ایس ای سی پی کا اسٹارٹ اپس کے لیے فنڈنگ آسان بنانے کا نیا قانون لانے کی تجویز
- مضبوط صلاحیت کے باوجود پاکستان کے اسٹارٹ اپ، ٹیکنالوجی اور انوویشن کے شعبوں کو رسمی وینچر کیپیٹل تک محدود رسائی حاصل ہے، ایس ای سی پی
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے پیر کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، وینچر کیپیٹل (وی سی) بل کا مسودہ عوامی مشاورت کے لیے بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) کے ساتھ شیئر کردیا ہے۔
مجوزہ قانون کا مقصد رسک کیپیٹل تک رسائی میں اضافہ، ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، اسٹارٹ اپس کی ترقی میں معاونت، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور اقتصادی ترقی میں کردار ادا کرنا ہے۔
ایس ای سی پی نے کہا کہ یہ بل وفاقی حکومت کے ایک اقدام کے تحت تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے ایس ای سی پی کو وینچر کیپیٹل کے لیے ایک مخصوص اور خودمختار ریگولیٹری فریم ورک تیار کرنے اور اسٹارٹ اپس اور تیزی سے ترقی کرنے والے کاروباروں کے لیے فنڈنگ تک رسائی بہتر بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
ایس ای سی پی نے کہا کہ مضبوط صلاحیت کے باوجود پاکستان کے اسٹارٹ اپ، ٹیکنالوجی اور انوویشن کے شعبوں کو رسمی وینچر کیپیٹل تک محدود رسائی حاصل ہے، جبکہ سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کا بڑا حصہ آف شور یا ملکی ریگولیٹری فریم ورک سے باہر منظم کیا جاتا ہے۔
کمیشن نے مزید کہا کہ مجوزہ بل وینچر کیپیٹل فنڈز اور فنڈ مینیجرز کے لیے ایک سادہ اور شفاف فریم ورک کے ذریعے اس خلا کو دور کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اس کے تحت لائٹ ٹچ لائسنسنگ اور رجسٹریشن، آسان آپریشنل اسٹرکچرز اور واضح گورننس و رپورٹنگ کے معیارات فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ پاکستان میں وینچر کیپیٹل کی سرگرمیوں کو باضابطہ بنانے میں بھی سہولت فراہم کی جائے گی۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد صدیقی نے کہا کہ مجوزہ قانون نجی سرمایہ کو پاکستان کے ابھرتے ہوئے کاروباروں کی جانب منتقل کرنے میں مدد دے گا۔
ایس ای سی پی کے بیان میں ان کے حوالے سے کہا گیا کہ بل وینچر کیپیٹل کی ہائی رسک اور انوویشن پر مبنی نوعیت کو تسلیم کرتا ہے اور مؤثر گورننس اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے ریگولیٹری رکاوٹوں کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اگلے مرحلے کے طور پر ایس ای سی پی اور بی او آئی اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ عوامی مشاورت کریں گے، جن میں اسٹارٹ اپس، فنڈ مینیجرز، قانونی اور مالیاتی ماہرین، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور متعلقہ صنعتی ایسوسی ایشنز شامل ہیں۔
عوامی مشاورت کے بعد مسودہ قانون سازی کے عمل کے اگلے مرحلے میں پیش کیا جائے گا۔