سکیورٹی مفاد حاصل ہے، جبکہ پاکستان کو ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند تنظیموں کا سامنا ہے۔ افغانستان خود آئی ایس آئی ایل-کے کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرے سے دوچار ہے۔ یہ باہم جڑے ہوئے سکیورٹی خدشات علاقائی تعاون کی بنیاد فراہم کرتے ہیں، اگرچہ سیاسی اختلافات بدستور نمایاں ہیں۔

ایک وسیع تر علاقائی نقطۂ نظر میں ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے، جنہیں افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی، انتہا پسندی اور عدم استحکام کے حوالے سے اپنے خدشات لاحق ہیں۔ اس طرح کی شمولیت افغان طالبان کے لیے اس بات کے مضبوط تر محرکات پیدا کرسکتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، سہولت کاری یا آغاز کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔

لہٰذا اقوام متحدہ کی رپورٹ کو صرف ایک انتباہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک موقع کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے۔ اسلام آباد کو کابل کے لیے سفارتی دروازہ کھلا رکھنا چاہیے، تاہم یہ واضح کردینا چاہیے کہ بامعنی روابط کا انحصار ٹی ٹی پی کے خلاف قابلِ پیمائش اقدامات پر ہوگا۔

مقصد نہ تو محض محاذ آرائی ہونا چاہیے اور نہ ہی بغیر شرائط کے مذاکرات، بلکہ دباؤ اور روابط پر مبنی ایک متوازن حکمت عملی ہونی چاہیے، جس کا مقصد افغانستان کو خطے کے لیے بدامنی اور عدم تحفظ کا ذریعہ بننے سے روکنا ہو۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026