✕
کاروبار اور معیشت

انڈونیشیا، پاکستان کے ساتھ صنعتی شراکت داری مضبوط کرنے کا خواہاں

  • دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 2025 میں تقریباً 4.26 ارب ڈالر تک پہنچ گئی
شائع اپ ڈیٹ

انڈونیشین قونصل جنرل مذکّر نے کہا ہے کہ انڈونیشیا اور پاکستان کو محض باہمی تجارت بڑھانے تک محدود رہنے کے بجائے اپنی صنعتوں کو مزید قریب سے مربوط کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ یہ بات انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) میں اجلاس کے دوران کہی۔

انڈونیشین قونصل جنرل نے کاٹی کے صدر محمد اکرام راجپوت، ڈپٹی پیٹرن ان چیف محمد زبیر چھایا، سینئر نائب صدر زاہد حمید، نائب صدر سید محمد طلحہ علی اور کراچی کی صنعتی برادری کے ممتاز ارکان سے ملاقات کی۔

کاٹی جو 5 ہزار سے زائد صنعتی، تجارتی اور خدماتی اداروں کی نمائندگی کرتی ہے، کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں اس امر پر توجہ مرکوز کی گئی کہ پاکستان کے مینوفیکچررز کے لیے انڈونیشیا کو ایک مضبوط ذرائعِ خریداری اور سپلائی چین شراکت دار کے طور پر کیسے فروغ دیا جاسکتا ہے جبکہ انڈونیشیا کی مارکیٹ میں مسابقتی پاکستانی مصنوعات کے لیے مزید مواقع بھی پیدا کیے جاسکیں۔

انڈونیشیا کے قونصل جنرل مذکّر نے کہا کہ انڈونیشیا اور پاکستان کو صرف باہمی تجارت بڑھانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ دونوں ممالک کی صنعتوں کے درمیان روابط بھی مزید مضبوط ہونے چاہئیں۔

دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 2025 میں تقریباً 4.26 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، تاہم دونوں جانب نے اتفاق کیا کہ مستقبل میں تعاون کو مزید متنوع اور پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جانا چاہیے۔