اقتصادی تنصیبات پر حملوں سے یوکرین نے ’پنڈورا باکس‘ کھول دیا، پیوٹن
- یوکرین نے روسی اقتصادی تنصیبات، تیل ریفائنریوں اور آن لائن ریٹیلرز کے گوداموں پر ڈرون حملے تیز کردیے
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ہفتے کو جاری ہونے والے اپنے بیان میں کہا ہے کہ روسی اقتصادی تنصیبات پر حملوں کے ذریعے کیف نے ’’پنڈورا باکس‘‘ کھول دیا ہے اور روس یوکرین کے ’’حساس ترین اقتصادی شعبوں‘‘ کو نشانہ بنا کر جوابی کارروائی کرے گا۔
یوکرین نے رواں موسمِ گرما میں روسی اقتصادی ڈھانچے کے خلاف ڈرون حملوں کی مہم تیز کردی ہے، جس میں تیل ریفائنریوں اور آن لائن ریٹیلرز کے گوداموں سمیت ان بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جنہیں کیف روس کی جنگی کوششوں کے لیے اہم قرار دیتا ہے۔
روس نے بھی جوابی طور پر یوکرین کے اقتصادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کیے ہیں، جن میں بحیرہ اسود کے راستے یوکرینی اناج کی برآمدات بھی شامل ہیں۔
پیوٹن نے روسی سرکاری ٹیلی وژن کے ایک صحافی سے گفتگو میں کہا، ’’کیف حکومت نے ہماری معیشت کو نقصان پہنچانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے کیا کیا؟ اس نے خود ہی پنڈورا باکس کھول دیا۔ تو اب اپنے حساس ترین اقتصادی شعبوں کو نشانہ بنانے والے جواب کے لیے تیار رہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یوکرین کی زرعی برآمدات کو متاثر کرنے والے روسی حملوں کے باوجود عالمی سطح پر خوراک کی قلت پیدا نہیں ہوگی، کیونکہ روس یوکرینی برآمدات کی جگہ اپنی برآمدات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، حالانکہ کیف نے روسی اناج کی برآمدی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
پیوٹن نے کہا، ’’ہمیں اپنی اشیا کی ترسیل کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ضرور ہے، لیکن ہم ان مسائل کو حل کرلیں گے۔ لہٰذا عالمی منڈی میں کوئی قلت پیدا نہیں ہوگی۔‘‘
روس اور یوکرین اس سے قبل ترکی کی ثالثی میں ہونے والے ایک معاہدے کی پابندی کرتے رہے تھے، جس کے تحت بحیرہ اسود سے اناج کی برآمدات کے تحفظ کی ضمانت دی گئی تھی۔ تاہم روس 2023 میں اس معاہدے سے الگ ہوگیا تھا۔
روسی صدر نے ایک بار پھر کہا کہ ماسکو امن مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم یہ مذاکرات ’’میدانِ جنگ کی حقیقی صورتحال‘‘ کی بنیاد پر ہونے چاہئیں، نہ کہ ان کے بقول یوکرین کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے پیش کی جانے والی ’’غیر معمولی‘‘ تجاویز کی بنیاد پر۔