اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ ، 100 انڈیکس 200 پوائنٹس گرگیا
- بینچ مارک انڈیکس 176,966.68 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کو کاروباری سیشن اتار چڑھاؤ کا شکار رہا، جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے دونوں سمتوں میں اتار چڑھاؤ کے بعد تقریباً 200 پوائنٹس کی کمی پر کاروبار کا اختتام کیا۔
بینچ مارک انڈیکس کاروباری سیشن کے دوران اتار چڑھاؤ کا شکار رہا اور ابتدا میں 178,122.87 پوائنٹس کی انٹرا ڈے بلند ترین سطح تک پہنچا، تاہم بعد ازاں فروخت کے دباؤ میں آ گیا۔
انڈیکس 178,000 پوائنٹس کی سطح سے اوپر اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں ناکام رہا اور بتدریج کمزور ہوتا گیا، جبکہ وقفے وقفے سے ہونے والی بحالی کی کوششیں مجموعی رجحان کو تبدیل نہ کر سکیں۔
دوپہر کے اوقات میں فروخت کا دباؤ مزید بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں انڈیکس 176,735.57 پوائنٹس کی انٹرا ڈے کم ترین سطح تک گر گیا۔ اس کے بعد انڈیکس میں معمولی بحالی ہوئی، تاہم یہ منفی زون میں ہی رہا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 199.84 پوائنٹس یا 0.11 فیصد کمی سے 176,966.68 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا کہ مقامی اسٹاک مارکیٹ کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور مضبوط خریداری کے رجحان کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح پر 956 پوائنٹس تک بڑھ گیا۔ تاہم یہ رفتار برقرار نہ رہ سکی کیونکہ کاروباری سیشن کے دوسرے حصے میں منافع کے حصول کے لیے فروخت شروع ہوگئی، جس کے نتیجے میں انڈیکس انٹرا ڈے کی کم ترین سطح پر 430 پوائنٹس تک گر گیا۔
رپورٹ کے مطابق مثبت جانب او جی ڈی سی، پی پی ایل، ایم ایل سی ایف، ڈی جی کے سی اور ایف سی سی ایل نمایاں اضافہ کرنے والے حصص میں شامل رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 391 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ اس کے برعکس ای این جی آر او ایچ، ایم ای بی ایل، ایس آر وی آئی اور ایس وائی ایس نمایاں کمی کا شکار حصص رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس کو 388 پوائنٹس نیچے کھینچا۔
گزشتہ ہفتے سیاسی و جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافہ، آبنائے ہرمز کی صورتحال سے متعلق غیریقینی صورتحال اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے نے پی ایس ایکس میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔
ہفتہ وار رپورٹ کے طابق 100 انڈیکس نے ہفتے کا آغاز 180,104.61 پوائنٹس پر کیا اور 177,166.52 پوائنٹس پر بند ہوا، یوں ہفتہ وار بنیاد پر انڈیکس میں 2,938.09 پوائنٹس یا 1.6 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
عالمی سطح پر پیر کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان رہا جبکہ تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کار ایران پر امریکا کی جانب سے عائد کی جانے والی ممکنہ پابندیوں کی تفصیلات کے منتظر تھے جو بعد ازاں جاری ہونے کی توقع تھی۔ دوسری جانب کینیڈین ڈالر کی قدر میں بھی کمی ہوئی جب کہ اس کے جنوبی ہمسایہ ملک امریکا کے ساتھ تجارتی جنگ کا خدشہ بڑھ گیا۔
پورا ٹیکنالوجی شعبہ بدھ کو این ویڈیا کے مالی نتائج کا بے چینی سے منتظر ہے جبکہ سرمایہ کار اس بات سے آگاہ ہیں کہ چِپ ساز کمپنی کے لیے غیرمعمولی بلند توقعات پر پورا اترنا کتنا مشکل ہوگا۔
تجزیہ کاروں کو عموماً توقع ہے کہ سہ ماہی آمدنی تقریباً دگنی ہوکر 92 ارب ڈالر کے قریب پہنچ جائے گی جب کہ پورے سال کی آمدنی سے متعلق رہنمائی 103 ارب ڈالر سے 105 ارب ڈالر کی حدود میں رہنے کا امکان ہے۔
مارکیٹ میں اس وقت تقریباً 40 فیصد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فیڈرل ریزرو 16 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں شرح سود میں اضافہ کرے گا جبکہ دسمبر تک شرح سود میں تبدیلی کی توقع مکمل طور پر مارکیٹ میں شامل ہوچکی ہے۔
یہ امکانات اس ہفتے جاری ہونے والے امریکی افراطِ زر کے اعدادوشمار کے مطابق تبدیل ہوسکتے ہیں جب کہ بنیادی افراطِ زر کی شرح جولائی میں 3.3 فیصد پر برقرار رہنے کی توقع ہے۔
ابتدائی کاروبار میں ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں نسبتاً خاموشی رہی۔ گزشتہ ہفتے تقریباً 4 فیصد کمی کے بعد نکی 225 انڈیکس معمولی اتار چڑھاؤ کا شکار رہا، جنوبی کوریا کے حصص میں 0.8 فیصد اور تائیوان کی مارکیٹ میں 0.5 فیصد کمی ہوئی۔
ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص پر مشتمل وسیع ترین انڈیکس 0.2 فیصد کم ہوگیا۔
دریں اثنا پاکستانی روپے نے پیر کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی اضافے کا سلسلہ جاری رکھا۔ مقامی کرنسی 0.01 روپے کے اضافے سے 277.55 روپے پر بند ہوئی۔
آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 68 کروڑ 91 لاکھ 70 ہزار حصص کے مقابلے میں بڑھ کر 93 کروڑ 35 لاکھ 20 ہزار حصص ہوگیا۔
حصص کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 35.66 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 44.10 ارب روپے ہوگئی۔سینرجیکو پی کے 26 کروڑ 64 لاکھ 80 ہزار حصص کے کاروبار کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہی۔ اس کے بعد تصدیق انفارمیشن کے 14 کروڑ 85 لاکھ 60 ہزار حصص اور پاک ریفائنری کے 5 کروڑ 28 لاکھ 90 ہزار حصص کا کاروبار ہوا۔
پیر کو مجموعی طور پر 498 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں سے 222 کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 241 میں کمی جبکہ 35 کے حصص کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔