✕
دنیا

نیپال، چین میں تباہ کن سیلاب: تقریباً 3 ہزار لاپتا افراد کی ملبے اور کیچڑ میں تلاش جاری

  • ماہرین کے مطابق تبت، نیپال سرحد پر تباہی گلیشیئر کے انہدام سے آئی، جس کے نتیجے میں زیریں علاقوں میں ملبے کا سیلاب آگیا
شائع اپ ڈیٹ

نیپال اور چین میں امدادی کارکن ہفتے کو ہزاروں لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف رہے۔ ہلاکت خیز سیلاب کے کئی روز بعد بھی تلاش کا عمل جاری ہے۔ ہمالیائی خطے میں سونامی جیسی پانی اور ملبے کی ایک بلند و بالا لہر نے پورے کے پورے دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

دونوں ممالک کے اعداد و شمار کے مطابق لاپتہ افراد کی تعداد تقریباً 3 ہزار ہے، جبکہ 633 لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض ہلاک شدگان کی لاشیں سیلابی ریلے میں بہہ کر بھارت تک پہنچنے کا بھی امکان ہے۔

نیپال اسکاؤٹ ڈیزاسٹر رسپانس ٹیم کے امدادی کارکن کاوان کوئرالا نے بتایا کہ انہیں ایسے گاڑھے کیچڑ میں تلاش کا کام کرنا پڑ رہا ہے جو قدموں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔

انہوں نے 18 گھنٹے کی مسلسل ڈیوٹی کے بعد تھکن سے چور حالت میں اے ایف پی کو بتایا، ”لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے اہلِ خانہ کی لاش مل جائے، چاہے وہ زندہ ہوں یا مردہ، لیکن ہم انہیں تلاش نہیں کر پا رہے۔۔۔ آپ خود یہ کیچڑ دیکھ سکتے ہیں۔“

انہوں نے کہا، ”یہ میرے لیے بھی انتہائی صدمے کا باعث ہے۔ میں پہلی مرتبہ اس طرح کی تباہی دیکھ رہا ہوں۔ ہر طرف کیچڑ ہی کیچڑ ہے۔ نیپال میں ہم پہلے بھی سیلاب دیکھ چکے ہیں، لیکن ایسا کبھی نہیں دیکھا۔“

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق بدھ کو تبت، نیپال سرحد پر آنے والی تباہی گلیشیئر کے انہدام کے باعث ہوئی، جس کے نتیجے میں زیریں علاقوں کی جانب ملبے کا ایک شدید ریلہ بہہ نکلا۔

گلیشیئر کے انہدام کی اصل وجہ تاحال واضح نہیں، تاہم دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے اس نوعیت کی تباہ کاریوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

’کچھ بھی باقی نہیں بچا‘

زندہ بچ جانے والے افراد اپنے لاپتہ عزیزوں کے انجام کے بارے میں جاننے کے لیے اذیت ناک انتظار کر رہے ہیں، جبکہ انہیں اپنی زندگی دوبارہ صفر سے شروع کرنے کے مشکل مرحلے کا بھی سامنا ہے۔

نیپال کے ضلع نواکوٹ میں بدھی رام ڈانگول نے اے ایف پی کو بتایا، ”دریا کے قریب آباد تمام بستیاں بہہ گئیں۔ کچھ بھی باقی نہیں بچا۔“

اسی ضلع کے اہم امدادی مرکز بدور کے فوجی اڈے پر رشتہ دار دیوار پر چسپاں کیے گئے ان افراد کی فہرستوں کے گرد جمع تھے جنہیں امدادی کارروائیوں کے دوران بچا لیا گیا تھا۔

کالکا شاردا نے مایوسی کے عالم میں فہرست دیکھتے ہوئے کہا، ”میں اپنے بیٹے کو تلاش کرنے یہاں آیا ہوں۔“ انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا پن بجلی گھر میں مزدور تھا، ”لیکن مجھے اس فہرست میں اس کا نام نہیں مل رہا اور حکام بھی کچھ نہیں بتا رہے۔“

توانائی کے بڑے منصوبوں کے لیے معروف اس علاقے میں نیپال کی ڈیزاسٹر اتھارٹی نے 933 پن بجلی منصوبوں کے کارکنوں کو لاپتہ افراد میں شامل کیا ہے۔ ان کے علاوہ 517 غیر ملکی شہری بھی لاپتہ ہیں، جن میں سیاح اور تبت کے مقدس پہاڑ کیلاش کی یاترا کرنے والے ہندو یاتری بھی شامل ہیں۔

’صدمہ ناقابلِ بیان‘

ریڈ کراس کے مطابق بدھ کو آنے والی تباہی نے ”ناقابلِ بیان صدمہ“ پہنچایا ہے اور ممکن ہے کہ 93 ہزار تک افراد اس سے متاثر ہوئے ہوں، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر کھنال نے ہفتے کو کہا کہ تباہ کن سیلاب کے بعد ملک کی تعمیرِ نو پر اربوں ڈالر خرچ ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ”اس وقت ہماری اولین ترجیح زیادہ سے زیادہ جانیں بچانا اور امدادی کارروائیاں کرنا ہے۔“ انہوں نے خصوصی امداد کی اپیل کرتے ہوئے بھاری وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھنے والے ڈرونز اور پھنسے ہوئے افراد کی تلاش میں مدد دینے والی ٹیکنالوجی فراہم کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے لاشوں کی شناخت کے لیے فرانزک ٹیسٹنگ کٹس اور انہیں محفوظ رکھنے کے لیے فریزر یونٹس کی فراہمی کی بھی اپیل کی، کیونکہ ان کے بقول پانی میں رہنے والی لاشیں نسبتاً تیزی سے گل سڑ سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا، ”ہمارے پاس ان لاشوں کو طویل عرصے تک منجمد حالت میں رکھنے کے لیے طبی سہولیات اور گنجائش بہت محدود ہے۔“

وسیع پیمانے پر تباہی کے باعث متاثرہ آبادیوں کو خوراک اور پانی کی قلت کا سامنا ہے، جبکہ ہنگامی امدادی ٹیمیں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔

مزید سیلاب آنے کے خدشات نے لاپتہ افراد کی تلاش کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

برف اور کیچڑ کے بڑے پیمانے پر بہاؤ سے وسیع رقبے پر جھیلیں بن گئی ہیں، جن میں سے ایک سے مزید سیلاب آنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

تبت میں، جہاں چینی حکام ہی معلومات فراہم کرنے کا واحد ذریعہ ہیں، بیجنگ نے شدید متاثرہ علاقے گییرونگ میں مزید سیلاب کے خدشے کے باعث امدادی کارروائی عارضی طور پر روک دی تھی۔

نیپال کی جانب فوجی اہلکار ہفتے کو ان سرنگوں تک پہنچنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کھدائی کر رہے تھے جہاں تقریباً 100 افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ ان میں تریشولی تھری اے اور تھری بی پن بجلی منصوبوں کی سرنگیں بھی شامل ہیں۔

وزیراعظم کے دفتر نے بتایا کہ امدادی ٹیموں نے داخلی راستہ کھولنے کے لیے ”کیچڑ اور ملبہ ہٹانے“ کا کام شروع کردیا ہے، جبکہ بھارت کی ایک خصوصی سرنگ ریسکیو یونٹ بھی مدد کے لیے پہنچ گئی ہے۔

تریشولی وادی میں دیگر ڈیم منصوبوں سے بچائے گئے کارکنوں نے ایسی تباہی کی داستانیں بیان کیں جو انتہائی خوفناک رفتار سے رونما ہوئی۔

یاتریوں کا راستہ

نیپال نے ہفتے کو سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 626 بتائی۔

ملک میں 2,426 افراد سے رابطہ نہیں ہو پا رہا، جن میں سیکڑوں غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔

سرحد پار تبت میں، جہاں غیر ملکی صحافیوں کی رسائی انتہائی محدود ہے، سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے ہفتے کو بتایا کہ 7 افراد ہلاک جبکہ 554 لاپتہ ہیں۔

حکام کے مطابق تبت میں پھنسے ہوئے 555 سیاحوں اور 499 چینی شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔

بھارت میں حکام نے بتایا کہ نیپال سے آنے والے دریاؤں سے 7 لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ سیلاب میں بہہ جانے والے افراد کی ہیں۔

سیلاب کو گزرے تین روز ہوچکے تھے اور ان افراد کے اہلِ خانہ میں امید دم توڑنے لگی تھی جو اب بھی اپنے پیاروں کی خبر کے لیے بے چینی سے منتظر تھے۔

بدور میں کالکا شاردا اپنے 18 سالہ بیٹے ونود شاردا کو تلاش کر رہے تھے، جو پن بجلی گھر میں مزدور تھا۔ وہ بچائے گئے افراد کی فہرستوں میں اپنے بیٹے کا نام تلاش کرتے رہے۔

انہوں نے کہا، ”مجھے نہیں لگتا کہ اب کوئی امید باقی ہے۔“

انہوں نے مزید کہا، ”کیونکہ اگر وہ زندہ ہوتا تو کسی نہ کسی طرح ہم سے رابطہ کرنے کی کوشش ضرور کرتا۔“