✕

موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ اپ گریڈ کر کے بی تھری کر دی، آؤٹ لک مستحکم برقرار

  • ساختی طور پر کمزور بیرونی مالیاتی پوزیشن کے باعث پاکستان کی کریڈٹ پروفائل بدستور کمزور ہے
شائع اپ ڈیٹ

موڈیز ریٹنگز نے حکومتِ پاکستان کی مقامی اور غیر ملکی کرنسی میں جاری کنندہ اور سینئر غیر ضمانتی قرضوں کی ریٹنگ سی اے اے 1 سے بڑھا کر بی تھری کر دی۔

کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی نے کہا کہ ہم نے سینئر غیر ضمانتی ایم ٹی این پروگرام کی ریٹنگ بھی (پی )سی اے اے 1 سے بڑھا کر (پی ) بی تھری کر دی ہے۔ ساتھ ہی حکومتِ پاکستان کا آؤٹ لک مستحکم برقرار رکھا گیا ہے۔

گزشتہ سال اگست میں موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ سی اے اے ٹو سے بڑھا کرسی اے اے 1 کی تھی۔

موڈیز نے پیر کو کہا کہ ریٹنگ میں بہتری بی 3 اس توقع کی عکاسی کرتی ہے کہ گورننس میں بہتری حکومت کو ملک کی بیرونی مالیاتی پوزیشن میں حالیہ بہتری برقرار رکھنے اور مالیاتی اشاریوں کو مضبوط بنانے میں مدد دے گی۔

اس نے کہا کہ اگست 2025 میں ہماری گزشتہ ریٹنگ کارروائی کے بعد سے پاکستان کے بیرونی خطرات میں مزید کمی آئی ہے، جبکہ معاشی استحکام کے تسلسل کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

اسی دوران مالیاتی پوزیشن میں بہتری اور زری پالیسی میں نرمی کے باعث ملکی فنانسنگ کی لاگت میں کمی آئی ہے، جس سے پاکستان کے قرضوں کی ادائیگی کی استطاعت میں نمایاں بہتری ہوئی ہے۔

موڈیز نے کہا ہے کہ پاکستان کی مضبوط ہوتی ہوئی کریڈٹ پروفائل ماضی کے ادوار کے مقابلے میں بیرونی جھٹکوں بشمول جاری مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے مقابلے میں زیادہ مضبوطی کا مظاہرہ بھی کر رہی ہے۔

تاہم ایجنسی نے کہا کہ ان بہتریوں کے باوجود پاکستان کی کریڈٹ پروفائل بدستور کمزور ہے، جس کی وجوہات میں ساختی طور پر کمزور بیرونی مالیاتی پوزیشن، قرضوں کی ادائیگی کی کمزور استطاعت، اب بھی نسبتاً محدود ریونیو بیس اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور بلند پیداواری صلاحیت اور معاشی نمو کو فروغ دینے میں حائل رکاوٹیں شامل ہیں۔ یہ کریڈٹ پابندیاں بی 3 ریٹنگ میں پہلے ہی شامل ہیں۔

ایجنسی نے کہا کہ مستحکم آؤٹ لک پاکستان کے کریڈٹ بنیادی اشاریوں میں ممکنہ طور پر تیز رفتار بہتری اور مذکورہ کمزوریوں سے متعلق موجودہ خطرات کے درمیان توازن قائم کرتا ہے، جو ظاہر ہونے کی صورت میں غیر ملکی کرنسی میں فنانسنگ تک رسائی کو کمزور کر سکتے ہیں اور مالیاتی لچک کو مزید محدود کر سکتے ہیں۔

موڈیز نے کہا کہ سی اے اے 1 سے بی 3 کی ریٹنگ میں یہ بہتری پاکستان گلوبل سکوک پروگرام کمپنی لمیٹڈ کے لیے ضمانت شدہ غیر ملکی کرنسی میں سینئر غیر ضمانتی ریٹنگز پر بھی لاگو ہوتی ہے۔

اس نے کہا کہ ہماری رائے میں متعلقہ ادائیگی کی ذمہ داریاں حکومتِ پاکستان کی براہِ راست ذمہ داریاں ہیں۔ پاکستان گلوبل سکوک پروگرام کمپنی لمیٹڈ کا آؤٹ لک بھی مستحکم برقرار ہے۔

موڈیز نے پاکستان کی مقامی اور غیر ملکی کرنسی کی ملکی حد کی ریٹنگز بھی بالترتیب بی ٹو اور سی اے اے 1 سے بڑھا کربی 1 اوربی تھری کر دی ہیں۔

بی 3 ریٹنگ میں اضافے کی وجوہات

موڈیز نے نوٹ کیا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر جولائی 2025 کے اختتام پر تقریباً 14 ارب ڈالر کے مقابلے میں جولائی 2026 کے اختتام پر بڑھ کر تقریباً 17 ارب ڈالر ہو گئے، جو تقریباً تین ماہ کی درآمدات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔

موڈیز نے کہا کہ پاکستان کے بیرونی خطرات کے اشاریے (مختصر اور طویل مدتی مدت میں واجب الادا قرضوں اور زرمبادلہ کے ذخائر کے تناسب) کے ہمارے تخمینے کے مطابق 2026 میں یہ شرح بہتر ہو کر تقریباً 145 فیصد ہوگئی ہے، جبکہ 2025 میں یہ 230 فیصد تھی۔

اس نے کہا کہ آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری اصلاحاتی پروگرام پر مسلسل عمل درآمد نے پالیسی کی ساکھ مضبوط کی، معاشی استحکام برقرار رکھا اور سرکاری قرض دہندگان سے فنانسنگ کی بنیاد فراہم کی۔

کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ پاکستان نے مارکیٹ سے فنانسنگ تک بتدریج رسائی دوبارہ حاصل کرلی ہے، جس میں اپریل 2026 میں جاری کیا گیا 3 سالہ 75 کروڑ ڈالر کا یورو بانڈ اور مئی 2026 میں جاری کیا گیا 1.75 ارب چینی یوآن (تقریباً 25 کروڑ ڈالر) مالیت کا پہلا پانڈا بانڈ شامل ہیں۔

اس نے کہا کہ مجموعی طور پر ان پیش رفتوں نے پاکستان کو مالی سال 2026 میں اپنی تمام بیرونی ذمہ داریاں پوری کرنے کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر جمع کرنے کے قابل بنایا ہے۔

موڈیز کو توقع ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مالی سال 2027 (جولائی 2026 تا جون 2027) کے اختتام پر بڑھ کر تقریباً 19 سے 20 ارب ڈالر اور مالی سال 2028 کے اختتام پر 20 سے 21 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔

اس نے کہا کہ ان تخمینوں میں یہ مفروضہ شامل ہے کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام پر پیش رفت برقرار رکھے گی، جس کے نتیجے میں سرکاری شراکت داروں سے بروقت رقوم کی فراہمی اور مارکیٹ سے فنانسنگ تک بتدریج رسائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔

بیرونی مالیاتی صورتحال شدید خطرات سے دوچار

موڈیز نے کہا کہ پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن بدستور بیرونی جھٹکوں کے لیے کمزور ہے، بالخصوص اس لیے کہ بیرونی فنانسنگ کی ضروریات اب بھی کافی زیادہ ہیں۔

تاہم اس نے کہا کہ متوقع طور پر زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ حالیہ برسوں کے مقابلے میں مارکیٹ یا اجناس کی قیمتوں میں منفی تبدیلیوں، بشمول جاری مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث بلند تیل کی قیمتوں کے خلاف زیادہ بڑا حفاظتی بفر فراہم کرتا ہے۔

اس نے کہا کہ زیادہ زرمبادلہ کے ذخائر، مستحکم شرحِ تبادلہ اور کم افراطِ زر مجموعی طور پر پاکستان کی ایسے بیرونی جھٹکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت کو گزشتہ ادوار کے مقابلے میں بہتر بناتے ہیں۔

قرض ادا کرنے کی صلاحیت میں بہتری برقرار رہنے کی توقع

موڈیز کا کہنا ہے کہ انتہائی کمزور سطح پر رہنے کے بعد پاکستان کے لیے اپنے قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

موڈیز کے مطابق مالی سال 2025 کے 49 فیصد کے مقابلے میں مالی سال 2026 میں سود کی ادائیگیوں پر سرکاری آمدن کا تقریباً 35 فیصد خرچ ہوا، جس میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس بہتری کی بنیادی وجہ افراطِ زر (مہنگائی) میں ریکارڈ کمی کے بعد مقامی شرحِ سود میں ہونے والی واضح کمی ہے۔

ریٹنگ ایجنسی نے نوٹ کیا کہ مہنگائی میں پہلے سے آنے والی کمی کے باعث مرکزی بینک کو پالیسی ریٹ میں نمایاں کٹوتی کا موقع ملا۔

ہمیں توقع ہے کہ پائیدار میکرو اکنامک استحکام کے بدولت پاکستان کی قرض ادا کرنے کی صلاحیت میں حالیہ بہتری برقرار رہے گی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ہمارا تخمینہ ہے کہ اگلے ایک سے دو سال کے دوران پاکستان کی قرض ادا کرنے کی صلاحیت تقریباً 35 فیصد پر مجموعی طور پر مستحکم رہے گی، جو اگرچہ ابھی بھی ایک کمزور سطح ہے لیکن پہلے کے مقابلے میں زیادہ قابلِ سنبھال ہے۔ اس کے بعد جیسے جیسے مالیاتی استحکام کے ذریعے حکومت کے قرضوں کے بوجھ اور سود کے اخراجات میں کمی آئے گی، قرض ادا کرنے کی صلاحیت میں تدریجی بہتری کی توقع ہے۔

موڈیز نے نشاندہی کی کہ اگرچہ مہنگائی اب بھی شرحِ تبادلہ کے اتر چڑھاؤ اور بیرونی جھٹکوں کے ساتھ حساس ہے، تاہم بہتر ہوتے بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر، زیادہ مستحکم میکرو اکنامک ماحول اور مالیاتی استحکام کے لیے حکام کا عزم، مہنگائی کے دباؤ کو قابو میں رکھنے اور قرض کی ادائیگی سے حاصل ہونے والے فوائد کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

موڈیز نے کہا کہ اگرچہ عالمی جغرافیائی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی بلند قیمتیں مہنگائی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں، تاہم ہمیں توقع ہے کہ پاکستان کا مضبوط پالیسی فریم ورک اور بہتر معاشی استحکام ان کے اثرات کو زائل کرنے میں مدد دے گا۔