ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز کے حوالے سے معاہدہ طے پا گیا، پاسدارانِ انقلاب
ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اپنے اپنے حصے کے حوالے سے معاہدہ کرلیا ہے، تاہم ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ اگر امریکا ان کی شرائط قبول نہیں کرتا تو اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔
ایران اور عمان گزشتہ کئی ہفتوں سے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے وقفے وقفے سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً ایک پانچویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل اسی آبی راستے سے ہوتی تھی۔
جنگ کے بعد زیادہ تر بحری جہازوں کی آمدورفت بند ہو گئی ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب تہران اور واشنگٹن نے آبنائے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے الگ الگ ناکہ بندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسلامی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے ترجمان حسین محبی نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان سے متعلق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک تقریباً ایک ماہ سے مذاکرات کر رہے ہیں اور ایسے نتائج پر پہنچے ہیں جو دونوں فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہیں۔
حسین محبی نے مزید کہا کہ مذاکرات میں آبنائے کے پانیوں میں دونوں ممالک کے حصے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں ایران اور عمان کے حصے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
آئی آر جی سی نے امریکا پر ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے معاہدے میں تاخیر ہوئی۔
حسین محبینے کہا اگر امریکا رکاوٹیں ڈالنا بند کرکے معاہدے کی طرف واپس آتا ہے تو ہم طے شدہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کھول سکتے ہیں۔ اگر امریکا ہماری شرائط قبول نہیں کرتا تو آبنائے ہرمز کسی صورت نہیں کھولا جائے گا۔