✕
رائے

ژو رونگ جی: چین میں مشکل ترین مالیاتی اصلاحات کے معمار

  • ژو رونگ جی 1994 میں انقلابی مالیاتی حکمتِ عملی کے معمار تھے۔ اس سے قبل مقامی حکومتیں ٹیکس وصول کرتی تھیں اور اس کا معمولی سا حصہ مرکز کو منتقل کرتی تھیں، جس کے باعث مرکزی حکومت وسائل کی کمی کا شکار رہتی تھی
شائع اپ ڈیٹ

ممالک میں تیز رفتار معاشی ترقی کے دور میں مشترکہ ترقی کے نتیجے میں عوامی ضروریات بھی بدلتی اور ارتقا پذیر ہوتی ہیں۔ حکومتیں اور ادارے وسائل کو متحرک کرنے کے لیے مالیاتی اور مالی ڈھانچے تشکیل دیتے، ان پر عمل درآمد کرتے اور انہیں برقرار رکھتے ہیں۔ قرضوں کے انتظام اور ترقیاتی منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے فنڈز مختص کرنے کی غرض سے قوانین، قواعد اور طریقہ کار بھی وضع کیے جاتے ہیں۔

چین کے 1998 سے 2003 تک وزیرِاعظم رہنے والے ژو رونگ جی نے چین کی مشکل ترین مالیاتی اصلاحات متعارف کرائیں اور فرسودہ روایات اور سماجی مسائل کے خلاف بھرپور مہم چلائی۔ وہ 12 اگست کو 97 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ چین کی معیشت کو اصلاحات اور کھلے پن کی پالیسی کے تحت تبدیل کرنے کے دوران وہ ادارہ جاتی اصلاحات کی ایک مضبوط میراث چھوڑ گئے۔ انہوں نے ڈینگ شیاؤ پنگ اور صدر جیانگ زی من کے مشن کو مزید آگے بڑھایا۔ یہ تینوں رہنما اصلاحات کے حوالے سے اپنے سخت گیر مؤقف کے لیے معروف رہے ہیں۔ انہوں نے 1989 کے ہنگامہ خیز تیانان مین اسکوائر بحران کے بعد چین کو معاشی جدت، مالیاتی و مالیاتی نظم و نسق، عالمی معیشت میں انضمام اور ملک کے اندر سیاسی استحکام کے ایک اہم عشرے سے گزارا۔

1990 کی دہائی کے دوران مختلف شعبوں میں مارکیٹ پر مبنی اصلاحات متعارف کرائی گئیں، بالخصوص سرکاری مالیات اور ٹیکس نظام، بیرونی تجارت، مالیات و سرمایہ کاری، قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار، سرکاری ملکیت کے اداروں کی تنظیمِ نو اور سماجی تحفظ کے اقدامات کے شعبوں میں۔ 1991 میں سنگاپور کے طرز پر سرکاری فنڈز سے چلنے والی ہاؤسنگ اسکیم بھی شروع کی گئی۔ اسی دور میں ہانگ کانگ (1997) اور مکاؤ (1999) کی چین کو تاریخی حوالگی بھی عمل میں آئی۔

ژو رونگ جی 1994 میں انقلابی مالیاتی حکمتِ عملی کے معمار تھے۔ اس سے قبل مقامی حکومتیں ٹیکس وصول کرتی تھیں اور اس کا معمولی سا حصہ مرکز کو منتقل کرتی تھیں، جس کے باعث مرکزی حکومت وسائل کی کمی کا شکار رہتی تھی۔ ژو نے اس نظام میں بنیادی تبدیلیاں کرتے ہوئے ٹیکسوں کو مرکزی اور مقامی ٹیکسوں میں تقسیم کیا اور آمدنی میں شراکت کا ایک فارمولہ متعارف کرایا۔ کئی دہائیوں سے رائج مالیاتی معاہدوں کے نظام کو ختم کرنے کے بعد انہوں نے ٹیکس آمدنی کا بڑا حصہ مرکزی حکومت کو منتقل کرنے کا ایسا نظام وضع کیا جس سے مرکز کی مالیاتی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔ بہتر پالیسی سازی کے لیے انہوں نے چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس (سی پی پی سی سی) جیسے ریاستی اداروں میں تکنیکی و شعبہ جاتی ماہرین، نجی کاروباری شخصیات، پیشہ ور افراد اور تاجروں کی شمولیت بھی شروع کی۔سی پی پی سی سی ایک سیاسی مشاورتی ادارہ ہے۔

انہوں نے قومی اور صوبائی سطح پر خودمختار ٹیکس بیوروز قائم کیے۔ نئے بین الحکومتی مالیاتی ڈھانچے میں سیاسی اختیار مرکز کے پاس رکھا گیا، جبکہ صحت، بنیادی تعلیم اور مقامی انفرااسٹرکچر پر سرکاری اخراجات کو نمایاں طور پر صوبوں اور مقامی حکومتوں کو منتقل کیا گیا۔ ان شعبوں کے اخراجات باقاعدہ بجٹ کی تقریباً 50 فیصد آمدنی سے پورے کیے جاتے تھے، جبکہ جہاں بھی بجٹ خسارہ پیدا ہوتا، اسے بین الحکومتی مالیاتی منتقلی، عمومی مساواتی گرانٹس اور منصوبوں کی بنیاد پر خصوصی مقاصد کے لیے فراہم کیے جانے والے فنڈز کے ذریعے پورا کیا جاتا تھا۔ ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) مرکزی اور مقامی حکومتوں کے درمیان برابر تقسیم کیا گیا، جبکہ کارپوریٹ اور ذاتی آمدنی کے ٹیکس 60 /40 کے تناسب سے تقسیم کیے گئے۔

ان کی اصلاحات کی کامیابی کا سہرا ان کی واضح سوچ، نظاموں کے بارے میں گہری معلومات، بروقت اور فیصلہ کن اقدامات اور عالمی تناظر میں گہرے جڑ پکڑے معاشی مسائل کا سامنا کرنے کے عزم کو دیا جاتا ہے۔ ایک عملی اور حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر کے تحت انہوں نے چینی طرز پر اصلاحات کو پہلے آزمائشی بنیادوں پر نافذ کرنے پر زور دیا، جیسے گوانگ ڈونگ میں جی ایس ٹی اور شنگھائی میں سروسز ٹیکس اور اس کے بعد نچلی سطح سے اوپر کی جانب طریقۂ کار اپناتے ہوئے انہیں قومی سطح پر نافذ کیا۔ اس حکمتِ عملی کے تحت پہلے نسبتاً آسان مسائل حل کیے گئے اور پھر پیچیدہ معاملات کی طرف پیش رفت کی گئی۔ 8 فیصد سے زائد معاشی شرحِ نمو کو استحکام کے فروغ کے لیے استعمال کیا گیا، جبکہ معروف اصول ’’دنیا کی طرف دیکھتے ہوئے چین کی اپنی بنیادوں سے جڑے رہنا‘‘ کے تحت معاشی خلل سے گریز کیا گیا۔

نئے مالیاتی، مالیاتی انتظامی اور ادارہ جاتی ڈھانچوں میں عوامی بینک آف چائنا (مرکزی بینک) اور دیگر سرکاری بینکوں مثلاً چائنا ڈویلپمنٹ بینک، ایگریکلچر بینک اور ایگزم بینک آف چائنا کی جدید خطوط پر استعداد بڑھانا بھی شامل تھا۔ بیرونِ ملک مقیم ایسے چینی ماہرین، جو بین الاقوامی مالیاتی اور مالیاتی امور میں وسیع تجربہ رکھتے تھے، انہیں ملک کی خدمت کے لیے واپس آنے پر آمادہ کیا گیا۔ اس اقدام نے چین کے مالیاتی نظام اور سرکاری خزانے کے بعد کے فروغ پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری بھی حاصل ہوئی۔

جیانگ ژی من اور ژو رونگ جی کے دور کی اصلاحات نے چین کی ترقی کو نئی شکل دی اور مستقبل کی معاشی و ترقیاتی کوششوں کے لیے اہم معاشی اور ادارہ جاتی بنیادیں فراہم کیں۔ انہوں نے لینن پسند کمیونسٹ منصوبہ بند معیشت سے کھلی اور مارکیٹ پر مبنی معیشت کی جانب چین کی تاریخی منتقلی کے دوران درپیش شدید ساختی مشکلات کو ثابت قدمی سے برداشت کیا۔

ان تاریخی اصلاحات کے دوران چین نے عالمی تجربات سے سیکھا، مقامی زمینی حقائق کو مدنظر رکھا اور کسی بڑے معاشی یا سماجی انتشار کے بغیر عملی اور حقیقت پسندانہ انداز میں ترقی کا سفر آگے بڑھایا۔