صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر کے پانچویں حصے کا کنٹرول سنبھالنے کیلئے امریکا کی جانب سے ایک غیر معمولی اقدام کا اعلان کیا جس کا مقصد امریکی کمپنیوں کے ذریعے اوپیک کے رکن ملک کی تباہ حال توانائی کی صنعت کو بحال کرنا اور خام تیل کے ایک نئے ذریعے کی فراہمی کے ذریعے امریکا میں ایندھن کی قیمتیں کم کرنے میں مدد دینا ہے۔
ٹرمپ نے معاہدے کی بہت کم تفصیلات بتاتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ امریکا نے نجی کاروباری اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے وینزویلا کے 65 ارب بیرل سے زائد ثابت شدہ تیل کے ذخائر کا اکثریتی کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔
جنوبی امریکی ملک کے رہنما نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے معیشت اور حکومتی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔
نیا معاہدہ وینزویلا کی تیل کی صنعت میں امریکا کے کردار میں ڈرامائی توسیع کی نمائندگی کرے گا کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ ملک کی تیل کی پیداوار بحال کرنے اور امریکی ریفائنریوں کے لیے مزید خام تیل کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر موجود ہیں، تاہم برسوں کی کم سرمایہ کاری، بدانتظامی اور پابندیوں کے باعث ملک کی یومیہ پیداوار تقریباً 12 لاکھ 50 ہزار بیرل ہے جو اس کی پیداواری صلاحیت سے کہیں کم ہے۔
روبیو نے معاہدے کو فریقین کے لیے یکساں طور پر سودمند قرار دے دیا
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ میری ہدایت پر وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور وزیرِوار پیٹ ہیگسیتھ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈلسی روڈریگز کے ساتھ قریبی تعاون کرتے ہوئے اور نجی کاروبار کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے، امریکی ٹیکس دہندگان کو ایک پائی بھی خرچ کیے بغیر، وینزویلا میں 65 ارب سے زائد بیرل کے ثابت شدہ تیل کے ذخائر پر امریکہ کا اکثریتی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
یہ اعلان امریکا اور وینزویلا کے درمیان کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد سامنے آیا جن میں ایسے معاہدے پر بات چیت ہوئی جو امریکی کمپنیوں کو وینزویلا کے متعدد آئل فیلڈز تک طویل مدتی رسائی فراہم کرے گا اور وہاں سے حاصل ہونے والے خام تیل کی امریکا کو فراہمی یقینی بنائے گا۔
وینزویلا کے حکام آئندہ ہفتے متعدد کمپنیوں، بالخصوص امریکی اداروں، کو تیل کی تلاش اور پیداوار کے نئے حقوق دینے کے معاہدوں پر دستخط کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ لیز ماڈل پر غور کیا جا رہا تھا، جس کے تحت ممکنہ طور پر آئل فیلڈز امریکی تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں کو نیلام کیے جا سکتے ہیں، تاہم اس انتظام کو وینزویلا میں قانونی اور آئینی چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے جہاں ریاست تیل کی صنعت کی بنیادی سرگرمیوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے۔
روبیو نے معاہدے کو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے ایکس پر کہا کہ اس کے نتیجے میں امریکا کو مستحکم اور کم لاگت والے تیل کی فراہمی یقینی بنے گی اور پٹرول کی قیمتیں کم کرنے میں مدد ملے گی۔