بھارت کے ساحل کے قریب کارگو جہاز ڈوب گیا، لاپتا 22 افراد کی تلاش جاری
- حکام کے مطابق جہاز پر 24 افراد سوار تھے، جن میں سے 2 چینی شہریوں کو بچا لیا گیا ہے
بھارت کی کوسٹ گارڈ اور بحریہ نے اتوار کو ملک کے مشرقی ساحل کے قریب سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رکھا، جہاں پاناما کے پرچم بردار کارگو جہاز اوشن وونر کے ڈوبنے کے بعد عملے کے 22 ارکان لاپتا ہیں۔ حکام کے مطابق جہاز پر 24 افراد سوار تھے، جن میں سے 2 چینی شہریوں کو بچا لیا گیا ہے۔
بھارتی میری ٹائم انتظامیہ کے ڈائریکٹر جنرل شیام جگن ناتھن نے رائٹرز کو بتایا کہ بچائے گئے دونوں چینی ملاحوں کے مطابق جہاز جمعہ کو ایک جانب جھکنے لگا اور صرف 8 منٹ میں ڈوب گیا، جس کے باعث عملے کو جہاز چھوڑنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ عموماً 12 گھنٹے گزرنے کے بعد زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے امکانات تیزی سے کم ہوجاتے ہیں، تاہم امدادی ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بھارتی کوسٹ گارڈ کے مطابق لاپتا 22 افراد میں 18 چینی، 3 میانمار اور ایک بنگلہ دیشی شہری شامل ہیں۔ بھارتی بحریہ نے کہا ہے کہ وہ باقی عملے کی تلاش کے لیے کوسٹ گارڈ کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔
کوسٹ گارڈ کے ترجمان کے مطابق سری وجے پورم، جسے پہلے پورٹ بلیئر کہا جاتا تھا، سے 2 بحری جہاز سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے لیے روانہ کیے گئے ہیں۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق اوشن وونر بھارت کی مشرقی بندرگاہ پارادیپ سے جمعہ کو چین کے لیے لوہے کی کھیپ لے کر روانہ ہوا تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق جہاز بندرگاہ سے تقریباً 240 ناٹیکل میل دور سمندر میں ڈوبا۔
جہاز کے ڈوبنے کی فوری طور پر کوئی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔